نگراں وزیراعظم کا تعلق پنجاب نہیں KPیا بلوچستان سے ہو گا

پاکستان میں ان دنوں سب کی نظریں نگراں وزیراعظم کے تقرر کی طرف جڑی ہیں۔ تاہم ابھی تک اسلام آباد میں نگران وزیراعظم کی تقرری کے معاملے پر حتمی فیصلہ سامنے نہیں ہو سکا۔
قومی اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفکیشن ہونے کے بعد وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے پاس 3 دن کی مہلت آئین نے دی دونوں طرف سے تین، تین نام پیش ہوتے ہیں اور اس میں سے ایک نام پر اتفاق رائے ہونا ضروری ہے اور آج قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد تیسرا دن ہے آج بھی نگراں وزیراعظم کیلئے کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے ہو جائے گا۔ تاہم سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کوئی سرپرائز بھی دے سکتے ہیں اور شہباز شریف کے دئیے گئے نام پر آج اتفاق متوقع ہے۔
خیال رہے کہ نگراں وزیراعظم کیلئے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے نام بھی سامنے آتے رہے۔ قبل ازیں اسحٰق ڈار، حفیظ شیخ، صادق سنجرانی، محمد میاں سومرو، اسلم بھوتانی سمیت کئی شخصیات کے نام گردش کرتے رہے ہیں۔
تاہم باوثوق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے ناموں میں سے کوئی بھی نگراں وزیر اعظم مقرر نہیں کیا جا رہا۔ قابل اعتماد ذرائع کا مزید دعوی ہے کہ آئندہ نگران وزیر اعظم منتخب ہونےوالے فرد کی کنیت کا پہلا لفظ جے نہیں بلکہ "کے” ہو گا یعنی اس کے نام کا آخری حصہ خان، خٹک، کاکڑ یا کیانی ہو گا اور اس کا تعلق کسی چھوٹے صوبے سے ہو گا۔ ذرائع کا مزید دعوی ہے کہ ابھی تک نگراں وزیر اعظم کیلئے سامنے آنے والے ناموں میں اس کا نام شامل نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے نگران وزیر اعظم چھوٹے صوبہ سے منتخب کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، اس طرح نگراں وزیراعظم بلوچستان یا خیبر پختونخوا سے منتخب کئے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم کے حوالے سے آصف زرداری اور نواز شریف نے بھی متعدد بار مشاورت کی ہے اور دونوں رہنماوں نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ نگران وزیراعظم کیلئے کسی معتبر سیاستدان کا نام آگے بڑھایا جائے گا۔
دوسری جانب صدر عارف علوی کہ جانب سے قبل از وقت وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو لکھے گئے خط سے ایک اور نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ خط پر جہاں ایک طرف شہبازشریف نے صدر علوی کو کھری کھری سناتے ہوئے آئین پڑھنے کا مشورہ دیا ہے وہیں دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ صدرعلوی کسی نئے تنازع کو جنم دینا چاہتے ہیں یا اپنے لئے کسی نئے کردار کی تلاش میں ہیں، آئینی ماہرین کے مطابق نگران وزیراعظم کا تقرر تین مراحل میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ پہلامرحلے میں یہ کام انجام نہ دیا جا سکے تو دوسرے کو آزمایا جاتاہے اورتیسرا فیصلہ کن مرحلہ اس وقت آتاہے جب پہلے دونوں ناکام ہو جائیں ۔ یہ طریق کارآئین میں سادہ لفظوں سے بیان کیاگیا ہے اوراس میں کسی طور پر بھی کوئی ابہام ناقابل تصور ہے۔
وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد تین دنوں میں صلاح مشورے سے متفق ہونے کی صورت میں نگران وزیراعظم کا نام طے کرسکتے ہیں اور جونہی ان میں مفاہمت طے پاجائے وزیراعظم، صدرمملکت کو اس نام کے ساتھ صدر کو ہدایت تحریر ی طورپر جاری کرتاہے کہ اسے نگران وزیراعظم مقرر کردیاجائے۔
یہ مرحلہ ختم ہونے میں دو دن باقی تھے کہ صدر نے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو ایک ہی متن کے الگ الگ خط تحریر کردیئے اورپھرانہیں ذرائع ابلاغ کے لئے بھی جاری کردیا ہے صدر کے اس عمل کو قلمی دوستی سے تعبیر کیاگیا ہے جن سے وزیراعظم شہبازشریف سے ہفتوں سے کوئی ملاقات نہیں کی اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد تو شاید دوسال سے بھی ان سے نہیں ملے۔
صدر کی طرف سے وزیراعظم کو نگران وزیراعظم کے تقرر کے لئے خط تحریر کرنے کی عارف علوی نے پہلی مرتبہ مثال قائم کی ہے جس کا وزیراعظم شہبازشریف نے جمعہ کی شام یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ صدر کو اس معاملے میں کیا جلدی ہے کیا انہیں آئین کی متعلقہ دفعات سے واقفیت حاصل نہیں ہے۔
