ارشد شریف قتل کیس میں وقار اور خرم مشکوک قرار

حکومت پاکستان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی کینیا میں سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تفتیش کے دوران خرم احمد اور وقار احمد نامی پاکستانی بھائیوں سے ملنے کو بے تاب ہے جن کا تعلق کراچی کی میمن برادری سے ہے اور ان کے پاس کینیڈا کی نیشنلٹی بھی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق وقار احمد نیروبی میں قائم ایمو ڈمپ لمیٹڈ نامی کمپنی کا مالک ہے جو کینیا میں دفاعی سامان کی سپلائی کرنے والی ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے۔ اس کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور یہ ملٹری سپلائز کے کاروبار سے وابستہ ہے۔
کمنپیوں کی رجسٹریشن جمع کرنے والی ٹریڈ فورڈ نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ کمپنی کینیا میں رجسٹرڈ ہے اور ملٹری سپلائز کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ کمپنی کی تعریف میں ویب سائٹ نے صرف اتنا لکھا ہے کہ یہ ’گورنمنٹ کنٹریکٹ‘ ہے اور رابطے کے کالم میں وقار احمد کا نام لکھا گیا ہے۔ وقار کو ارشد شریف کے قتل کیس میں شامل تفتیش تو کیا گیا ہے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کینین ملٹری اور پولیس کو اپنے شوٹنگ کلب میں نشانہ بازی کی ٹریننگ دلواتے ہیں۔
اس کے علاوہ نیروبی میں اس کمپنی نے ایک انٹرٹینمنٹ کمپلیکس بھی قائم کر رکھا ہے جس میں ایک شوٹنگ رینج بھی موجود ہے جہاں کینیا کی پولیس اور فوج کے اہلکار اپنا نشانہ پکا کرتے ہیں۔وقار کے "لنکڈ ان” پروفائل کے مطابق وہ "ہٹز اینڈ ہومز” کینیا کے آپریشنل ڈائریکٹر ہیں۔ لنکڈ ان پر ان کی تصویر کے ساتھ کمپنی پروفائل بھی تھا جو اب ارشد کے قتل کے بعد ہٹایا جا چکا ہے۔ تفتیش کاروں کو شک ہے کہ اس کمپنی کے پیچھے سرمایہ کاری اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کی ہے لہذا اسی لئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اگلے روز یہ مطالبہ کیا ہے کہ سلمان اقبال کو پاکستان واپس لاکر ارشد شریف قتل کیس میں شامل تفتیش کیا جائے۔
ارشد شریف قتل کیس کی تفتیش کے دوران کینیا کی پولیس نے مقتول کی گاڑی چلانے والے خرم احمد اور ان کے بھائی وقار احمد کو شامل تفتیش کر لیا ہے لیکن ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ تفتیش کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ وقار اور خرم کینیا چھوڑ کر بیرون ملک نکل سکتے ہیں لہذا انہیں حفاظتی تحویل میں لیا جانا ضروری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ارشد نے ایموڈمپ نامی کمپنی کے جس کیمپ میں آخری رات گزاری تھی اسکے مالک وقار کا خاندان کراچی میں رہتا ہے جو اس واقعے کے بعد گھر کو لاک کرکے غائب ہو گیا ہے۔ وقار کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کینیا میں ایک اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال کے مختلف کاروباری پروجیکٹس کا نگران ہے جن میں اسلحہ سپلائی اور سونے کی خریدو فروخت بھی شامل ہے۔ کینیا پولیس کے مطابق وقار احمد کے بھائی خرم احمد وقوعہ کے وقت اس کار کو چلا رہے تھے، جس میں ارشد شریف کو پولیس نے ’غلط شناخت‘ کی وجہ سے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ کینین میڈیا کے مطابق ارشد جس گاڑی میں بیٹھے تھے، اس پر نو گولیاں برسائی گئی تھیں لیکن خرم احمد فائرنگ سے محفوظ رہے۔ ان میں سے دو گولیاں ارشد شریف کے سر اور سینے میں لگیں جن سے انکی موت واقع ہو گئی۔ اب کینیا پولیس کے جنرل سروس یونٹ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ارشد شریف کی لاش فائرنگ کے مقام سے 12 کلو میٹر دور ایک گاڑی میں لاوارث پڑی ملی تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ خرم کار چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ ارشد شریف نے وقوعہ کا دن کینیا کے کیپٹل نیروبی سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقعے مگاڈی نامی علاقے ایموڈمپ یا ایمیونیشن ڈمپ نامی کیمپ میں گزارا تھا۔ یہ کیمپ کینیا کی مشہور سیاحتی جگہ بھی ہے جہاں آپ اپنے لیے کمرہ بھی بک کر سکتے ہیں اور ٹھہر بھی سکتے ہیں۔ اس کیمپ میں کوینیا نامی شوٹنگ رینج سمیت دفاعی سازو سامان کا ایک ڈپو بھی واقع ہے۔ اس کیمپ میں کوینیا شوٹنگ رینج کی وجہ سے کینیا کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت شوٹنگ کے شوقین افراد جا کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں، جسکے لیے باقاعدہ فیس مقرر ہے۔کینیا یونین آف جرنلسٹ نے ارشد شریف کی موت کو پراسرار قرار دیتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کینیا کے کئی سینئر کرائم رپورٹرز نے ارشد شریف کی موت کے حوالے سے جو تحقیقاتی رپورٹس تیارکی ہیں ان میں واقعے کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ انکے خیال میں وقار اور خرم سے تفصیلی تفتیش کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دونوں ارشد کے قتل میں ملوث دو اہم ملزمان ہیں۔
