آصف زرداری کا شہباز کو تھاپڑا، ڈٹ کر کھڑے رہنے کا مشورہ


سابق صدر آصف زرداری نے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے بڑی مشکل سے آپ کو وزارت عظمیٰ پر فائز کروایا ہے، لہذا آپ بھی ذرا حوصلے اور ہمت کیساتھ حکومتی امور کو چلائیں، اور عمران خان کے خلاف تگڑے ہو کر دکھائیں۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتیں ابھی فوری الیکشن میں نہیں جانا چاہتیں لہذا وزیراعظم کو بھی یہاں وہاں سے کسی قسم کا دباؤ لینے کی ضرورت نہیں چونکہ وہ ایک بااختیار وزیر اعظم ہیں۔

آصف زرداری نے یہ بات وزیر اعظم شہباز شریف کیساتھ ایک خصوصی ملاقات میں کی جس کے دوران عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کی جانب سے حکومت پر فوری الیکشن کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ زیر بحث آیا۔ یہ ملاقات صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے بعد ہوئی جس نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو پریشان کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے شہباز شریف کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور پنجاب میں بھی حمزہ کی حکومت برقرار رہے گی کیونکہ وہاں اب بھی مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادی اکثریت میں ہیں۔ ملاقات میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شریک تھے جنہوں نے آصف زرداری کی جانب سے فوری الیکشن نہ کروانے کی تجویز کی حمایت کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ اس کا فائدہ عمران کو ہوگا جبکہ نقصان اتحادی جماعتوں کو ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے عمران خان کی حمایت کرنے اور فوری الیکشن کروانے کے مطالبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس مطالبے کو رد کرتے ہوئے آصف زرداری اور شہباز شریف نے اتفاق کیا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملکی معیشت کو سنبھالنا ہے تاکہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری الیکشن کا نتیجہ ملکی خزانے پر پچاس ارب روپے سے زائد کے فوری بوجھ کی صورت میں نکلے گا جس کا اس وقت پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی اگر پارلیمنٹ نے ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے تو تو نئی حکومت کو اپنی معیاد پوری کرنی چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو نواز شریف کی جلد انتخابات سے متعلق تجویز سامنے رکھی۔ شہباز شریف نے دونوں رہنماؤں کو بتایا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا فیصلہ ہے معیشت کی بہتری کیلئے سخت فیصلے لینے ہوں گے جو ایک لانگ ٹرم حکومت لے سکتی ہے اور اس کیلئے نیا مینڈیٹ لینا ضروری ہے، ہم اس وقت مشکل فیصلے لے کر چند ماہ بعد انتخابات نہیں کرواسکتے، اس صورت میں موجودہ اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔

اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ ہم فوری طور پر انتخابات کے حق میں نہیں ہیں، آپ کو ابھی حکومت نہیں چھوڑنی چاہیے ہم نے بہت محنت سے آپ کو وزیراعظم بنایا ہے ، آپ حوصلہ کریں اور مشکل فیصلوں کیلئے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں، مسائل کے حل کیلئے ہم بھی آپ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سامنے جب شہباز شریف نے نواز شریف کے موقف کو رکھا تو انہوں نے اس کی مشروط حمایت کرتے ہوئےکہا نئے انتخابات سے قبل کچھ یقین دہانی کروائی جائیں۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اس معاملے پر باقی اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائےا ور ان کے ساتھ بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

Back to top button