اداکارہ ہیڈی لمار ’’وائی فائی‘‘ کی موجد کیسے بنیں؟

موجودہ دور کی برق رفتار زندگی کو جام کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ’’وائی فائی‘‘ دوسری جنگ عظیم کے دوران شروع ہونے والی ایجادات کا سلسلہ ہے، جس وائر لیس نیٹ ورک کے بغیر ای میل بھیجنے سے لے کر نیٹ فلکس دیکھنے تک کوئی کام نہیں ہو سکتا، اس کی موجد ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ ہیڈی لمار تھیں۔9 نومبر 1914 کو آسٹریا کے شہر ویانا میں پیدا ہونے والی اداکارہ کو ایک وقت میں دنیا کی خوبصورت ترین عورت کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا، انہوں نے 1930 سے لے کر 1958 کے درمیان بے شمار فلموں میں کام کیا جس میں1949 میں ریلیز ہونے والی ’’سیمسن اینڈ ڈیلائیلا‘‘ ان کی سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ایک کامیاب اداکارہ کے ساتھ ساتھ وہ ایک قابل موجد بھی تھیں جنہوں نے ٹریفک سگنل میں بہتری کیلئے کام کیا۔ہیڈی لمار نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ساتھی موجد جارج اینتھائل کے ساتھ مل کر اتحادی فوج کے لیے ایک ایسا ریڈیو گائیڈنس سسٹم تخلیق کیا تھا، دوسری جنگ عظیم کے دوران تو ان کا یہ گائیڈنس سسٹم استعمال نہیں ہوسکا البتہ 1962 میں کیوبن میزائل بحران کے دوران اس کے اپڈیٹڈ ورژن کو کام میں لایا گیا۔ 1942 میں متعارف ہونے والے اس ‘سیکریٹ کمیونی کیشن سسٹم’ کی وجہ سے ہیڈی لمار اور جارج اینتھائل کو 2014 میں نیشنل انوینٹرز کے لیے مختص ’’ہال آف فیم‘‘ میں جگہ دی گئی۔اس طرح ہیڈی لمار دنیا کی وہ واحد اداکارہ بنی جو ہالی وڈ ’’والک آف فیم‘‘ کے ساتھ سائنس دانوں کے ’’ہال آف فیم‘‘ میں بھی موجود ہیں۔ 19 جنوری 2000 کو وفات پانے والی اداکارہ کی ایجاد آج بھی دنیا بھر میں اربوں افراد کے کام آ رہی ہے۔1914 میں ویانا میں پیدا ہونے والی ہیڈویگ ایوا ماریہ کیسلر کو بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا۔ 12 سال کی عمر میں ایک مقامی مقابلہ حسن جیتنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا اور 1930 میں بننے والی آسٹرین جرمن فلم ‘منی آن دی اسٹریٹ’ سے اپنا کریئر شروع کیا۔ فلموں سے دوری انہیں اپنے شوہر کے بزنس سے قریب لے آئی جو ملٹری کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔ لمار میں اپلائیڈ سائنس کا شوق یہاں سے پیدا ہوا جو آگے جاکر انہیں موجد بنانے میں اہم ثابت ہوا۔اپنے کرئیر کے دوران ہیڈی لمار نے اسپینسر ٹریسی، کلارک گیبل، جیمز اسٹورٹ اور ولیم پاول جیسے نامور اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ آج ان کی فلموں سے زیادہ ان کی سائنسی خدمات کی وجہ سے انہیں یاد کیا جاتا ہے جس میں ایک ایسا سسٹم تخلیق کرنا شامل ہے جس کے بغیر انٹرنیٹ، بلیو ٹوتھ اور وائی فائی کا قیام بھی مشکل ہے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران جس طرح متعدد مرد اداکاروں نے فوج میں شمولیت اختیار کر کے ملک کی خدمت کی ویسے ہی ہیڈی لمار نے ایجادات کرکے اپنا حصہ ڈالا۔نو نومبر کو ان کی سالگرہ کے دن کو ان کے آبائی ملک آسٹریا، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں بطور انوینٹرز ڈے یعنی موجدوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، ہیڈی لمار نے زندگی میں چھ شادیاں کیں لیکن سب ہی ناکام ہوئیں، بطور اداکارہ بھی انہوں نے کوئی بڑا ایوارڈ نہیں جیتا البتہ انہیں امریکی الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن نے 1997 میں پائی نیئر ایوارڈ سے نوازا تھا، یہی نہیں 2013 میں انسٹی ٹیوٹ آف کوانٹم آپٹکس اینڈ کوانٹم انفارمیشن نے یونیورسٹی آف ویانا میں ایک کوانٹم ٹیلی سکوپ نصب کیا جسے ہیڈی لمار کے نام سے منسوب کر دیا گیا، کہا جاتا ہے کہ مشہور کامک بک کردار کیٹ وومن بھی اداکارہ سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا جبکہ ڈزنی کی اینی میٹڈ فلم سنو وائٹ کے مرکزی کردار میں بھی انہی کی مشابہت نظر آتی ہے۔
