آرمی چیف کے روڈ میپ میں عمران کی گجائش بالکل نہیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کو انکے خلاف چلنے والی کیسوں میں قرار واقعی سزا دلوانا اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی اولین ترجیح ہے یہ چیلنج عمران نے خود دیا ہے . پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پاس اپنا ایک روڈ میپ موجود ہے جس کے مطابق عمران خان کی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے .جنرل عاصم منیر اپنے پیشرو فوجی سربراہان کے برعکس جنرل عاصم منیر دفاعی اور سیاسی معاملات میں امریکہ سے ہٹ کر چین سے وابستگی اپنا چُکے ہیں. اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ، الیکشن کمیشن نے 90روز میں انتخابات کروانے ہیں۔جبکہ الیکشن کا انعقاد فروری سے پہلے نا ممکن ہے، اگلے چند دنوں میں نگران سیٹ اَپ مرکز ، سندھ اور بلوچستان میں مقرر ہو جائیگا ۔ پچھلے دو ہفتوں میں جس تَندہی سے قانون سازی ہوئی ، مقصد ایک ہی تھا کہ 6/7 ماہ کے نگران سیٹ اَپ کا بندوبست ہو سکے الیکشن کا انعقاد یا التواء عمران خان کی قسمت سے جُڑا ہے۔ اگر عمران خان کا مکو تین چار مہینے میں ٹھپ دیا گیا تو 6 ماہ بعد الیکشن ہو جائیں گے۔ بالفرضِ محال عمران اپنی مضبوط سیاست کیساتھ عملاً یا روحانی طور پر موثر رہے تو غیر معینہ مدت کیلئے الیکشن کا التواء یا مارشل لاء یا ایمرجنسی کا نفاذ ہو سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ عمران کا خاتمہ کرنے میں عدالتی رکاوٹوں کو ٹاپنے کیلئے ہر حد عبور کرلے گی ۔ PCO جیسے قوانین بھی دُہرائے جا سکتے ہیں ۔ نگران سیٹ اَپ تو عملاً کٹھ پُتلی رہے گا ۔ عمران حکومت ، شہباز حکومت اورنگران سیٹ اَپ میں ایک قدر مشترک ہے کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی رہاہے ۔ حکومت چلی گئی ، حکومت آ گئی، کوئی فرق پڑنے والا نہیں ۔ حفیظ الله نیازی کا کہنا ہی کہ جنرل باجوہ نے نواز اور عمران حکومت کاخاتمہ کیا ، ملک کو شدید سیاسی اقتصادی بحران میں دھکیلا مگر 29 نومبر کے بعد عسکری کمان ایسے ایک شخص کے ہاتھ میں ہے جس نے کسی سیاسی حکومت کا خون نہیں کیا ۔جنرل باجوہ نے پہلے نواز حکومت کو دھونس دھاندلی سے ختم کیا پھر عمران خان کی حکومت کو خاص اجزائے ترکیبی سے وزیراعظم بنوایا،کم و بیش اُسی نسخہ کیمیا سے عمران خان کو ہٹایا۔جس طریقہ سے عمران خان کو منتخب کروایا گیا اُسی طرز پر شہباز شریف کو مسندِ اقتدار سونپی۔ جنرل عاصم منیر نے نہ تو کسی’’ سیاست نہیں ریاست بچاؤ ، پانامہ ، اقامہ ، RTS جیسے گھناؤنے عمل کو آزمایا اور نہ ہی کسی سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ کا حصہ بنے‘‘۔ جنرل عاصم منیر کی بد قسمتی ہے کہ عمران خان اینڈ پارٹی نے اُنکے خلاف معاندانہ مہم اُنکی تعیناتی سے 3ماہ پہلے بغیر کسی عقلی دلیل کے شروع کر دی۔ 9مئی کے دن کراچی تاخیبر فوجی تنصیبات ، علامات پر حملہ بنیادی طور پر جنرل عاصم منیر پر حملہ تھا ۔ آج اگر عمران خان کے کیسز چل رہے ہیں تو بظاہر آج کی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اتنا ہے کہ عمران خان کو قرار واقعی سزا دلوانا اس کی اولین ترجیح ہے کیوں کہ عمران نے یہ چیلنج خود دیا ہے ۔
جنرل عاصم منیر اپنے پیشرو فوجی سربراہان سےمختلف ہیں ۔ ایوب خان سے جنرل باجوہ تک جہاں بیشتر امریکہ کےدستِ نگر رہے وہاں جنرل عاصم منیر دفاعی اور سیاسی معاملات میں امریکہ سے ہٹ کر چین سے وابستگی اپنا چُکے ہیں۔ پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے میں چین کا کردار سب پر عیاں ہے ، البتہ آنیوالے دنوں میں اربوں ڈالرز کی بارش کیلئے مستحکم سیاسی نظام ضروری ہے ۔ جنرل عاصم منیر کے پاس بھی اقتصادی بحالی کا اپنا ایک روڈ میپ ہے، اُسکے مطابق عمرانی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے۔ اگلے 5 سال کیلئے مضبوط سیاسی جمہوری حکومت کا قیام اٹل اس لئے ہے کیوں کہ سی پیک منصوبہ ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کی بھینٹ نہ چڑھ جائے ۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اگلے چھ آٹھ ماہ انتہائی غیر یقینی کے ہیں ، اس دوران اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عمران خان دنگل مرکزِ نگاہ رہنا ہے ، پاکستان کے دُشمنوں نے بذریعہ میڈیا اور دیگر ذرائع عمران کو مدد فراہم کرنا ہے۔ تحریک عدم اعتماد میں اتحادیوں کی سہولت واپس لیکر شہباز شریف کو منتقل کرنا اسٹیبلشمنٹ کیلئےبائیں ہاتھ کا کھیل تھا. نواز شریف کو تین دفعہ اقتدار سے زبردستی باہر کیا گیا، کسی موقع پر ریاستی راز یا خفیہ دستاویزات سے نہیں کھیلا گیا۔ عمران خان کو اقتدار سے نکلنے کی بھنک پڑی تو بطور وزیر اعظم نہ صرف معیشت کیلئے بارودی سُرنگیں بچھائیں، خفیہ دستاویزات کو افشاء کرنے بلکہ کھیلنے میں نہ ہچکچایا۔ کل جب ہماری خفیہ دستاویزات عالمی میڈیا کی زینت بنیں توعمران پر افسوس سے زیادہ ترس آیا کہ ذاتی مفادات اور سیاست چمکانے کیلئے موصوف نے کیا کیا ، عمران کی سیاست ختم نہیں ہو گی۔ البتہ اگلے آٹھ دس سال سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد بعد اگر واپسی ہوئی تو بینظیر اور نواز شریف کیطرح اسٹیبلشمنٹ کی شرائط پر ہی ہو سکے گی کیوں کہ عمران کے پاس اسکے علاوہ چوائس ہی نہیں ہو گی۔
