باجوہ اور ترین سے عمران کی احسان فراموشی کی داستان

سابق وزیراعظم عمران خان نے سیاسی سفر کے دوران اپنے ہر محسن کے ساتھ احسان فراموشی کی ہے جس کی دو بڑی مثالیں جنرل قمر باجوہ اور جہانگیر خان ترین ہیں جنہوں نے موصوف کو وزارت عظمی کے عہدے تک پہنچانے کے لیے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ جہانگیر ترین کا پتہ تو خان صاحب نے اپنی وزارت عظمی کے دوران ہی صاف کر دیا تھا لیکن جنرل باجوہ کی اصل باری ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئی ہے۔ آج عمران اپنے عسکری محسن سابق آرمی چیف کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو وہ اپنے سویلین محسن جہانگیر ترین کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں سلیم صافی بتاتے ہیں کہ سینئر صحافی جاوید چوہدری نے جنرل(ر) قمر باجوہ کے ساتھ ملاقات کے بعد کچھ اہم ترین رازوں سے پردہ اُٹھایا ہے جن میں سے ایک جہانگیر ترین کو بیلنسگ ایکٹ کے طور پر نااہل کرنے کا ہے۔ ان کے مطابق اثاثہ جات کیس میں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی سے بچنے کے لیے جہانگیر ترین اور عمران خان آرمی چیف جنرل باجوہ کے پاس گئے، انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے فیض حمید کی ڈیوٹی لگائی، تب کے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جینس میجر جنرل فیض حمید نے ثاقب نثار سے معاملہ طے کرنے کے بعد دو سینئر وکلا کو کیس کا فیصلہ لکھنے کے لیے کہا جو بعد میں دسمبر 2017 میں ثاقب نثار نے پڑھ کر سنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیصلہ سنانے والے بینچ میں جسٹس فیصل عرب کے علاوہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی شامل تھے۔ تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا کہ عمران خان کے خلاف حنیف عباسی کی جانب سے دائر کردہ اثاثے چھپانے کے الزام میں وزن نہیں اور وہ صادق اور امین قرار دیئے جاتے ہیں، دوسری جانب اثاثے چھپانے کے الزام پر جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا گیا اور وہ آج دن تک سیاسی میدان سے باہر بیٹھے ہیں۔
جاوید چوہدری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعد ازاں جب جہانگیر ترین نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن دائر کر کے اپنے خلاف ہونے والے فیصلے کو ریورس کروانے کی کوشش کی تو عمران خان نے انکی پس پردہ مخالفت کی۔ عمران کے سابقہ ساتھی عون چودھری تو یہ الزام عائد کیا ہے کہ عمران نے ثاقب نثار کو رابطہ کرکے پیغام دیا کہ ترین کو کسی بھی صورت اہل قرار نہیں دیا جانا چاہئے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ بیلنسنگ ایکٹ کے طور پر جہانگیر ترین کو نااہل اور عمران کو اہل قرار دینے کی کہانی سو فی صد درست اس لئے ہے کہ جہانگیر ترین زندہ ہیں اور ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ میں نے ان کی نااہلی سے دس دن قبل انہیں جنرل باجوہ کی موجودگی میں اس منصوبے سے خبردار کر دیا تھا۔
اسی طرح میں جون 2020 میں ساری تفصیل لکھ چکا ہوں کہ انہیں زلفی بخاری کی سازش اور مرشَد کے حکم پر نکالا گیا۔ ”پی ٹی آئی سے میرا زیادہ اختلاف جہانگیر ترین اور اُن جیسے لوگوں کو پارٹی میں لانے اور پھر جہانگیر ترین ہی کو طاقتور ترین بنانے پر ہوا۔ یوں اس جماعت کے اندر پچھلے برسوں میں اگر میں نے کسی شخص پر سب سے زیادہ تنقید کی تو وہ جہانگیر ترین ہی تھے، تاہم یہ اُن کا کمال ہے کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں میں انہوں نے مجھ سے تعلق منقطع کیا اور نہ ملتے وقت عزت دینے میں کوئی کمی کی۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ انہوں نے 24 جون 2020 کو روزنامہ جنگ میں ایک کالم بعنوان ”جہانگیر ترین۔ تین واقعات“ لکھا تھا۔ اس تحریر میں بتایا گیا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری دنوں میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کوئٹہ میں سی پیک کے حوالے سے کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور کئی سیاسی رہنمائوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ میں بھی اس میں بطور مقرر مدعو تھا لیکن اِن دنوں کابل میں تھا۔وقت اتنا کم تھا کہ میں اگر اسلام آباد بذریعہ ہوائی جہاز آتا تو کوئٹہ بروقت کانفرنس کے لئے نہیں پہنچ سکتا تھا۔ دوسری طرف عاصم باجوہ کی تاکید ایسی تھی کہ انکار بھی ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ میں قندھار تک ہوائی جہاز میں اور وہاں سے بذریعہ سڑک براستہ چمن، کوئٹہ پہنچا۔ رات کو عاصم سلیم باجوہ کے عشائیے میں جنرل باجوہ، جہانگیر ترین اور کئی دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے۔ میرے قندھار سے بذریعہ سڑک کوئٹہ آنے کے ایڈونچر کا آرمی چیف کو بھی علم تھا۔
انہوں نے مجھ سے کہا کہ صافی! سنا ہے آپ نے بڑا ایڈونچر کیا۔ میں نے جواب میں عرض کیا کہ سر! قندھار سے کوئٹہ کیلئے فلائٹ ہے نہیں اور میں کوئی عمران خان نہیں کہ جہانگیر ترین کے اسپیشل جہاز میں آتا۔اس پر ساتھ کھڑے جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ میرا جہاز آپ کیلئے بھی ہر وقت حاضر ہے۔ سلیم صافی نے بتایا کہ میں نے جہانگیر ترین سے عرض کیا کہ مستقبل کا حکمراں سمجھ کر اس محفل میں لوگ آپ کے آگے پیچھے ہورہے ہیں لیکن میرا اندازہ تو یہ ہے کہ بیلنس کرنے کیلئے آپ کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے اور آپ کے پیارے لیڈر بھی آن بورڈ نظر آتے ہیں۔ جہانگیر ترین یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔
انہوں نے جواب میں کہا صافی بھائی! آپ خواہ مخواہ خان صاحب کے بارے میں بدگمان ہیں۔ وہ اپنی نااہلی گوارا کر لیں گے لیکن میری نہیں کریں گے۔ بہرحال ترین کی نااہلی کے بعد جب ہماری ملاقات ہوئی تو کوئٹہ کی محفل کا ذکر آیا۔ ترین کہنے لگے کہ صافی بھائی! آپ کا اندازہ ٹھیک تھا لیکن میں اعتماد میں مارا گیا۔ صافی کہتے ہیں کی وزیر مشیر بن کر آج جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، ان میں سے کئی ایک کو میں نے جہانگیر ترین کے دولت کدے پر تحائف اور سفارشوں کے ساتھ گھنٹوں انتظار کرتے دیکھا ہے۔ سیاسی لوگوں کو تو چھوڑیں موجودہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے بھی عمران تک پہنچنے کیلئے ترین کا روٹ ہی استعمال کیا تھا۔
جہانگیر ترین اور عمران خان کے ساتھ ڈائریکٹ ہوجانے کے بعد اعظم خان وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور ترین ہی کے گھر پر خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے الٹا خان اور ترین کو ان کی رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔ جہانگیر ترین بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ خاتونِ اول بشری بی بی، انکے مرید زلفی بخاری، اسد عمر، علی زیدی اور اعظم خان نے مل کر کیا لیکن نام صرف اعظم خان کا لیتے ہیں۔ اب تو عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے بھی ان باتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
