ابصارعالم جنرل قمر باجوہ پر کس وجہ سے برہم ہوئے؟

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی صحافیوں کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی گونج کئی روز گزرنے کے باوجود کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا ایک موضوع سینئر صحافی ابصار عالم بھی رہے جن پر گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک پارک میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن خوش قسمتی سے انکی جان گولی لگنے کے باوجود محفوظ رہی۔
سوشل میڈیا پر آرمی چیف کی صحافیوں سے ملاقات کے بعد یہ خبر گرم رہی کہ جب ان سے ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فوج کے سربراہ نے موقف اختیار کیا کہ اس میں کوئی ایجنسی ملوث نہیں ہے کیونکہ جب کوئی ایجنسی ایسا کام کرتی ہے تو کوئی نام و نشان نہیں چھوڑتی۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی بتایا گیا کہ آرمی چیف نے ابصار عالم پر حملے کی مبینہ وجہ ان کی "ایکسٹرا کریکولر ایکٹیویٹیز” کو قرار دیا۔
تاہم اب اس مبینہ گفتگو کا جواب دیتے ہوئے جان لیوا قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے ابصارعالم نے آرمی چیف کے اس دعوے کو جھٹلایا ہے کہ ان پر حملے میں خفیہ والوں کا ہاتھ نہیں بلکہ ان کی اپنی سرگرمیاں اسکی وجہ ہیں۔ ابصار نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں افسوس کا اظہار کیا کہ جنرل قمر باجوہ، جنہیں آرمی چیف لگوانے میں انکا بھی کردار تھا، اب قاتلانہ حملے پر اظہار ہمدردی کی بجائے الٹا ان پر الزامات لگا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 20 اپریل 2022 کو اسلام آباد میں ابصار عالم ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے چند روز بعد آرمی چیف کی صحافیوں کے ساتھ افطار ڈنر پر ہونے والی ملاقات کے دوران حامد میر اور ابصار عالم پر قاتلانہ حملون کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ اس موضوع پر ایک سوال کے جواب میں جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ابصار عالم پر حملہ کسی ایجنسی نے نہیں کروایا کیونکہ اگر ایجنسیاں کسی کو ٹھکانے لگانا چاہیں تو پھر پتہ بھی نہیں لگتا۔ جنرل قمر باجوہ نے مبینہ طور پر صحافیوں سے یہ بھی کہا تھا کہ ابصار عالم دراصل اپنی پیشہ ورانہ امور سے ہٹ کر منفی سرگرمیوں کی وجہ سے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے۔ لیکن جنرل باجوہ کے دعوے برعکس صحافتی حلقوں میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ انہیں دراصل ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کی جانب سے ہی نشانہ بنایا گیا کیونکہ جائے وقوعہ کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایسی وارداتوں میں استعمال ہونے والا ایک سیاہ ڈالہ اور ایک ہی طرح کا لباس پہنے دو افراد ابصار عالم کی ریکی کر رہے ہیں۔ ابصارعالم پر گولی چلانے کے بعد دونوں افراد دو مختلف سمتوں میں بھاگے تاکہ یہ معلوم نہ ہوسکے کہ ان پر حملہ کس نے کیا اور پھر حملہ آور کہاں غائب ہو گئے۔
آرمی چیف کی صحافیوں سے آف دی ریکارڈ ہونے والی گفتگو کے کچھ حصے منظر عام پر آنے کے بعد ابصار عالم نے ٹوئٹر پر آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جنرل صاحب! میں نے تو ابھی قاتلانہ حملے کا الزام بھی کسی پر نہیں لگایا اور آپ میرے خلاف بند کمروں میں گفتگو فرماتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ آپ نے تو اپنی ترقی کے لئے میری کاوشوں کا شکریہ خود ادا کیا تھا جس کے گواہ آپ کے سُسر جنرل اعجاز امجد اور آپ کے دوست زاہد مظفر بھی ہیں۔ میں نے تو آپ سے کبھی کسی احسان کا بدلہ نہیں چاہا لیکن اگر ایک مہذب انسان کی طرح آپ بیمار پُرسی نہیں کرنا چاہتے تو ایسی گفتگو کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کم از کم آپ اپنے عہدے کا ہی خیال کر لیں۔ ابصار عالم نے لکھا کہ دوسری بات یہ کہ میں تو اپنے ماضی کی “ایکسٹرا کریکلر ایکٹیویٹیز” کو تسلیم کرتا ہوں اور اپنے رب سے ہمیشہ معافی کاطلب گار بھی رہتا ہوں۔ لیکن کیا آپ اور آپ کے قبیلے میں “ایکسٹرا کریکلر ایکٹیویٹیز” تسلیم کرنے کی اخلاقی جرآت ہے؟
ابصار نے لکھا کہ تیسری بات یہ کہ سب سے پہلے تو آپ نیویارک ٹائمز کی اس خبر پر امریکہ میں مقدمہ دائر کریں اور جیتیں، پیسے بھی ملیں گے اور حقیقت بھی سامنے آجائے گی کہ مُجھ پر قاتلانہ حملہ کس نےاور کیوں کروایا۔ خیال رہے کہ نیویارک ٹائمز کی اس خبر میں ابصار پر قاتلانہ حملے کا الزام پاکستانی ملٹری کی خفیہ ایجنسی پر لگایا گیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ خود پر 20 اپریل کے قاتلانہ حملے سے دو روز پہلے ابصار نے ایک ٹویٹ میں فیض آباد دھرنا کیس میں اپنی بطور چیئرمین پیمرا آئی ایس چیف جنرل فیض حمید کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے مندرجات شیئر کئے تھے۔ انہوں نے 18 اپریل کو اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا تھا کہ نومبر 2018 میں جب میں چیئرمین پیمرا تھا، تو چینل 92 کو نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی میں لائیو سیکورٹی آپریشن دکھانے پر بند کر دیا تھا۔ اس پر جنرل فیض نے مُجھے فون کر کے کہا کہ یا تو چینل 92 کو کھول دیں یا باقی سب چینلز بھی بند کر دیں۔ میں نے کہا دونوں کام نہیں ہو سکتے، کُچھ ہی دیر بعد وفاقی حکومت نے اپنے اختیار کے تحت تمام ٹی وی چینلز بند کرنے کا حُکم نامہ بھیج دیا۔ ابصار نے لکھا کہ کیا کوئی پوچھے گا جنرل فیض حمید سے کہ وہ کون سے مفاد تھا جو آگ لگانے اور بھڑکانے والے چینل 92 کو اس وقت کھلوانا چاہتے تھے؟ انہوں نے لکھا کہ اب آپکو سمجھ آیا کہ چینلز اور اینکرز کیسے چلتے اور بند ہوتے ہیں؟
ابصار پر حملے کے بعد اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے اپنی سٹوری میں لکھا تھا کہ فوج پر تنقید کرنے والے پاکستانی صحافی پر قاتلانہ حملے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ٹوئٹر پر یہ انکشاف کیا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے 2017 میں فیض آباد کے مقام پر تحریک کے دھرنے کے دوران ان پر بحثیت پیمرا چیئرمین ن لیگ کی برسراقتدار حکومت کے خلاف میڈیا پر مخالفانہ مہم چلوانے کے لئے دبائو ڈالا گیا تھا۔ اسی لیے انصار نے اپنے حالیہ ٹویٹس میں امریکی اخبار کی مذکورہ خبر کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی سربراہ کو اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا چیلنج دیا ہے۔
ابصار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تب سے ہی انہیں اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے نے ابصار کے خلاف ریاست مخالف بیانات دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں طلبی کا سمن بھیج دیا تھا جس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پنجاب پولیس نے ابصار عالم کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بھی درج کیا تھا جو پچھلے برس خارج کردیا گیا تھا۔ تاہم اس سلسلے کا اختتام تب ہوا جب 20 اپریل کو اسلام آباد میں ابصار کو گولی مار کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔
