استعفوں پر اختلاف کے بعد PDM ٹوٹنے کا خطرہ

اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہی اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے بعد پی ڈی ایم کے ٹوٹنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ 16 مارچ کو ہونے والے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے لئے دباؤ ڈالے جانے کے بعد آصف علی زرداری نے یہ مطالبہ کر دیا کہ اگر آپ ہم سے استعفے دلوانا چاہتے ہیں تو پھر نواز شریف بھی لندن سے واپس آکر ہمارے شانہ بشانہ لڑیں۔ آصف زرداری کا موقف تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ عمران خان کی حکومت کو اور زیادہ مضبوط کرے گا اور اپوزیشن کا حکومت گرانے کا ٹارگٹ حاصل کرنا اور بھی مشکل جائے گا۔
آصف زرداری کے موقف کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف دل کے مریض ہیں اور انھیں دوران قید دو یارٹ اٹیک ہو چکے ہیں لہذا اگر وہ واپس آکر پھر جیل جاتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا۔ آصف زرداری نے مریم کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو گرانا ہے تو پھر ہم سب کو پاکستان آنا ہو گا اور لڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جیل بھی جانا ہوگا۔ زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے چودہ برس سیاسی جدوجہد میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں اور میں آئندہ بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن باقی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی جیل جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس موقع پر آصف زرداری نے واضح کیا کہ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے سربراہی اجلاس میں لندن سے نواز شریف بھی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے لیکن انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی اور مریم نواز ان کے ایما پر گفتگو کرتی رہیں۔ اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے ن لیگ کے قائد نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں، میں جنگ لڑنے کے لیے تیار ہوں، لیکن شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے لیکن ہم پھر بھی آخری سانس تک جدوجہد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کی اگر وہ بھی جنگ کے لیے تیار ہیں تو انہیں وطن واپس آنا ہوگا ، کیوں کہ میاں صاحب پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ لندن میں بیٹھ کر کیسے عوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جب کہ میں نے اپنے دور حکومت میں انکی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ سابق صدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم پہاڑوں پر نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں، مجھے دوجی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں ہے، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جمہوری قوتوں نے الیکشن میں سازش اور دحاندلی کا سامنا کیا ہے، لیکن اس صورتحال میں مستعفی ہوکر اسمبلیوں کو چھوڑنا وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں لانگ مارچ کی منصوبہ بندی 1986 اور 2007 جیسی کرنا ہوگی ورنہ کامیابی کا امکان نہیں یے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اسمبلیوں سے استعفے دینے پر آمادہ نہیں ہوتی تو نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ آصف زرداری نے پہلے ہی یہ عندیہ دے دیا ہے کہ اگر ان پر استعفوں کے لئے مزید دباؤ ڈالا گیا تو ان کی راہیں اپوزیشن سے جدا ہو سکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا یہ موقف ہے کہ اگر ہم اسلام آباد لانگ مارچ کرتے ہیں تو ہمارے پاس تمام اپوزیشن جماعتوں کے ممبران اسمبلی کے استعفے ہونا چاہیں ورنہ لانگ مارچ بے وقعت ہو جائے گا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ استعفوں کے معاملے پر کیا اپوزیشن اتحاد ٹوٹ جاتا ہے یا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
