عمران خان کو ریڈ لائن کراس کرنا کیسے بھگتنا پڑا؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ کچھ عرصے سے پاکستان کے متعدد نہایت اہم معاملات الجھن کا شکار رہے ہیں۔چاہے معیشت کے مسئلے ہوں یا الیکشن ہو یا نواز شریف کی واپسی، عمران یا نو مئی کے سنگین واقعات اور ان سے جڑے فوجی یا سول کارروائی کے سوال یا فوج کے اندر کی خود احتسابی۔۔۔اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کا مزید کہنا ہے کہ بہت سے اہم سوالوں کے جواب اب سامنے آ چکے ہیں۔ نو مئی میں ملوث شہریوں کا ملٹری ٹرائل ہو رہا ہے۔خود احتسابی میں تین جرنیل فارغ کیے گئے اور 13 کی انکوائری ہو رہی ہے۔نو مئی کی منصوبہ سازی اور سہولت کاری میں ملوث لوگوں کی پکڑ اور تلاش جاری ہے۔سیاسی سٹیک ہولڈر اور حقیقی سیاسی جماعتیں کو مل کر فیصلے کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
نسیم زہر کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے سمجھوتہ اب ہو ہی گیا ہے۔نواز شریف کی نا اہلی ختم اور واپسی جلد ہے۔انتخاب کی تاریخ اب نومبر یا مارچ میں یقینی ہے۔دبئی میں بڑی جماعتوں کے الیکشن اور عبوری فیصلے متوقع ہیں۔عمران خان کی سیاسی اننگز کے خاتمے کی باتیں اور اقدام بھی ہو رہے ہیں۔بہت سے عہدیداروں سے پارٹی چھڑوائی گئی اور اس میں کوئی شک نہیں۔یہ اہم معاملات ضرور ہیں لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو پھر پرانے کنٹرول کے ناکام طریقوں سے چلانا ہے یا آئین اور قانون کے تحت۔ سب سے بڑا سوال بس ایک ہی ہے۔
نسیم زہرہ کا مزید کہنا ہے کہ نیت چاہے جتنی بھی نیک ہو۔ قدرت کے قوانین انسان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے نظام سے انحراف شاذ و نادر ہی کرنے دیتے ہیں۔انسانی فطرت کے اصول ہیں، آپ انسان کے دل اور دماغ کسی طرف لگانا چاہیں، آپ اس میں کوئی سوچ بسانا چاہیں تو کہانی کے زور سے، بیان کے زور سے، ایک سیاق و سباق پیدا کر کے ایک بظاہر منطقی جواز پیدا کر سکتے ہیں-اب وہ ’کہانی‘ جب آپ کے پاس طاقت ہو، وسائل ہوں اور لوگوں میں بہتری کا لالچ بھی ہو اور لگن بھی ہو تو پھر کہانی بنانے کا اور لوگو ں سے منوانے کا معاملہ، بظاہر آسان ہی دکھائی دیتا ہے۔لیکن کہانی بنانے اور پھیلانے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کس حد تک کہانی کا سحر لوگوں پر قائم رکھا جا سکتا ہے؟ اس کا تو انحصار لا تعداد عناصر پر ہوتا ہے جوُ کسی کے بس میں نہیں۔ان عناصر کا تعلق انسانوں کی سوچ سے، اجتماعی اور انفرادی رد عمل سے اور پھر آپ کی بنائی ہوئی کہانی کے کردار کس سمت جائیں وہ بھی آپ کے بس میں نہیں
نسیم زہرہ کا مزید کہنا ہے کہ آپ کہانی کے، کسی سسٹم کے، کسی تکنیکی ایجاد کے ہی موجد کیوں نہ ہوں، ایک حد پار کر کےمعاملات پر قابو آپ کے کنٹرول میں کبھی نہیں رہ سکتا۔اسی طرح معاملات میں بگاڑپیدا ہوتا ہے۔
