اب فیض ہو یا عمران، کوئی بھی نہیں بچے گا؟

پاکستانی فوج کے ترجمان اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری کی انکشافات سے بھرپور پریس کانفرنس سیاسی سطح پر ملک کے طول و عرض میں زیر بحث ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوگا جبکہ عدالتوں کی آزمائش بھی بڑھ جائے گی۔ سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران اور سہولتکاروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہو گی۔ سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز میں چاہے عمران خان شامل ہو یا جنرل فیض حمید۔۔۔اس احتسابی عمل سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ سختیوں کا یہ وقت بھی گزر جائے گا کیونکہ پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کو طول نہیں دیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اس پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ نو مئی کے واقعات کی تفتیش کے بعد لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین سینیئر افسران کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے تطہیر کے اس عمل کو ادارے کی خود احتسابی کا نام دیا۔ پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ کے سربراہ نے نو مئی کے واقعات کو ایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں سے پہلے ایک فوج مخالف بیانیہ تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ داخلی تفتیش کے بعد تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت کئی افسران اور افراد کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی۔

پاکستان میں ملٹری کورٹس کی مخالفت بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے کہا کہ 17 ایسی عدالتیں ملک میں موجود ہیں، جن میں 102 شرپسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ فوجی عدالتیں بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔مبصرین کا خیال ہے کہ اس پریس کانفرنس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں کیونکہ اس میں پاکستان تحریک انصاف اور عدلیہ کے حوالے سے کئی اشارے دیے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے بعد اس کے خلاف سختیاں مزید بڑھیں گی۔ پارٹی کی ایک رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ”ہمارے دس ہزار سے زیادہ کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 50 خواتین بھی شامل ہیں۔ آج کی پریس کانفرنس سے یہ لگتا ہے کہ اب حکومت جہاں چاہے گی، وہاں ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔‘‘اس خاتون رہنما کا دعویٰ تھا کہ پارٹی پر جبر کا دور مسلط کر دیا گیا ہے۔ ”اگر ہم کچھ بولتے ہیں، تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ ہومیوپیتھ بن جائیں، یعنی آپ کسی بھی ظلم و زیادتی کے خلاف بالکل آواز نہ اٹھائیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جبر کب تک جاری رہے گا؟ وقت ہمیشہ تو ایک جیسا نہیں رہتا۔‘‘

پاکستان میں کئی مہینوں سے پی ٹی آئی پر پابندیوں کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ کراچی سے سیاسی مبصر ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس عدلیہ اور پی ٹی آئی کے لیے واضح پیغام ہے۔ انہوں نے بتایا، ”ایسا لگتا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کسی حد تک بھی چلی جائے گی، جس میں عمران خان کو نااہل قرار دینا اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘‘ڈاکٹر توصیف احمد خان کا دعویٰ ہے کہ آج کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ میں چلنے والے اس مقدمے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جو فوجی عدالتوں سے متعلق ہیں۔ ”ظاہر ہے کہ اس پریس کانفرنس میں فوجی عدالتوں کا دفاع کیا گیا ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کے لیے بڑا مشکل ہو جائے گا کہ وہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے خلاف کوئی فیصلہ دے۔‘‘

واضح رہے کہ عدالتوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے نو مئی کے بعد بھی تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماؤں کو مقدمات میں ریلیف دیا۔ تجزیہ نگار ایوب ملک کا کہنا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کے بعد صورت حال تبدیل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ”اب ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان کو ضمانت بھی آسانی سے نہیں ملے گی اور جو گرفتار ہوئے ہیں، ان کو سزائیں بھی سنائی جائیں گی اور ممکنہ طور پر کئی کارکنان کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید نے پی ٹی آئی کی ماضی میں بہت سپورٹ کی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما محمد جلال الدین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ چاہے جنرل فیض ہوں یا عمران خان، جس کا بھی نو مئی کے واقعات سے کوئی تعلق ثابت ہوا، ”وہ نہیں بچے گا۔‘‘انہوں نے مزید بتایا، ”پی ٹی آئی نے سکیورٹی اداروں پر حملہ کیا، جسے عوامی ردعمل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ حملے بنوں، مردان، پشاور، کراچی، لاہور اور ملک کے مختلف شہروں میں بیک وقت ہوئے، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے وہ رہنما جو پی ٹی آئی کو چھوڑ دیتے ہیں، ان کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن محمد جلال الدین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اب رعایت کسی کو نہیں ملے گی۔ ”اگر ضمانت پر رہا کیے گئے رہنماؤں کا بھی نو مئی کے واقعات سے تعلق ثابت ہوا، تو انہیں دوبارہ گرفتار کیا جائے گا اور ان پر بھی مقدمات چلائے جائیں گے۔‘‘

خیال رہے کہ اس سال نو مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ ان کی جماعت حقیقی معنوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ لیکن کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ان واقعات کے بعد غیرجمہوری قوتوں کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایوب ملک کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے جمہوری قوتوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔انہوں نے کہا، ”نو مئی کے واقعات سے پاکستان میں جمہوری اور سیاسی ارتقا پر ضرب لگی ہے۔ پی ٹی آئی نے فوجی تنصیبات پر حملے کر کے غیر جمہوری قوتوں کو ایک بار پھر غالب آ جانے کی دعوت دی اور اب ایک طویل عرصے تک غیر جمہوری قوتوں کے خلاف لڑنا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں رہے گی۔‘‘

Back to top button