آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے چار امیدوار میدان میں


آزاد کشمیر انتخابات میں سادہ اکثریت لینے کے بعد عمران خان کے لئے وزیراعظم کے چنائو کے حوالے سے نئی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔ دو دھڑوں میں تقسیم پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں وزارت عظمیٰ کے ایک یا دو نہیں بلکہ چار امیدوار سامنے آچکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار بیرسڑ سلطان محمود اور تنویر الیاس کو وزارت عظمی کے لیے فیورٹ قرار دے رہے ہیں تاہم اگر پارٹی ٹوٹنے پر آ گئی تو چوہدری انوارالحق یا خواجہ فاروق کو قیادت سونپ کر عمران خان سرپرائز بھی دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ الیکشن کی گہما گہمی سے پہلے وزارت عظمی کے اکلوتے امیدوار پاکستان تحریک انصاف کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود تھے۔ تاہم سردار تنویر الیاس کی انتخابی سیاست میں انٹری نے نہ صرف ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائے بلکہ مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک تنویر الیاس اور بیرسٹر سلطان محمود کے دھڑوں نے الگ الگ مہم چلائی اور الیکشن لڑا۔ تاہم جوں جوں انتخابات قریب آتے گئے تحریک انصاف کی سی ای سی کے رکن خواجہ فاروق اور پارٹی میں نئے شامل ہونے والے انوارالحق کا نام بھی گردش کرنے لگا۔ تحریک انصاف اگرچہ دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے باوجود اسٹیبلشمینٹ کی حمایت سے کامیاب ہو گئی لیکن اب مشکل ترین مرحلہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا چناو ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود اگرچہ خود وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں لیخن ان کے قریبی ساتھی خواجہ فاروق احمد کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سردار تنویر الیاس بھی مضبوط امیدوار ہیں لیکن انھی کے ہاتھوں پارٹی میں شامل ہونے والے چوہدری انوارالحق بھی وزارت عظمی کے امیدوار گردانے جا رہے ہیں۔
ان چاروں میں وزیراعظم کون بنے گا اس کا فیصلہ تو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ہی کریں گے۔
یاد رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سادہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 24، پاکستان پیپلز پارٹی نے 11 جبکہ مسلم لیگ ن نے 6 نشستوں پر کامیاب حاصل کی ہے۔ آٹھ مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد تحریک انصاف 31 نسشتوں کی حامل جماعت بن جائے گی۔ایسی صورت میں تحریک انصاف کے اندر اور کشمیر میں یہ سوال زور و شور سے پوچھا جا رہا ہے کہ کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟
پاکستان تحریک انصاف کشمیر شاخ کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کشمیر کی سیاست کا ایک جانا پہچان نام ہے اور انھوں نے ایل اے تین میر پور سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس وقت بیرسٹر سلطان محمود اپنے تجربے کی بنیاد پر وزارت عظمی کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، وہ مسلسل نویں مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 1985 میں اپنے والد چوہدری نور حسین کی سیاسی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اسی پلیٹ فارم سے 1990 میں بھی ممبر منتخب ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ اسمبلی میں اتحاد کیا۔ 1991 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود اپنی آبائی نشست سے بھی ہار گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کو جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم کر دیا۔1996 کے انتخابات سے پہلے ہی بیرسٹر سلطان محمود اپنی جماعت لبریشن لیگ سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور وزیراعظم بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب مرکز میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تو کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی حکومت کو بدستور کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران ان کے جنرل مشرف کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔2001 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب نہ ہوسکی اور وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی اپوزیشن لیڈر بنے۔ بے نظیر بھٹو کی جانب سے پارٹی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد 2006 کے انتخابات سے پہلے بیرسٹر سلطان محمود نے اپنی جماعت جموں و کشمیر پیپلز لیگ بنائی جو صرف چار نشستیں جیت سکی۔2011 کے انتخابات سے قبل بیرسٹر سلطان نے اپنی جماعت پیپلز لیگ کو پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں واضح برتری ملی، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے سلطان محمود کو نظرانداز کر دیا اور کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا۔2015 میں بیرسٹر سلطان محمود دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ 2016 کے انتخابات میں انھیں بحیثیت صدر تحریک انصاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم 2019 میں مسلم لیگ ن کے چوہدری سعید کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر وہ کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی میں پہنچ گئے۔
دوسری جانب اپنی دولت کےبل بوتے پر آزاد کشمیر کی سیاست میں اہمیت اختیار کر جانے والے سردار تنویر الیاس انتخابی سیاست میں بالکل نووارد ہیں۔ پہلی مرتبہ عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایل اے 15 باغ ون سے کامیاب ہوئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی کشمیر میں انتخابی مہم میں وسائل کی فراہمی سمیت ان کے معاشی شعبے میں تجربے کی وجہ سے انھیں کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ان کے قریبی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے انھیں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے پہلے اجلاس میں کریں گے۔سردار تنویر الیاس کا شمار پاکستان کے بڑے سرمایہ داروں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔ ان کا تمام تر کاروبار ریاست سے باہر ہے۔ تنویر الیاس سردار گروپ آف کمپنیز کے صدر ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑے کاروباری مرکز دی سینٹورس اور ایک رہائشی سوسائٹی کے مالک بھی ہیں۔اسی طرح ٹائل مینوفیکچرنگ، آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر سمیت مختلف شعبہ جات میں اس گروپ کی 13 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اس گروپ نے دیگر کاروبار سمیت میڈیا انڈسٹری کی طرف بھی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔ سردار میڈیا گروپ نے چار ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں جو گذشتہ سال 64 کروڑ روپے کی بولی کے ذریعے جیتے گئے تھے۔ ان میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ، ریجنل لینگویجز اور سپورٹس شامل ہیں، جبکہ سردار میڈیا گروپ کے پاس ایف ایم ریڈیو کے چار لائسنس بھی موجود ہیں اور ایشین نیوز کے نام سے اخبار کا ملک کے پانچ بڑے شہروں سے اجراء کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ پاکستان کے 2018 کےعام انتخابات میں انہیں پنجاب کی عبوری کابینہ میں نگران صوبائی وزیر کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ عام انتخابات کے بعد بھی پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے تجارت اور سرمایہ کاری ہیں اور پنجاب میں سرمایہ کاری بورڈ کی چیئرمین شپ بھی ان کے پاس ہے۔
وزارت عظمیٰ کے ایک اور امیدوار خواجہ فاروق احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل اور کشمیر کے معروف سیاستدان ہیں۔ وہ بیرسٹر سلطان محمود کے پرانے ساتھی اور تحریک انصاف کے موجودہ سیٹ اپ میں انہی کے کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں۔2016 میں بھی انھوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لیا تھا، لیکن شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس دفعہ انھوں نے ایل اے 29 مظفر آباد سے 13 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے مسلم لیگ ن کے دو مرتبہ مسلسل جیتنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ انھیں کشمیر کی سیاست میں مقام اور پہچان اس وقت حاصل ہوا جب انھوں نے آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا تھا۔وہ پاکستان تحریک انصاف کشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں، جبکہ 1996 سے 1998 تک وزیر بجلی بھی رہے ہیں۔ 2003 میں انھیں ہائیڈل پاور منصوبے میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے احتساب بیورو نے گرفتار بھی کیا تھا۔ وہ عمران خان کے احتساب کی سوچ اور نظریے سے ہم آہنگی کی وجہ سے ان کے بڑے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں کشمیر کا وسیم اکرم پلس سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں وزارت عظمیٰ کے دو بڑے امیدواروں کا نام آ رہا ہے وہیں خواجہ فاروق احمد کو بھی وزارت عظمی کا مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
چوہدری انوارالحق کا تعلق بھمبر سے ہے وہ پہلی مرتبہ 2006 میں بیرسٹر سلطان محمود کی جماعت پیپلز مسلم لیگ سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2011 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور ڈپٹی سپیکر اور وزیر بنے۔ چوہدری انوار الحق حال ہی میں سردار تنویر الیاس کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے اور ایل اے سات بھمبھر سے اپنے سیاسی حریف مسلم لیگ ن چوہدری طارق فاروق کو شکست دی۔ چوہدری طارق فاروق نے 2016 میں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 27 ہزار سے ووٹ لیے تھے۔ موجودہ انتخابات میں انھوں نے 38 ہزار جبکہ ان کے مد مقابل نے 31 ہزار سے زائد ووٹ لیے ہیں۔ انھیں حال ہی میں پارٹی کا حصہ بننے کی وجہ سے اگرچہ مخالفت کا سامنا ہے لیکن حلقے میں مضبوط ووٹ بینک اور اپنے عوامی انداز کے باعث انھیں بھی وزارت عظمیٰ کا امیدوار سمجھا جا رہا ہے

Back to top button