احتساب عدالت کو آصف زرداری پر فرد جرم عائد کرنے سے روکا۔کیوں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روکا۔کیوں۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے خلاف حکم امتناع جاری۔
احتساب عدالت جمعرات کو (آج) مذکورہ ریفرنس میں آصف زرداری اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے والی تھی۔
آصف زرداری کے وکیل ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا ریفرنس خود متضاد ہے اور بیورو نے سابق صدر پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سابق صدر پر الزماات عائد کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیس دو فریقین کی نجی ٹرانزیکشن کی بنیاد پر کیا گیا اور آصف زرداری کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پی پی پی رہنما نے کچھ جائیداد قانونی طریقے سے خریدی تھی اور یہ ایک نجی کاروباری سودا تھا۔
کہ نیب کے پاس سابق صدر کو کیس میں ملوث کرنے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا ۔ نیب قانون سے متعلق نافذ ہونے والے صدارتی آرڈیننس کے بعد بیورو نجی لین دین کے معاملات میں کارروائی نہیں کرسکتا۔
عدالت نے نیب کو 4 نومبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے اس وقت تک کے لیے حکم امتناع جاری۔
