تحریک طالبان کے خودکش بمبار اسلام آباد تک پہنچ گئے

عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لانے والی تحریک طالبان پاکستان کے خود کش بمبار اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں جس کا ثبوت 23 دسمبر کو ہونے والا خودکش دھماکا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان نے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں حملوں کا اعلان کیا تھا جن میں مسلسل تیزی آتی جا رہی ہے۔ لیکن پچھلے ایک برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ دہشت گرد اسلام آباد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم خوش قسمتی سے سے خودکش بمبار کار سمیت اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ایگل سکواڈ کے اہلکاروں کی نظر میں آگیا۔جب اسے پیچھا کر کے روکا گیا اور اسکی تلاشی لینے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے اسکے ساتھ موجود ایک خاتون سمیت کار کی تلاشی لینے والا سکیورٹی اہلکار بھی مارا گیا۔
یوں اسلام آباد ایک بڑے سانحے سے تو بچ گیا لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ بارود سے بھری کار لے کر خودکش بمبار اسلام آباد میں کیسے داخل ہو گیا۔ تحریک طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ کار سوار فدائی بمبار کا بنیادی مقصد اسلام آباد پولیس کو ٹارگٹ کرنا تھا اور وہ اس میں کامیاب رہا۔ یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر آئی ٹین میں پیش آیا۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہائی الرٹ کی وجہ سے چیکنگ چل رہی تھی اور اس دوران پولیس اہلکاروں نے مشکوک گاڑی کو چیکنگ کے لیے روکا۔
انہوں نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ گاڑی رکتے ہی جب سکیورٹی اہلکار نے اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی تو خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ یوں اسلام آباد پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین شہید ہو گیا۔ اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ صبح سوا دس بجے ایک مشکوک ٹیکسی آ رہی تھی جس میں ایک مرد اور ایک عورت سوار تھی، پولیس کے ایگل اسکواڈ نے انہیں روکا اور انکی تلاشی لی۔ ابھی مشکوک افراد کی تلاشی جاری تھی کہ کار سوار لمبے بالوں والے لڑکے نے گاڑی میں دوبارہ سوار ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران جب اسے روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے دہشت گرد اور اسکی ساتھی خاتون موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی میں ایک مرد اور ایک عورت سوار تھی جن کے جسم کے اعضا ہم نے اکٹھا کر لیے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پولیس اہلکار نے گاڑی کا دروازہ کھول کر رکھا ہوا تھا اور ان مشکوک افراد کو گاڑی کے اندر جانے سے روک رہا تھا لیکن لمبے بالوں والے شخص نے گاڑی کے اندر مکمل داخل ہوئے بغیر ہی ایک بٹن دبایا جس سے دھماکا ہو گیا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ گاڑی میں اتنی بھاری مقدار میں بارودی مواد پایا جانا تشویش ناک ہے اس لیے ہمیں سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے اور شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کی جائے گی اور وہ پریشانی برداشت کرنی چاہیے تاکہ اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ دھماکے کے بعد حملہ آورکے اعضا جائے وقوع پر پھیل گئے جبکہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کی شدت کی وجہ سے اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی اسلام آباد پولیس نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایگل اسکواڈ نے خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے بعد حفاظتی اقدام کے تحت دو ہزار سے زائد مشکوک افراد، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو چیک کیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہر میں امن و امان یا دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو جبکہ شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور مشتبہ افراد کے بارے میں مطلع کریں۔ تاہم تحریک طالبان پاکستان کے خود کش بمبار کا اسلام آباد میں داخل ہوجانا سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
