اب عمران کو عدالتی ریلیف ملنے کا امکان کیوں نہیں ہے؟

عمرانڈو چیف جسٹس کہلانے والے جسٹس اطہر من اللہ کے سپریم کورٹ جانے کے بعد اب تحریک انصاف نے نئے چیف جسٹس پر اسلیے عدم اعتماد کر دیا ہے کہ اعظم سواتی کو ضمانت نہیں ملی۔ یوتھیوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ دیگر اداروں کے سافٹ ویئرز کی طرح عدلیہ کا سافٹ ویئر بھی اپ ڈیٹ ہو گیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اطہر من اللہ کے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بھی نیوٹرل ہو گئی ہے کیونکہ پہلے اسے ایک عمرانڈو چیف جسٹس چلا رہا تھا اور اسی لیے تمام فیصلے عمران کے حق میں آتے تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کی جانب سے عمران کو اثاثہ جات کیس میں نااہلی سے بچانے اور انکے بنی گالا محل کی غیر قانونی تعمیر کو قانونی قرار دلوانے میں عدلیہ نے جو شرمناک کردار ادا کیا تھا وہ اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اب یوتھیوں کے ساتھ بھی میرٹ کی بنیاد پر انصاف ہوگا اور انہیں عمرانڈو کنکشن پر بے جا ریلیف نہیں ملے گی۔
اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جانے کے باوجود عمران خان عدلیہ کے لاڈلے تھے، لیکن اب صورتحال بدل جائے گی اور آنے والے ہفتوں میں موصوف نااہل ہو جائیں گے جس کے بعد انہیں کوئی ریلیف بھی نہیں ملے گا۔ نیا دور کے پروگرام ‘اندر کی بات’ میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی ک مطابق چلے گی کیونکہ یہ دونوں ادارے ایک دوسرے کے متوازی چلتے آئے ہیں۔ ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے کہ دونوں میں اختلاف پایا گیا ہو۔ جیسے جنرل باجوہ کی پنجاب اور وفاق دونوں میں الگ پالیسی تھی، عدلیہ کی پالیسی بھی مختلف رہی۔ باجوہ صاحب وفاق میں شہباز شریف کے ساتھ تھے اور پنجاب میں عمران خان کے ساتھ، اسی طرح عدلیہ بھی وفاق میں پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ جبکہ پنجاب میں عمران کے حامی رہی۔
جب وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک آئی تو عدلیہ نے عمران خان کو ریلیف نہیں دیا۔ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ کو بھی عدلیہ کسی خاطر میں نہ لائی اور اسے بھی غیر آیئنی قرار دے دیا۔ تاہم جب پنجاب کا معاملہ آیا تو وہی عدلیہ عمران خان کے ساتھ کھڑی نظر آئی اور حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الہی کو وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ ساری پی ڈی ایم قیادت ‘بنچ فکسنگ’ کا نعرہ لگاتی رہ گئی لیکن چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے رات کو عدالتیں بھی کھولیں اور عمران کی پنجاب کی حکومت بھی بحال کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عمر عطا بندیال کا نئے ججوں کی تقرری پر وفاقی حکومت کے ساتھ تناو پیدا ہو گیا اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس بے نتیجہ ختم ہوئے۔ اس کے بعد وزیر قانون اعظم تارڑ کو جسٹس عمر عطا بندیال اور اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑ گیا۔ پھر دیکھا گیا کہ جنرل باجوہ کی مداخلت سے جسٹس عمر عطا بندیال کی مرضی کے ججز کی سپریم کورٹ میں تقرری ہوئی۔ اب اعظم تارڑ بھی واپس آگئے ہیں اور جسٹس بندیال کی پالیسی میں بھی کچھ تبدیلی نظر آرہی ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عدلیہ کی پالیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ چلے گی۔
مزمل سہر وردی کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے ہمارے ججز پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھاتے ہیں، آمروں کو آئین میں ترمیم کا حق بھی دیتے ہیں، مارشل لاء کی حمایت بھی کرتے ہیں اور اس کے جواز بھی پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا عدلیہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی نئی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کے تحت ہی چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے شہبازشریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعوے میں دفاع کا حق ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی جس کے بعد ایسا نظر آرہا ہے کہ شہباز کپتان کے خلاف یہ کیس جیت جائیں گے۔ عمران خان کی اپیل پر سماعت کے لئے جو بنچ بنا اس میں معروف عمرانڈو جج جسٹس اعجاز الاحسن کو شامل نہیں کیا گیا تھا جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ انکے ساتھیوں ججوں میں جسٹس امین اور جسٹس عائشہ اے ملک شامل تھے۔ عمومی رائے یہ ہے کہ اگر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہوتے تو عمران کو ریلیف مل جاتا۔ یہ بھی کہا جا رہا یے کہ اگر عمران کے خلاف دائر کیسز میں اعجاز الاحسن بینچوں کا حصہ نہیں ہوں گے تو عدلیہ کی پالیسی میں تبدیلی نظر آئے گی۔ ایسے میں عمومی رائے یہی ہے کہ عمران خان اپنے خلاف زیر سماعت کیسز میں عدلیہ کے نیوٹرل ہوجانے کی بناء پر نااہل ہونے جا رہے ہیں کیونکہ انہیں مسلسل نااہلی سے بچانے والے جنرل باجوہ اور جنرل فیض اب گھر جا چکے ہیں۔
