احمد فراز کو کس وجہ سے جلاوطن ہونا پڑا تھا؟

احمد فراز کے نام سے معروف سید احمد شاہ مرحوم کے مقربین مانتے ہیں کہ فراز نے حکومت کی نوکری کرنے کے باوجود سرکار کی چاپلوسی نہیں کی، اور اسی وجہ سے انھیں جلا وطن بھی ہونا پڑا تاہم فراز کی مزاحمتی شاعری آج بھی باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں آنکھ کھولنے والے احمد فراز جنھوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی شاعری کے زمانہ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردار کے خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دور کے خلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لیے جس کے بعد احمد فراز کو خود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنی پڑی۔
2004 میں فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے یہ تمغا سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا تھا۔ احمد فراز کو ہم سے بچھڑے ہوئے برسوں بیت گئے ہیں لیکن فراز کی یادیں اب بھی ان کے بچوں اور ساتھیوں کی دلوں میں تازہ ہیں۔
شبلی فراز کے بقول احمد فراز نے بھرپور زندگی گزاری، وہ خوش لباس تھے اور بڑھی ہوئی شیو اور میلے کپڑوں والے شاعروں کے اس تصور سے بہت دور تھے۔وہ ایک پریکٹیکل انسان تھے، ہم نے کبھی ان کو بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ نہیں دیکھا تھا۔ شبلی فراز کے مطابق ان کے والد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ بیٹا، جس شعبے میں بھی جاؤ، اپنا نام بناؤ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم ان کے نام سے نہیں بلکہ اپنے نام سے پہچانے جائیں۔
شبلی فراز کے مطابق ان کے والد بےخوف اور نڈر شخص تھے، شبلی فراز کہتے ہیں کہ ’میں نے کبھی اپنے والد کو گھبرایا ہوا نہیں دیکھا۔ ان کی جو سوچ تھی، وہ جو سمجھتے تھے، وہی کرتے تھے۔ انھیں اپنے آپ پر پورا بھروسہ تھا۔ ان کو کئی مرتبہ پریشانی بھی ہوئی، تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ احمد فراز کے حوالے سے معروف ادیبہ کشور ناہید بتاتی ہیں کہ جب فراز وارد ہوتے تو ان کے لاہور کے باقی دوست بھی آ جاتے تھے۔
ان ملاقاتوں میں سنجیدہ باتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ وہ مذاق بھی کرتا تھا اور قصہ گوئی بھی۔ مذاق میں فراز کا کوئی ثانی نہیں تھا، کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔کشور کے بقول حبیب جالب کی احمد فراز سے بڑی بنتی تھی۔ دونوں فقرے بازی کرتے تھے۔ تاش کھیلنے بیٹھتے تو لاکھوں ہار جاتے اور پھر جیت بھی لیتے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے پتے بھی دیکھتے تھے۔
فراز کے ساتھی حسن عباس رضا بتاتے ہیں کہ ایک دن فلم اداکارہ بابرہ شریف ان سے ملنے آئیں۔ فراز صاحب نے مجھے بھی بلا لیا۔ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو بابرہ شریف نے فراز صاحب سے کہا کہ آپ کا آٹو گراف لینا ہے لیکن میرے پاس بک نہیں ہے، تو آپ ہاتھ پر آٹو گراف دے دیجئے۔ اس پر فراز صاحب نے کہا ہاتھ پر نہیں، میں تو گال پر دوں گا۔ اس پر بابرہ شریف اور فراز صاحب دونوں ہنس دیئے۔
شاعر اور سماجی کارکن حارث خلیق کے مطابق فراز کی شاعری میں ایک ارتقا دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق فراز نے اساتذہ سے بہت اکتساب کیا جس کی جھلک ان کے ہاں آپ کو جا بجا نظر آتی ہے۔ میر سے لے کر غالب اور اس کے بعد فیض، راشد اور جوش ملیح آبادی، ان سب کا فراز صاحب کے ہاں عکس نظر آتا ہے، وہ روایت سے جڑے شاعر تھے، حارث کے مطابق مزاحمتی شاعری کی طرف ان کا رجحان پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے بڑھا اور وہ ایک رومانوی شاعر سے انقلابی شاعر بنے۔ اردو شاعری اور ترقی پسند تحریک میں رومان اور انقلاب کا امتزاج ہوا اور لوگوں نے انقلاب کو اپنے محبوب کی طرح سے دیکھنا شروع کیا۔ میرے خیال میں فراز بھی اسی روایت کے شاعر تھے۔
کراچی کے ایک مشاعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کشور ناہید بتاتی ہیں کہ مشاعرہ ہو رہا تھا اور احمد فراز نے وہاں پر اپنی نظمیں پڑھیں۔ مشاعرہ صبح کے وقت ہو رہا تھا۔ جب تقریب ختم ہوئی تو پولیس آئی اور فراز کو کراچی چھوڑنے کا کہا۔ اگلے روز ہی انھیں کراچی سے روانہ کر دیا گیا۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہ بہت بددل ہوئے اور اس وقت انھوں نے اس وقت محاصرہ لکھی۔ اس کے بعد وہ چھ سال تک ملک بدر رہے۔
کشور ناہید کے مطابق ملک بدری کے دوران لندن قیام میں انھوں نے کئی غیر ملکی شعرا کے ترجمے کیے۔ اس طرح ان کے کینوس میں بھی وسعت آئی۔ ان کے مطابق اس زمانے میں فراز اردو کے سب سے مشہور شاعر تھے۔ فراز نے سرکار کی نوکری کرنے کے باوجود سرکار کی چاپلوسی نہیں کی، اسی وجہ سے انھیں جلا وطن رہنا پڑا۔ دوسری بات یہ ہے کہ فراز نے چمچہ گیری بھی کبھی نہیں کی۔ اپنے والد کے آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے شبلی فراز بتاتے ہیں کہ فراز ویزے کے سلسلے میں کینیڈا کے سفارت خانے گئے تھے اور پارکنگ میں لڑکھڑا کر گر گئے، جس سے ان کے گھٹنے اور سر پر چوٹیں آئیں۔
ان کے مطابق گھٹنے پر لگنے والا زخم زیادہ شدید تھا جس میں انفیکشن ہو گیا۔ اس کے بعد انھیں دل کا دورہ بھی پڑا۔ سچ کہوں تو میری ان سے آخری بات نہ ہوسکی۔ میں جب پہنچا تو ان کو آکسیجن لگی ہوئی تھی۔ شبلی فراز کے مطابق انھیں اتنا معلوم تھا کہ فراز اپنے آخری دن پاکستان میں گزارنا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ انھیں اپنے ساتھ واپس لے آئے۔ اپنی زندگی کے آخری 24 دن انھوں نے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں گزارے اور بالآخر 25 اگست 2008 کو 77 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
