اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے سے مسترد

چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل پیش کرنے کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔ سینیٹ میں بل پیش کرنے کی حمایت میں 16 جبکہ مخالفت میں 29 ووٹ پڑے. تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سجاد حسین طوری، یعقوب ناصر، دلاور خان، اشوک کمار اور شمیم آفریدی نے چیرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کے بل ایوان میں پیش کر دئیے۔
سینیٹر نصیب اللہ بازئی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کے سربراہان کی تنخواہ 7 لاکھ روپے سےزائد ہے، چیرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اس موقع پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بل کی مخالفت کی اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ تنخواہوں سے متعلق ریسرچ کی تھی تو معلوم ہوا کہ محتسب اعلیٰ کی تنخواہ 13 سے 14 لاکھ اور سیکریٹری کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ ہے۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ مشکل معاشی صورت حال کے باوجود تنخواہیں کم نہیں ہوئیں، یہ ظلم کا نظام ہے اس پر بحث ہونی چاہیے اور ایسے بلز پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 73 اور 74 کے مطابق مالیاتی بل پہلے قومی اسمبلی میں آنے چاہئیں۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس بل کی ٹائمنگ درست نہیں، ملک اس وقت معاشی مسائل کا شکار ہے، وزیر اعظم نے کفایت شعاری کا آغاز اپنی ذات سے کر لیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ ابھی گزارہ کریں۔ وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافے کی افواہوں پر وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب معاشی حالات ٹھیک ہوں گے تو تنخواہیں بڑھائیں گے، وزیر اعظم نے اپنی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا بلکہ وزیر اعظم نے اپنے خرچے سے بنی گالہ کی سڑک ٹھیک کروائی۔ فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح عیاشی نہیں کی، اسی دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شور بھی کیا گیا۔
اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے تنخواہوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں موجود اکثر اراکین تنخواہوں میں اضافہ چاہتے ہیں، چند لوگ تنخواہوں میں اضافہ چاہتے ہیں لیکن سیاست کررہے ہیں۔ عثمان کاکڑ نے کہا کہ کوشش ہورہی ہے کہ ارکان رشوت لیں، اراکین پارلیمنٹ گریڈ 17 کے افسران سے کم تنخواہ لے رہے ہیں اور بعض لوگ سیاست کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند سیاستدان ارب پتی اور کھرب پتی ہیں، اعظم سواتی جیسے لوگ پوری پارلیمنٹ کو پال سکتے ہیں جبکہ 50 لاکھ اور 60 لاکھ تنخواہ لینے والے اینکرز بھی ہم پر تنقید کررہے ہیں۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجا ظفرالحق نے اپنی پارٹی کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی صورت حال بہتر ہونے تک اضافے کی حمایت نہیں کریں گے، لوگ مہنگائی کی وجہ سے بددعائیں دے رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ لوئر مڈل کلاس خاندان کھانا نہیں کھاپا رہے، زندگی کےنرخ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ موت کا سوا سستا لگا۔ مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں سے متعلق فرق کی پالیسی تبدیل ہونی چاہیے، چھوٹے درجے کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں اور آئندہ بجٹ میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایسی قانون سازی کی جائے کہ نجی شعبے کے ملازمین کو تنخواہیں دی جائے اور میڈیا مالکان سے پوچھنا چاہیے کہ 30 ہزار روپے والے کیمرہ مین کو تنخواہ نہیں دیتے لیکن 50 لاکھ روپے والے اینکروں کو تنخواہ دے دیتے ہیں۔
سینیٹ میں بحث کے بعد بل کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا، بل کے حق 16 اور مخالفت میں 29 ووٹ دیے گئے۔
حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، اور جماعت اسلامی نے تینوں بل کی مخالفت کی۔ تنخواہ میں اضافے کے بل کی حمایت کرنے والی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی، پی کے میپ، جمعیت علمائے اسلام (ف) نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) شامل ہیں۔
سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل سیلریز، الاونسز اینڈ پرویلیجز ترمیمی بل 2020 کی نقول کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 79 ہزار روپے کے برابر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 29 ہزار روپے کے برابر کرنے کی تجویزدی گئی۔سینیٹرز نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ میں ترمیم کرکے اراکین کی تنخواہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز شامل کی تھی۔
مجوزہ بل میں کہا گیا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ کو سفر کے لیے ٹرین کی ایئر کنڈنشنڈ کلاس ٹکٹ کے برابر رقم دی جائے اور جہاز کے بزنس کلاس کے ٹکٹ کے مطابق سفری الاؤنس دیا جائے۔ سینیٹرز نے تجویز پیش کی تھی کہ بذریعہ سڑک سفر کی صورت میں اراکین پارلیمنٹ کو 25 روپے فی کلومیٹر سفری الاؤنس دیا جائے اور بیرون ملک دوروں میں فرسٹ کلاس ایئر ٹکٹ بھی دیا جائے۔ بل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ کو 25 فرسٹ کلاس بزنس ایئر ٹکٹ فراہم کیے جائیں، اندرون ملک سفر کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی اہلیہ، شوہر یا بچے بھی ان ٹکٹوں کو استعمال کر سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button