اختر مینگل کے جانے سے کپتان کا اقتدارخطرات سے دوچار


تحریک انصاف حکومت کے کلیدی اتحادی سردار اختر مینگل کی جانب سے علیحدگی کے اعلان کے بعد حکومت قومی اسمبلی میں بی این پی کے 4 اراکین کی حمایت سے محروم ہو گئی ہے اور تحریک عدم اعتماد کی صورت میں عمران خان کیلئے اپنی حکومت بچانا تقریباً ناممکن ہوگا۔
یاد رہے کہہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد سکڑ کر 155 ہے اور عمران خان اس وقت اتحادی جماعتوں کے 25 مستعار ووٹوں کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے پر موجود ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں وزیراعظم کو اپنی جماعت کے تمام 155 اراکین کے علاوہ کم از کم 17 اتحادی اراکین کے ووٹ بھی درکار ہیں۔ چونکہ قومی اسمبلی میں چار نشستیں رکھنے والی اتحادی جماعت بی این پی مینگل نے تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اس لئے تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں عمران خان وزیراعظم رہیں گے اور نہ ہی حکومت اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی۔
واضح رہے کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف نے 158 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ضمنی انتخابات میں نشستیں ہارنے کے بعد یہ تعداد سکڑ کر 155 رہ گئی تھی۔ تحریک انصاف نے اگست 2018 میں سات جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے اپنی حکومت قائم کی تو اسے 26 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کے حوالے سے یہ بات پہلے دن سے کہی جا رہی تھی کہ اگر مستقبل میں متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ ق، بی این پی مینگل یا بلوچستان عوامی پارٹی میں سے کوئی ایک یا دو جماعتیں حکومتی اتحاد سے نکل گئیں تو نہ عمران خان کے لئے وزیراعظم رہنا ممکن ہوگا اور نہ ہی تحریک انصاف کی حکومت بچ پائے گی۔ سردار اختر جان مینگل کی جانب سے 17 جون 2020 کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی اتحاد سے نکل جانے کے دبنگ اعلان نے تحریک انصاف حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔
واضح رہے کہ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف اور بی این پی مینگل میں ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس میں دونوں فریقین نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے تھے۔ جس کے تحت بی این پی مینگل کے اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات کے لیے حکومت کی حمایت کی تھی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے جن چھ شرائط کی بنیاد پر تحریک انصاف کے ساتھ چلنے کا معاہدہ کیا تھا ان میں سے 95 فیصد پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے سردار اختر مینگل کپتان اینڈ کمپنی سے سخت ناراض تھے اور بارہا حکومت سے الگ ہونے کا اشارہ دیتے رہے۔
سردار اختر مینگل اکثر ببانگِ دہل یہ کہتے رہے کہ بندوق کی نوک پر کسی بلوچی کو پاکستانی نہیں بنایا جا سکتا، موجودہ حکومت نے بھی بلوچیوں کی محرومیوں میں اضافہ کرتے ہوئے بلوچستان کو بندوقوں اور توپوں کی نظر کر دیا ہے۔ جس حکومت میں ہماری عزتیں محفوظ نہیں اس کے ساتھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، ناموس کی خاطر حکومتی اتحاد سے دستبرداری کو تیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈکٹیٹر مشرف نے پرامن بلوچستان کو آتش فشاں میں تبدیل کیا، بے گناہ ہزاروں لوگوں کو قتل اور پابند سلاسل کیا جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہمارے بزرگوں اور نوجوانوں کے بعد ہماری خواتین پر بھی بغاوت اور دہشتگردی کے ٹھپے لگا دئیے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام حکومتوں نے بلوچوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا، جس سے ان کی محرومیوں میں اضافہ ہوا۔ یہاں ملک کاآئین توڑنے والوں کو گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت طاقت کے زور پرآئین توڑنے والے ہزاروں لوگوں کے قاتل مشرف کو ریلیف دے سسکتی ہے تو بلوچوں کو بھی انصاف ملنا چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی پارلیمنٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے چند منٹوں میں قانون سازی کر سکتی ہے تو بلوچوں کو ان کے جائز حقوق دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ سردار اختر مینگل بھی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ عمران خان کی حمایت کرنے پر بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں تھے۔ تاہم 17 جون کو قومی اسمبلی کے فلور پر سردار اختر مینگل کی جانب سے تحریک انصاف کی مرکزی حکومت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد حکومتی کیمپ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے بی این پی کو کیسے راضی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی سیاسی بقا کا سوال ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button