کراچی میں دہشتگردی کے پیچھے کون سے عناصر ہیں؟

بلوچ قوم پرستوں کے بعد اب سندھی قوم پرستوں کی جانب سے کراچی میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات نے ملکی سلامتی کے ضامن سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نئی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔
پاکستان کے معاشی مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ہفتے کے دوران دو جان لیوا بم دھماکوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ پہلا دھماکہ شہر کے مرکزی علاقے صدر میں ہوا جس میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی کھڑی گاڑی کو موٹر سائیکل پر نصب دھماکہ خیز مواد سے ٹارگٹ کیا گیاتھا۔ اس واقعے میں کوسٹ گارڈ کے دو اہل کاروں سمیت 12 افراد زخمی اور ایک شہری ہلاک ہوا تھا۔ حملے کے بعد سندھو دیش ریولیشنری آرمی نامی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی طرح پیر کی رات میٹھا در کے علاقے بمبئی بازار میں بم دھماکے میں ایک خاتون ہلاک جب کہ 16 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق حملے کا نشانہ قریب ہی موجود پولیس موبائل تھی۔ تاہم اب تک کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ یہ دھماکہ بھی سندھو دیش ریولیشنری آرمی نے کیا ہے جو سائیں جی ایم سید کے نظریات سے متاثر ہے اور سندھ کو پاکستان سے علیحدہ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں جامعہ کراچی میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی ہوئی تھی اور خود کش حملے میں تین چینی باشندوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئےتھے۔ یہ چینی باشندے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان اور ثقافت کی تعلیم و تدریس میں مصروف تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ری پبلکن آرمی نے قبول کی تھی۔
سکیورٹی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ بلوچی اور سندھی قوم پرست مل کر کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ تجزیہ کار اسے ایک جانب سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی سے تعبیر کررہے ہیں تو دوسری جانب صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں سیف سٹی منصوبہ کا تصور پیش ہوئے ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے کہ لیکن تاحال اس پرکام شروع نہیں ہوسکا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی اس منصوبے میں تاخیر کا اعتراف کرچکے ہیں۔ منصوبے کے تحت 10 ہزار نئے کیمرے دو ہزار مقامات پر تین مراحل میں نصب کیے جانے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد کی طرح اگر کراچی میں بھی سیف سٹی کیمروں کا پورا نظام موجود ہو تو دہشت گردی موثر طریقے سے روکی جا سکتی ہے۔ کراچی کے لیے اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 29 ارب روپے کے قریب ہے۔ پہلے مرحلے میں 3000 نئے کیمروں کی تنصیب کی منظوری دی جاچکی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ چار ارب روپے لگایا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے سیف سٹی اتھارٹی کو ایک سال کے اندر پہلا مرحلہ مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے علاوہ سندھ پولیس کی ہزاروں خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئی ہیں اور شہر میں چلنے والے 40 لاکھ کے قریب موٹر سائیکلوں پر ٹریکرز کی تنصیب کا منصوبہ بھی التواء کا شکار ہے۔ ان منصوبوں میں تاخیر کو جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کی کارروائیوں پر قابو پانے میں رکاوٹ قرار دیا جارہا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشہ برس حکومت کی تبدیلی کے بعد وہاں موجود دہشت گرد عناصر کو کھُلی آزادی مل چکی ہے اور وہاں برسر اقتدار طالبان حکومت اب تک ان پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ تجزیہ کار اکرام سہگل کا خیال ہے کہ ایسے گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی فعال نظر آرہے ہیں جہاں فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں پر کئی بڑے حملے کئے جاچکے ہیں جن میں بڑا جانی نقصان ہوچکا ہے۔ فروری میں پنجگور اور نوشکی میں قائم فرنٹیئر کورکے ہیڈ کوارٹرز پر مسلح حملوں میں فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
اکرام سہگل کے خیال میں اسی طرح اب یہ گروہ کراچی میں بھی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان اور ایران دونوں ممالک کی سرزمین سے مدد مل رہی ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مقامی آبادی کی ہمدردیاں حاصل کرکے بہ آسانی یہ کارروائیاں کررہے ہیں۔
تاہم ایران کی حکومت اور افغانستان میں برسرا قتدار طالبان حکومت کئی بار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے گروہوں کی کسی مدد کی تردید کرتے آئے ہیں۔ بلوچستان میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جس میں دہشت گردی کے واقعات کو دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے کی سازش قرار دیا گیا تھا۔ کراچی میں ہونے والے واقعات پر یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ آخر دہشت گرد عناصر کو کنٹرول کرنے میں سکیورٹی ادارے کیوں ناکام ہورہے ہیں؟
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں پر خود کش حملے اور پھر رواں ماہ ہونے والی کارروائیوں میں ممکنہ طور پر شہر میں موجود دہشت گردوں کے سلیپر سیلز استعمال ہوسکتے ہیں جو اس مقصد کےلیے رہائش اور دیگر لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ البتہ اب تک اس حوالے سے تحقیقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
