حکومت نے نئے کرنسی نوٹ لانچ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

 ملک بھر میں جعلی نوٹوں کی شکایات پر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک نے پاکستانی نوٹوں کو عالمی سکیورٹی فیچرز کے ساتھ لانچ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور مارچ تک یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ ’نئے نوٹوں کو بین الاقوامی سیکیورٹی فیچرز کے تحت چھاپا جائے گا، نئے نوٹوں کو رنگ، سیریل نمبرز، ڈیزائن اور ہائی سیکیورٹی فیچرز کےساتھ متعارف کرایا جائے گا‘۔

ایکس چینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں جعلی کرنسی ملک کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے. پاکستان سے افغانستان ڈالر کی سمگلنگ کے ساتھ خیبر پختونخواہ میں جعلی کرنسی کی موجودگی حکومتوں کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے، ایسے میں نئے نوٹ جاری ہوں گے تو جعلی کرنسی سے بھی بچا جاسکے گا اور کیش کی صورت میں ہولڈ ہوئے پیسے بھی باہر نکلیں گے۔‘’نئے نوٹ جاری کرتے وقت اگر چیک اینڈ بیلنس اچھا کرلیا جائے تو ملک کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو عالمی سطح پر بھی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کی کرنسی محفوظ ہے۔ اس میں دور جدید کے حساب سے سکیورٹی فیچرز موجود ہیں۔‘

ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا ہے کہ ’کرنسی کو تبدیل کرنے کا یہ وقت درست نہیں ہے۔ الیکشن سر پر ہیں اور ایک نئی حکومت بننے جارہی ہے، ایسے میں یہ اعلان سمجھ سے بالاتر ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے ہے کہ 5 ہزار کا نوٹ بند ہونا چاہیے، یہ نوٹ بلیک منی رکھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہے۔‘شاہد حسن کے مطابق نئے نوٹ متعارف کروانا غلط نہیں ہے لیکن حالات اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف ماہر معیشت ظفر پراچہ نے کہا کہ ’اس فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوگا، درست وقت پر درست فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے بلیک منی بھی باہر آئے گی اور جعلی کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے کیا پاکستان کے معاشی مسائل حل ہوں گے؟، کالا دھن کرنے والوں کو کیا نقصان ہو گا اور کیا بھارت میں کیا گیا ایسا تجربہ کہ جس میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کیے گئے، وہ کامیاب رہا؟

معاشی امور کے ماہر خرم شہزاد نے کہاکہ جب تک 5 ہزار جیسے بڑے کرنسی نوٹ ہیں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانا کوئی نئی چیز نہیں ہو گی، نئے کرنسی نوٹ لانے سے کالے دھن والوں پر کیا اثر پڑے گا یا نہیں یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہو گا۔انہوں نے کہاکہ نئے کرنسی نوٹوں کو نئے سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ لانا ایک اچھا قدم ہوگا۔ جو لوگ کالے دھن سے کیش لے کر اپنے پاس رکھتے ہیں ان کو نئے نوٹ لینے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی، لیکن اگر یہ بڑے نوٹ منسوخ کر دیے جاتے ہیں تو اس سے کالا دھن کرنے والوں کو مشکل ہو گی۔

خرم شہزاد نے کہاکہ ابھی یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ لوگ اس وقت کتنا کیش رکھتے ہیں؟ جب بھی مہنگائی زیادہ ہوتی ہے تو لوگ کیش کو گھر پر رکھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کا پلاٹ لے لیتے ہیں یا گاڑیاں، سونا یا پھر ڈالر لے لیتے ہیں۔ بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کر کے نئے کرنسی نوٹ لائے گئے لیکن وہ تجربہ بھی بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا پرانے نوٹوں کو منسوخ کیا جا رہا ہے یا پھر صرف نئے نوٹ لائے جا رہے ہیں۔

سینیئر صحافی شعیب نظامی نے کہاکہ نئے کرنسی نوٹ لانے کا معیشت کو یہ فائدہ ہو گا کہ حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس کتنا سرمایہ ہے، نئے کرنسی نوٹ لانے سے ان لوگوں کو مشکل ہو گی کہ جن لوگوں کے پاس پرانے نوٹ ہیں، یا جعلی نوٹ ہیں، ان کو بتانا ہو گا کہ نوٹ کہاں سے آئے، عام آدمی کو نئے نوٹ آنے سے اس طرح فائدہ ہو گا کہ جب کالا دھن مارکیٹ میں آئے گا تو خود سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔

Back to top button