ارشد شریف کے قتل کا منصوبہ کینیا سے باہر بنایا گیا

کینیا میں قتل ہونے والے معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کے حوالے سے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس بہیمانہ قتل کی منصوبہ بندی کینیا سے باہر کی گئی اور اس پر عملدرآمد کینیا میں ہوا۔

یاد رہے کہ ارشد شریف 23 اکتوبر 2022 کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اُن کی موت کو تقریباً دو ماہ ہونے کو ہیں مگر پاکستان اور کینیا میں جاری اس ’ٹارگٹڈ قتل‘ کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات بظاہر اس کیس کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنا رہی ہیں۔ بی بی سی کی ٹیم کینیا میں ہونے والی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق جاننے کے لیے نیروبی پہنچی اور اس کیس سے جڑے مختلف کرداروں سے بات چیت کی۔ بی بی سی کی ٹیم نے جہاں کینیا میں اعلیٰ عہدیداروں کے انٹرویوز کیے وہیں اس کیس کی تحقیقات سے منسلک افسران، فائرنگ رینج اور فارم ہاؤس کے ملازمین اور فائرنگ کے مقام کی قریبی آبادی کے علاوہ بعض دستاویزات تک رسائی بھی حاصل کی ہے تاکہ اس کیس میں پیشرفت کی معلومات جمع ہو سکیں۔

یاد رہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد ارشد شریف نے خیبر پختونخواحکومت کی مدد سے پشاور ایئرپورٹ سے دبئی کا سفر کیا تھا جہاں انھوں نے دس دن قیام کیا۔ ارشد شریف 20 اگست کو دبئی سے نکلے تو اُن کے پاس کینیا کا آن ارائیول ویزہ تھا۔ یہ ویزا انھیں نیروبی میں مقیم پاکستانی بزنس مین وقار احمد کے دعوت نامے کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ وقار احمد کے پاکستان اور کینیا کے تفتیشی اہلکاروں کو دیے گئے بیانات کے مطابق انھوں نے اس دعوت نامے کی وجہ اے آر وائے کے سینئر عہدیدار اور چینل کے مالک سلمان اقبال کے کزن مرزا وصی کو بتاتے ہیں جو اُن کے مطابق اُن کے قریبی اور پرانے دوست تھے اور مرزا وصی نے ہی ارشد شریف کے لیے دعوت نامہ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔

کینیا کے مقامی افراد اور سرکاری اہلکاروں کے مطابق وقار احمد اور اُن کے بھائی خرم احمد کینیا میں طویل عرصے سے مقیم ہیں اور یہاں پراپرٹی، تعمیرات کے کاروبار سے منسلک ہے۔ اس کاروبار کے علاوہ وہ اسلحے کی فروخت کا کام اور ’کوینیا ایمو ڈمپ‘ نامی فائرنگ رینج کی ملکیت بھی رکھتے ہیں۔ اس نجی فائرنگ رینج میں فائرنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کیس سے منسلک متعدد افراد نے دعویٰ کیا کہ وقار احمد کو کینیا اور پاکستان کے مقتدر حلقوں تک رسائی حاصل ہے اور اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’ویل کنیکٹڈ‘ ہیں۔ ارشد شریف 20 اگست کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچے اور پھر دو ماہ تک وہ یہیں رہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارشد شریف وقار احمد کے بھائی خرم احمد کے ہمراہ 22 اکتوبر کی رات نیروبی سے مگاڈی کی جانب روانہ ہوئے۔ مگاڈی نامی علاقہ نیروبی سے تقریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ کینیا کے گرم ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور یہاں کی آبادی پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

کم آباد اور انتہائی گرم ہونے کی وجہ سے یہاں لوگوں کی آمد و رفت کافی کم رہتی ہے۔ یہاں سے ایتھوپیا کی سرحد کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مگاڈی کو ایک اور بات منفرد بناتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس علاقے کی ملکیت ایک معروف انڈین نجی کمپنی (ٹاٹا) کے پاس ہے۔ اسی علاقے میں وقار احمد کی ملکیتی ’کوینیا ایمو ڈمپ‘ نامی فائرنگ رینج بھی واقع ہے۔ تقریباً 2100 ایکڑ پر محیط اس فائرنگ رینج میں سپورٹس ہنٹنگ، نشانہ بازی اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں، جبکہ یہاں کیمپنگ کے انتظامات کے علاوہ گیسٹ ہاؤس اور ریسٹورنٹ بھی ہے۔ کوینیا ایمو ڈمپ کے مالک اور ارشد شریف کے میزبان وقار احمد امریکی حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت اس فائرنگ رینج میں امریکی انسٹرکٹرز کے ذریعے سپیشل تربیت فراہم کرتے ہیں۔ ارشد شریف 22 اکتوبر کی رات مگاڈی میں ’کوینیا ایمو ڈمپ‘ پہنچے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 23 اکتوبر کی صبح ارشد شریف نے وقار احمد اور خرم احمد کے ہمراہ ناشتہ کیا اور اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق دن کا باقی حصہ خرم احمد کے ہمراہ گزارا۔ اس رات وقار احمد نے وہاں موجود امریکی انسٹرکٹرز کے اعزاز میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا اور ارشد شریف سمیت وقار کی اہلیہ، خرم اور ان کی اہلیہ جبکہ ایموڈمپ کے شریک مالک جمشید بھی اس ڈنر میں موجود تھے۔ خرم احمد نے کینیا میں پولیس حکام کو بتایا ہے کہ اُس رات وہ ارشد شریف کے ہمراہ ساڑھے آٹھ بجے ڈنر سے فارغ ہوئے اور اپنی سفید رنگ کی لینڈ کروزر میں نیروبی کی جانب روانہ ہو گئے۔

اس دوران علاقے میں ایک مرسڈیز کی چوری اور اغوا کی اطلاع پولیس کو موصول ہوئی اور پھر ایمو ڈمپ کے قریب واقع پولیس کے جنرل سروس یونٹ یعنی جی ایس یو کے اہلکاروں نے ایموڈمپ کو جاتی کچی سڑک پتھروں کے ذریعے بلاک کی تاکہ چوری یا اغوا ہونے والی مرسڈیز گاڑی کو بازیاب کروایا جا سکے۔ جب ارشد شریف اور خرم احمد کی گاڑی یہاں سے گزری تو فائرنگ کے واقعے میں ارشد شریف کو سر اور سینے میں دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ خرم احمد نے اپنے بھائی وقار اور پھر جمشید کو فون پر فائرنگ کی اطلاع دی۔ اس دوران ان کی گاڑی کا ٹائر پھٹ چکا تھا مگر وہ اپنے بھائی کے مشورے کے مطابق یہاں سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جمشید کے ملکیتی ٹنگا فارم ہاؤس پہنچے۔ کینیا کی پولیس اور پاکستانی تفتیش کاروں کو دیے گئے بیان کے مطابق وقار احمد نے اے آر وائے کے مرزا وصی اور پھر سلیمان اقبال سے بھی بات کی اور ارشد شریف کی ہلاکت کی خبر اُن تک پہنچائی۔

بعدازاں وقار احمد، اُن کی اہلیہ، جمشید اور فارم ہاؤس سے منسلک دیگر لوگ بھی یہاں آئے اور پھر پولیس بھی اس فارم ہاؤس میں پہنچی۔ ارشد شریف کی ڈیڈ باڈی کو یہاں سے مردہ خانے منتقل کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان خبر پہنچا دی گئی۔وقار احمد میت کے ہمراہ مردہ خانے تک گئے، جبکہ خرم احمد، جمشید کے ہمراہ نیروبی چلے گئے۔ اس موقع پر پولیس نے اسے غلطی قرار دے کر خرم سے معافی مانگی اور بات ختم ہو گئی۔تفتیش کاروں کے مطابق یہ کہانی یہاں تک بہت سادہ سی نظر آتی ہے۔ لیکن اس کہانی میں اُس وقت موڑ آیا جب پولیس نے پہلے اسے غلط شناخت کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت قرار دیا اور بعدازاں یہ بیان دیا کہ گاڑی سے جی ایس یو اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد جوابی فائرنگ کی گئی۔

بی بی سی نے اس واقعے کے فوراً بعد کینیا میں ریکارڈ کا حصہ بننے والی دستاویزات اور پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کا تفصیلی اور تقابلی جائزہ لیا اور ایسے کئی افراد سے براہ راست بات چیت کی جو اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں یا اس واقعے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ منسلک ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں اور دستاویزات کے بعد ہم آپ کو وہ تضادات بتائیں گے جو تحقیقات میں سامنے آئے ہیں اور ان سوالوں سے بھی آگاہ کریں گے جو ان بیانات اور رپورٹس کے بعد جواب طلب ہیں۔

بی بی سی ٹیم کینیا میں اس پولیس سٹیشن بھی پہنچی جہاں وہ گاڑی موجود ہے جس میں ارشد شریف کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس سٹیشن میں موجود ارشد شریف کی گاڑی کی اگلی نشست پر اُن کے خون کے علاوہ سر کے بال ابھی بھی چپکے ہوئے ہیں۔ اس رات ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے تھے۔ ان میں سے ایک جی ایس یو کا ہے جو کینیا کی پولیس کا پیراملٹری یونٹ ہے اور اس کا کام ملک میں کسی قسم کی بدنظمی، پرتشدد مظاہروں اور انتشار کو قابو کرنا ہے۔ جی ایس یو کے سابق اہلکار جارج مساملی کے مطابق یہاں دستوں کی تعیناتی کے لیے حکم انسپکٹر جنرل کے دفتر سے آتا ہے اور آئین کے تحت حکومت کی اجازت کے بغیر اُن کی تعیناتی نہیں کی جاتی۔

اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر تعیناتی کے حوالے سے ان کی دستوں کی تعداد اور سربراہی سے متعلق بھی قوانین موجود ہیں۔ جی ایس یو اہلکاروں کی پوزیشنز کا فرق ایمو ڈمپ کوینیا کی جانب جاتی ایک کچی سڑک پر یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ ہمیں ایموڈمپ کے اس حصے سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً 25 منٹ لگے۔ یہ پتھریلا اور غیرہموار راستہ ہے جہاں گاڑی کی رفتار ایک حد تک ہی رکھی جا سکتی ہے۔وہ مقام جہاں روڈ بلاک کیا گیا تھا دراصل ایک خشک نالے کی گزرگاہ ہے اور یہاں پانی کے بہاؤ کے لیے سڑک کے نیچے دو بڑے پائپ نصب ہیں۔ انہی کے اوپر سڑک پر پتھر رکھ کر اسے بلاک کیا گیا تھا۔ یہاں جی ایس یو کے چار اہلکار تعینات تھے جن میں سے ایک گاڑی کا ڈرائیور تھا۔ان اہلکاروں کی سربراہی چیف انسپکٹر یوٹا جوزف کر رہے تھے اور ان کے ساتھ دو سپاہی تھے۔ ان تمام افراد کے پاس ہتھیار موجود تھے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جی ایس یو کے اہلکاروں نے اس واقعے کے اگلے روز اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ یوٹا جوزف نالے کے بائیں جانب کھڑے تھے جبکہ دونوں سپاہی ان سے کچھ فاصلے پر اس نالے کے دائیں جانب کھڑے تھے۔ موقع پر موجود اہلکاروں نے پولیس کو بتایا کہ جب ارشد شریف کی گاڑی آئی تو یوٹا جوزف نے انھیں رکنے کا کہا اور فلیش لائٹ کا استعمال بھی کیا مگر وہ نہیں رُکے۔ گاڑی نے پتھروں کا بیریئر کراس کرنے کی کوشش کی اور اسی دوران گاڑی سے ان پر فائرنگ بھی ہوئی۔ فائرنگ سے نالے کے دائیں جانب کھڑے سپاہیوں میں سے ایک کو گولی لگی۔ ان کے مطابق گولی لگتے ہی وہ نالے کی جانب بھاگے اور وہاں نصب ایک پائپ میں چھپ گئے۔ انھوں نے پولیس حکام کو بتایا کہ وہ سخت تکلیف میں تھے۔ وہاں موجود دوسرے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے پیچھے نالے میں چلے گئے اور اس دوران گولیاں چلنے کی آواز آتی رہی۔ ان کے مطابق جب وہ باہر نکلے تو گاڑی جا چکی تھی اور اس کا پیچھا کرنے کے بجائے ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ زخمی ساتھی کو ٹریننگ کیمپ لے جائیں تاکہ انھیں طبی امداد دی جا سکے۔

تاہم اس واقعے کے تقریباً ڈیڑھ ہفتے بعد جی ایس یو کے ان اہلکاروں کی جانب سے دیا گیا بیان مکمل طور پر مختلف ہے۔ پاکستان کی انویسٹی گیشن ٹیم کو ان اہلکاروں نے مختلف پوزیشنز کا بتایا ہے۔ اُن کے مطابق جب انھیں گاڑی کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ ان کے مطابق یہ دونوں سپاہی نالے میں نصب پائپ کے ساتھ گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جب گاڑی پہنچی تو ان پر فائرنگ کی گئی اور اسی وجہ سے ان دونوں اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ٹائمنگ سمجھنے کے لیے بی بی سی کی ٹیم نے نہ صرف مختلف دستاویزات کا جائزہ لیا بلکہ اس حوالے سے مختلف لوگوں سے بات بھی کی۔ جب تحقیقات سے جڑے ایک سرکاری افسر نے مجھے یہ بتایا کہ انھیں نو بج کر 36 منٹ پر افسران بالا کی طرف سے مگاڈی میں فائرنگ کی اطلاع اور وہاں پہنچنے کا حکم ملا تو میں یہ سوچ رہی تھی کہ محض چھ منٹ میں فائرنگ کی اطلاع اور ٹیم کی تعیناتی کے بارے میں حکم کیسے مل سکتا ہے۔ لیکن آگے چل کر اندازہ ہوا کہ اس کیس سے منسلک ہر شخص کا بیان دوسرے سے مختلف ہے۔

سب سے پہلے خرم احمد ہیں جن کے مطابق وہ رات ساڑھے آٹھ بجے ارشد شریف کے ہمراہ کوینیا ڈمپ سے نکلے اور رات نو بج کر 30 منٹ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ کینیا کی پولیس کو بھی خرم احمد، ان کے بھائی وقار احمد اور جی ایس یو کے اہلکاروں نے ابتدا میں یہی ٹائم بتایا۔لیکن ان سب کے بیانات کا باریکی سے جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر کسی کا بیان مختلف ہے۔ خرم احمد کے مطابق فائرنگ نو بج کر 30 منٹ پر ہوئی، ان کے بھائی وقار احمد کے مطابق خرم نے انھیں نو بج کر 20 منٹ پر ایک فون کال کے ذریعے فائرنگ کی اطلاع دی۔ جی ایس یو کے مطابق فائرنگ نو بج کر 45 منٹ پر ہوئی جبکہ تحقیقات کرنے والے ایک پولیس افسر کے مطابق انھیں نو بج کر 36 منٹ پر فون کر کے بتایا گیا کہ مگاڈی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

لیکن بی بی سی نے اس واقعے کے مقام سے تقریباً پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع مسائی قبیلے کے چند افراد سے بات کی اور سمجھنے کی کوشش کی کہ انھیں اس رات فائرنگ کے بارے میں کیا یاد ہے۔ بی بی سی سے دو ایسے افراد نے بات کی جو اس واقعے کے وقت نہ صرف اس سڑک سے گزرے بلکہ انھیں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں مگر ان کے اوقات یکسر مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نفتالی وشیرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس رات انھوں نے رات ساڑھے 10 سے 11 بجے کے دوران فائرنگ کی آواز سنی۔ ’یہ فائرنگ بس چند سیکنڈ کے لیے ہوئی تھی۔

بی بی سی سے اس رات اُس فارم ہاؤس پر کام کرنے والے ایک ملازم نے بھی بات کی۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس رات ایمو ڈمپ کوینیا میں موجود تھے۔ ’ارشد شریف اور خرم احمد رات 10 بجے تک فارم ہاؤس میں ہی موجود تھے۔ اور یہ غالباً 10 بجے کا وقت ہو گا جب وہ دونوں وہاں سے نکلے۔ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے فورا بعد جی ایس یو کے اہلکاروں نے ایک تحریری بیان میں تحقیقاتی اداروں کو اپنے اسلحے سے فائرنگ کی تفصیل بتائی۔ کمانڈ کرنے والے افسر یوٹا جوزف نے کہا کہ انھوں نے پہلے گاڑی سے ایک فائر کی آواز سُنی اور اس کے بعد انھیں اپنے ساتھی کی چیخ سنائی دی۔ پھر ان کے دونوں ساتھیوں نے، جو ان کے بقول نالے کی دوسری جانب کھڑے تھے، فائرنگ شروع کر دی۔

یوٹا جوزف نے کہا کہ انھوں نے خود کوئی فائر نہیں کیا اور ان کے اسلحے میں گولیاں پوری ہیں۔ ان کے مبینہ طور پر زخمی ہونے والے ساتھی نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ انھیں احساس ہوا کہ ان کا ہاتھ سن ہو چکا ہے اور انھیں گولی لگی ہے تو وہ بھاگ کر نالے میں بنے پائپ میں چھپ گئے۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے بھی ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ نہیں کی تھی۔ ان کے تیسرے ساتھی کا بیان قدرے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے بھی فائرنگ نہیں کی اور اپنے ساتھی کے پیچھے بھاگ کر وہ پائپ میں چھپ گئے۔ اس دوران انھیں گولیاں چلنے کی آواز آتی رہی۔ البتہ آخر میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے چند فائر کیے تھے۔

مگر ان بیانات سے مختلف بیان پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کو دیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی ٹیم اس زخمی اہلکار تک رسائی حاصل نہیں کر پائی تاہم اپنے بیانات میں ان اہلکاروں نے کہا ہے کہ یوٹا جوزف نے فائرنگ نہیں کی تھی البتہ زخمی ہونے والے سپاہی ایک ہاتھ سے ہی گاڑی پر فائرنگ کرتے رہے جبکہ دوسرے سپاہی نے بھی کہا کہ انھوں نے کئی گولیاں فائر کی تھیں۔سفید رنگ کی لینڈ کروزر پر لگی تمام گولیوں کے نشان دائیں جانب ہیں۔ صرف دو گولیاں ایسی ہیں جو گاڑی کے پچھلے شیشے پر ہیں اور تحقیقات کے مطابق اب تک یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ان دو میں سے ایک گولی ارشد شریف کے سر پر لگی تھی۔

ارشد شریف کی ہلاکت ان کے سر اور سینے پر لگنے والی دو گولیوں سے ہوئی۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ارشد شریف کی سیٹ کی پشت پر اس گولی کا کوئی نشان موجود نہیں جو ان کے سینے میں لگی۔ گاڑی میں لگنے والی زیادہ تر گولیاں ’لوئر اینگل‘ سے ماری گئی ہیں، جبکہ کینین پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھیں گاڑی کے اندر سے ایک گولی کا خول بھی ملا ہے۔ خون کے چھینٹے گاڑی کے پچھلے دروازے تک پہنچے ہیں مگر ڈرائیور کی سیٹ پر کسی گولی کا نشان ہے نہ ہی خون کا کوئی دھبہ۔

اس کیس سے منسلک ایک بیلسٹک ایکسپرٹ کے مطابق گاڑی کے باہر کے حصے پر موجود گولیوں کے نشانات سے پتا چلتاہے کہ فائرنگ کرنے والے افراد لیٹے ہوئے تھے یا سڑک کی سطح سے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ اگر جی ایس یو کے اہلکاروں کی بات مان لی جائے کہ گاڑی آگے بڑھنے کے بعد پیچھے کھڑے یوٹا جوزف نے کوئی فائر نہیں کیا، تو گاڑی کے پچھلے شیشے پر موجود گولیوں کے دو اہم نشانات کے بارے میں یہ بالکل واضح نہیں کہ یہ فائرنگ کس نے کی۔ کینیا میں ان تحقیقات سے منسلک بعض افسران کے مطابق بیلسٹک ایکسپرٹ سمجھتے ہیں کہ یہ دو گولیاں بہت قریب سے چلائی گئیں اور ایسے وقت میں چلائی گئیں جب یہ گاڑی رکی ہوئی تھی یا بہت آہستہ رفتار میں چل رہی تھی۔

اگر اب تک کی تحقیقات میں مختلف تفتیش کاروں کو مختلف مواقع پر دیے گئے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو فائرنگ کے اوقات کار اور جی ایس یو کے اہلکاروں کی پوزیشنز کے بعد سب سے بڑا تضاد ارشد شریف کو مردہ حالت میں سب سے پہلے دیکھنے والے افراد کے بیانات میں ہے۔ ڈی سی آئی کے ایک اہلکار کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اب پولیس اس اینگل سے بھی تحقیق کر رہی ہے کہ کہیں ارشد شریف روڈ بلاک تک پہنچنے سے پہلے ہی قتل تو نہیں ہو چکے تھے؟ ارشد شریف کی ڈیڈ باڈی خرم احمد کے بعد سب سے پہلے اس فارم ہاؤس کے گارڈ جوزف نے دیکھی جو گیٹ کھولنے آئے تاکہ خرم گاڑی فارم ہاؤس میں داخل کر سکیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خرم بہت گھبرائے ہوئے تھے، اُنھوں نے مجھ سے پانی مانگا اور پھر فارم ہاؤس کے اندر چلے گئے۔ وہ اس وقت باہر نکلے جب ان کے اہلخانہ وہاں پہنچے۔‘جوزف کے مطابق جب انھیں خرم نظر نہیں آئے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود گاڑی میں دیکھیں گے تاکہ اسے اندر لے جا سکیں۔ ان کے مطابق وہ نہیں جانتے تھے کہ گاڑی میں کوئی اور ہو گا۔ ’یہ شاید دس بج کر بیس منٹ کا وقت ہوگا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی نہیں تھا، میں نے پسینجر سیٹ کا دروازہ کھولا تو سامنے ایک شخص مردہ حالت میں پڑا تھا۔ میں نے اس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اس کا خون جم چکا تھا اور وہ مرا ہوا تھا۔ میں گھبرا گیا اور دروازہ بند کر کے اندر بھاگا تاکہ خرم سے پوچھ سکوں کہ یہ کون ہے۔ مگر خرم وہاں موجود نہیں تھا۔ میں اس کے بعد بھاگ کر اپنے کمرے کی طرف آ گیا اور اس وقت باہر نکلا جب گیٹ پر وقار احمد اور دیگر کی کاریں پہنچیں۔‘

بی بی سی کی ٹیم کے مطابق اس نے ان سے پوچھا کہ کیا ارشد شریف کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، تو انھوں نے کہا کہ ’نہیں خون بہہ نہیں رہا تھا، یہ بالکل خشک ہو چکا تھا۔‘۔یہاں پہنچنے والے ڈی سی آئی کے افسران نے بھی یہی بیانات دیے ہیں کہ جب وہ فارم ہاؤس پہنچے تو ان کے جسم پر خون جما ہوا تھا۔ لیکن خرم احمد کے بیانات مختلف ہیں۔ ان کے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان کے مطابق آدھے گھنٹے کے سفر کے دوران ارشد شریف سانس لے رہے تھے اور ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ اس دوران یعنی فارم ہاؤس پہنچنے سے پہلے ہی وقار احمد پولیس، انٹیلیجنس اور اے آر وائے کے مالکان کو ارشد شریف کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے تھے۔

وقار احمد کے تفتیش کاروں کو دیے گئے بیان کے مطابق واقعے کے بعد اگلے 20 منٹ میں ان کی سلمان اقبال سے پہلی بار بات ہوئی اور انھوں نے ارشد شریف کی موت کی تصدیق کی۔ لیکن سلمان اقبال کے پاکستانی تفتیش کاروں کو دیے گئے بیان کے مطابق انھیں تین سے چار گھنٹے کے بعد وقار سے پہلی بار بات کی۔ اس رات وقار احمد کے فارم ہاؤس پر ڈنر امریکی انسٹرکٹرز کے اعزاز میں دیا گیا۔ یہاں چھ امریکی اہلکار موجود تھے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اس انویسٹی گیشن کا حصہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کینیا کی پولیس کے مطابق انھیں یہ علم ہی نہیں کہ وہ کون تھے اور اب کہاں ہیں۔

کینیا کے معروف تحقیقاتی صحافی جارج مساملی کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی کینیا سے باہر کی گئی اور اس پر عملدرآمد یہاں ہوا۔ اور ایسا ممکن نہیں کہ کینیا کی حکومت یا جی ایس یو میں کسی کو اس کا پتا نہ ہو۔ یہاں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہے جسے علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اس واقعے کی جس انداز میں تحقیق کی جا رہی ہے، اس پر بھی کئی سوال اٹھتےہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے گا اور اصل قاتلوں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔‘ کچھ ایسے ہی خدشات کا اظہار کینیا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارونگو ہاگٹن نے بھی کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کینیا میں ماورائے عدالت قتل اور پولیس کو بطور قاتل خریدنے کے کیسز میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔

’اس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔ لیکن ارشد شریف کے قتل اور پھر اس معاملے کی تحقیقات پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو شدید تحفظات ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے ان کے لیے پاکستان میں زمین تنگ کی گئی اور انھیں پہلے دبئی اور پھر کینیا آنا پڑا۔ اور یہاں ان کا قتل کر دیا گیا جو بظاہر ایسے ہی واقعات کی کڑی نظر آتی ہے جو اس سے پہلے بھی کینیا میں ہوتے رہے ہیں۔‘

Back to top button