ٹی ٹی پی خودکش بمبار پارا چنار سے اسلام آباد کیسے پہنچا

پچھلے دنوں اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے تلاشی کے دوران خود کش دھماکہ کرنے والا تحریک طالبان کا بمبار کرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار سے دارالحکومت پہنچا تھا اور اس کا ٹارگٹ ایک شیعہ امام بارگاہ تھی۔ حملہ آور اور اس کے ساتھی راولپنڈی میں پیر ودھائی اور سبزی منڈی کے علاقوں میں ٹھہرے تھے۔ ایجنسیز کی جانب سے کی جانے والی جیو فینسنگ کے ذریعے دہشت گردوں کے باہمی رابطوں کا پتہ لگایا گیا۔ اب تک خود کش بمبار کے ہینڈلر سمیت پانچ دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد کرم ایجنسی سے سفر کرنے کے بعد راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے تھے جس کے بعد ان کے ہینڈلر نے خود کش بمبار کو اسلام آباد پہنچایا۔ تاہم خوش قسمتی سے جب بمبار اپنے ٹارگٹ کی جانب بڑھ رہا تھا تو پولیس والوں نے اسے روک لیا اور یوں اسلام آباد ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔
اگرچہ تحریک طالبان نے اسلام آباد میں خود کش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے لیکن اس منصوبے میں ایک سے زیادہ پڑوسی ممالک کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے اور بھارت اور افغانستان کا نام لیا جا رہا ہے۔ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ جیسے وسائل دہشت گردوں کو فراہم کیے گئے۔ وہ کوئی لوکل گروپ یا کسی دہشت گرد تنظیم کا انفرادی عمل نہیں ہوسکتا۔ ذرائع کے مطابق یہ درست نہیں کہ گاڑی بارود سے بھری ہوئی تھی۔ خودکش حملہ آور گاڑی میں سوار تھا جس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی اور تلاشی کے دوران دھماکا کر دیا۔ اس ٹیکسی کا ڈرائیور بے قصور تھا جسے راولپنڈی میں پیر ودھائی کے علاقے سے ہائر کیا گیا تھا۔ حملہ آور کی رہائش بھی پیر ودھائی اور سبزی منڈی اسلام آباد کے ایریا میں تھی۔ چونکہ یہ علاقہ بہت زیادہ آبادی پر مشتمل ہے اور اندرون پیر ودھائی چھوٹے چھوٹے مکان آپس میں جڑے ہوئے ہیں اس لیے یہاں کسی کا چھپ کر رہنا آسان ہے۔ کچھ برس قبل سبزی منڈی کے علاقے سے کچی آبادی کو ختم کیا گیا تھا، کہ وہاں جرائم پیشہ افراد کی بھرمار تھی۔ یہ جرائم پیشہ اب بھی پنڈی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں موجود ہیں۔ حکومت کے پاس ان کا کافی ڈیٹا موجود ہے۔ اس میں سے جرائم پیشہ افراد کی چھانٹی کی گئی اور ان لائنوں پر بھی تفتیش کی جارہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ جیو فینسنگ کے ذریعے دہشت گردوں کے رابطوں کا علم ہوا۔ بمبار کے سہولت کار پیر ودھائی کے علاقے میں رہائش پذیر تھے جن میں سے پانچ افراد کو اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ طالبان دہشت گرد جیو فینسگ کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی دکھائی دیا لیکن حیران کن طور پر اس کے کسی سے ملنے کے ٹھوس شواہد ابھی تک قانون نافذکرنے والے اداروں کو نہیں مل سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ بنوں اور خیبر پختون کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے اسلام آباد سیکورٹی ہائی الرٹ پر تھا اس لیے دہشت گرد اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکا اور پہلے ہی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ بمبار اسلام آباد کی ریڈ زون تک پہنچ جاتا اور خود کش دھماکہ کر دیتا تو بین الاقوامی طور پر پاکستان پر بہت برے اثرات پڑتے۔ اسوقت اسلام آباد کی سیکورٹی ریڈ الرٹ پر ہے اور امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے حفاظتی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔
