اسلام آباد: بھارتی ہائی کمیشن کے 50 فیصد عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت

پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کرلیا اور اس حوالے سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کردیا گیا ہے۔بھارتی ناظم الامور سے 7 روز میں عملے میں 50 فیصد کمی کے فیصلے پر عمل کرنے کا کہہ دیاگیا ہے:
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور گوارؤ آہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی بے بنیاد الزامات کی مذمت کی گئی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی الزامات پاکستانی ہائی کمیشن کے اسٹاف میں کمی کےلیے محض بہانہ ہیں لہٰذا پاکستان ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے بھارتی الزامات یکسر مسترد کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے بھی بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں 50 فیصد کمی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور بھارتی ناظم الامور سے 7 روز میں اِس فیصلے پر عمل کرنے کے لیےکہہ دیاگیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی الزامات مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں لہٰذا بھارت کے لیے بہتر ہوگا کہ جنوبی ایشیا کا امن داؤپر لگانے کی بجائے اندرونی معاملات پر توجہ دے۔ترجمان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کو بی جے پی حکومت کی غیرذمہ دارانہ پالیسیوں سے مسلسل آگاہ کرتا آرہا ہے۔
خیال رہے کہ یکم جون کو بھارت نے پاکستانی ہائی کمشین کے دو ارہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا جس پر پاکستان نے شدید مذمت کی تھی۔اس واقعے کے بعد بھی بھارت نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا اور 15 جون کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کا محاصرہ کیا اور کمیشن کے اہلکاروں کو ہراساں بھی کیا جب کہ یہ محاصرہ 16 جون کو بھی جاری رہا۔
