آرمی چیف کے بیچ میٹ اعظم سلمان نے ریٹائرمنٹ کیوں لی؟

رواں برس اپریل میں بطور چیف سیکرٹری پنجاب عہدے سے فارغ کیے جانے والے میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی بطور وفاقی سیکریٹری قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کو وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات میں دراڑ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اعظم سلیمان اور آرمی چیف بیچ میٹ ہیں اورگزشتہ برس نومبر میں آرمی چیف کی سفارش پر ہی کپتان نے اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب لگایا تھا تاہم کپتان کا الزام ہے کہ وہ بطور چیف سیکرٹری عثمان بزدار کو باس ماننے کی بجائے سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ وفاداری نبھاتے رہے۔
جنرل قمر باجوہ کے بیچ میٹ اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اختلافات کے بعد پری میچورریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا جس کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اعظم سلیمان کی وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ بھی نہیں بن پائی تھی اور وزیراعظم نے انہیں پانچ ماہ بعد ہٹا کر دوبارہ سے وفاقی سیکرٹری داخلہ بنادیا تھا۔ عام تاثر یہی ہے کہ کپتان نے عثمان بزدار کی شکایت اور تحفظات کے بعد 24 اپریل 2020 کو اعظم سلیمان کو ہٹایا تھا تاہم عمران خان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان سابق وزیر اعلی پنجاب اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے قریبی آدمی ہیں اور سویلین ایجنسیوں کے پاس مضبوط شواہد ہیں کہ وہ بطور چیف سیکرٹری پنجاب اور بطور وفاقی سیکرٹری داخلہ مسلسل شہباز شریف سے رابطے میں تھے۔ اعظم سلمان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سابق وزیراعلی اگر کسی بیوروکریٹ کو فون کرے تو اس کا فون سننا کوئی جرم نہیں۔
لیکن سیاسی تجزیہ کار میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کے ریٹائرمنٹ لینے کے فیصلے کو وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں کیونکہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ نومبر 2019 میں جنرل باجوہ نے پنجاب میں گڈ گورننس کے فروغ اور عثمان بزدار کی حکومت کو کسی نہ کسی طرح دھکا لگانے کے لئے یوسف نسیم کھوکھر کی جگہ اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب لگانے کی سفارش کی تھی کیونکہ دونوں کاکول اکیڈمی میں بیچ میٹ تھے اور بعد ازاں فوج کے کوٹے سے اعظم سلیمان سول سروس کا حصہ بن گئے تھے۔ اعظم سلیمان نے پنجاب تعیناتی کے دوران تمام انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے اور یہ تصورراسخ ہوچکا تھا کہ اعظم سلیمان ہی اصل سی ایم ہیں جبکہ عثمان بزدار مکمل طور پر بے اختیارہیں۔ یہی نہیں بلکہ اعظم سلیمان نے مسلم لیگ ق کو بھی پنجاب کی سیاست میں شریک اقتدار کرلیا تھا جس کے بعد بزدار کے مقابلے میں چوہدری پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ زیادہ بااثر ہوگئے تھے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی وفاداری پر شک کرنے کی وجہ سے اعظم نے بطور وفاقی سیکرٹری اپنا کریئر ختم کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اعظم سلیمان کے اس فیصلے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ انتہائی ناخوش ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے پنجاب حکومت کے معاملات بہتر بنانے کے لئے اپنے بیچ میٹ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو بڑے مان کے ساتھ پنجاب میں چیف سیکرٹری لگوایا تھا لیکن کپتان نے ان کی وفاداری پر شک کیا اور انہیں عہدے سے فارغ کر دیا یہی نہیں بلکہ کپتان بطور وفاقی سیکریٹری داخلہ بھی پاکستان ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے سول سروس چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعظم سلیمان کے اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ کپتان اور آرمی چیف میں سب اچھا نہیں ہے یقینا جنرل باجوہ کو اعظم سلیمان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر افسوس ہے تاہم اس کا ذمہ دار اعظم سلیمان نہیں بلکہ خود کپتان ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم سلمان نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خوشی سے کیا اور ان کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو ریٹائرمنٹ کے فوری بعد پنجاب کا صوبائی محتسب مقرر کر دیا جائے گا۔
