اسرائیل نے کب اور کیسے فلسطین پر قبضہ کیا ؟

فلسطین میں اسرائیل کی ایما پر پیدا ہونے والا حالیہ تنازعہ اپریل کے وسط سے ہونے والے چھوٹے بڑے واقعات سے شروع ہو کر اس وقت شدت اختیار کر گیا جب 7 مئی کو اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصیٰ میں نماز ادا کرتے نہتے فلسطینی مسلمانوں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں درجنوں نمازی زخمی ہوگئے۔ اگلے دن، جب وہاں لیلۃ القدر تھی، اسرائیل نے ناکہ بندی کرکے مسلمانوں کا داخلہ مسجد الاقصیٰ میں بند کر دیا۔ اس سے اگلے روز بھی نمازیوں پر حملے جاری رہے۔ دس مئی کو اسرائیلی فورسز نے ایک اور حملہ کیا اور اس مقدس مسجد کے بڑے داخلی دروازے پر قابض ہو گئے۔ یاد رہے کہ یہ وہ روز تھا جب اسرائیلی1967 کی جنگ میں فتح کی خوشی میں ’یوم یروشلم‘ مناتے ہیں۔ حماس اور اس کی ساتھی تنظیموں نے اس صورت حال پر احتجاج کیا اور اسرائیل کو الٹی میٹم دیا کہ وہ مسجد الاقصیٰ اور کچھ دیگر مسلم علاقوں سے اپنا ناجائز تسلط فوری طور پر ختم کرے۔ جب اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو حماس نے اسرائیلی ٹھکانوں پر راکٹوں سے حملہ کر دیا اور جواب میں اسرائیل نے حماس کے خلاف غزہ میں فضائی حملے شروع کر دیے۔
اسرائیلی کارروائیوں سے 7 سے 18 مئی کی سہ پہر تک 58 بچوں اور 34 خواتین سمیت 201 افراد شہید ہوچکے تھے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتنے کم عرصے میں پرتشدد کارروائیاں کرکے اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی زندگیاں ختم کی ہوں۔ اسرائیل گزشتہ 73 برس سے وقتاً فوقتاً فلسطینیوں پر حملے کرتا آ رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد شہید ہوچکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔ اگرچہ گزشتہ 73 سال کا مستند ڈیٹا دستیاب نہیں ہے تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قبضے کے بعد فلسطینی سرزمین پر ہونے والے حملوں میں ایک سے ڈھائی لاکھ تک فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فلسطینی سرزمین پر نظر رکھنے والے خصوصی ادارے او سی ایچ اے کے اعداد و شمار کے مطابق صرف آخری 20 سال میں ہی اسرائیلی حملوں میں 10 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
اگرچہ اسرائیل کے وجود کو 73 برس ہی گزرے ہیں لیکن اسے فلسطینی سرزمین پر بنائے جانے کی کوششیں 200 سال پرانی ہیں اور یہودیوں کو صیہونی ریاست بنانے کی پہلی پیش کش فرانسیسی ڈکٹیٹر نیپولین بونا پارٹ نے 1799 میں کی تھی۔ اس کے بعد 1882 میں فلسطینی سرزمین پر پہلی یہودی بستی قائم کی گئی اور گزرتے سالوں میں فلسطینی سرزمین پر دنیا کے مختلف ممالک اور کونوں سے یہودیوں کو لاکر آباد کیا جانے لگا اور اس عمل میں جنگ عظیم اول کے بعد تیزی دیکھی گئی۔
پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطینی خطے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس وقت یہاں پر ایک عرب اکثریت میں جب کہ یہودی اقلیت میں تھے۔ دونوں برادریوں میں تناؤ اس وقت بڑھنے لگا جب عالمی برادری نے برطانیہ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ یہودی کمیونٹی کےلیے فلسطین میں وطن کی تشکیل کریں۔ برطانوی کابینہ کے یہودی ارکان نے 1915 میں تجویز پیش کی کہ فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کا ملک بنایا جائے، جس کے بعد امریکا اور برطانیہ میں صیہونی ریاست کے قیام کےلیے کوششیں تیز ہوئیں اور 1922 میں اس وقت کے عالمی ادارے لیگ آف نیشن نے بھی فلسطینی سرزمین پر صیہونی ریاست کی منظوری دی۔
جنگ عظیم دوم کے آغاز میں ہی برطانوی حکومت نے یورپ کے مختلف ممالک سے یہودیوں کو فلسطینی سرزمین پر منتقل کرنا شروع کیا، جس کے خلاف فلسطینیوں نے اس وقت بھی مظاہرے کیے لیکن ان مظاہروں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ برطانوی حکومت نے 1936 میں فلسطینی سرزمین کو تقسیم کرنے کےلیے پیل کمیشن کا قیام کیا، جس نے تاریخی طور پر عربوں کی سرزمین پر صیہونی ریاست کو قائم کرنے کی تجویز دی، جس کے بعد دنیا بھر کے یہودی اپنی پہلی ریاست کے قیام کےلیے متحرک ہوگئے اور انہیں امریکا سمیت اس وقت کی دیگر بڑی ریاستوں کی حمایت حاصل رہی۔
اقوام متحدہ نے اپنے قیام کے چند سال بعد ہی 23 ستمبر 1947 میں فلسطین اور اسرائیل کی تقسیم کا ’امن منصوبہ‘ پیش کیا جس کے تحت فلسطین کو یہودیوں اور عرب قوم میں تقسیم کرکے ’بیت المقدس‘ کو ایک الگ اور خودمختار حیثیت دے دی اور کہا گیا کہ اس شہر کا کنٹرول اقوام متحدہ کے پاس رہے گا کیوں کہ اس شہر کی اہمیت تینوں بڑے مذاہب یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائی کےلیے بہت زیادہ ہے۔ لیکن اگلے ہی برس 1948 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد صیہونی طاقتوں نے اس مقدس شہر کے مغربی علاقے پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا۔
23 ستمبر 1947 کے بعد فلسطینی سرزمین پر برطانیہ اور دیگر ممالک کے تعاون سے یہودیوں نے خونریزی شروع کردی۔ صیہونیوں کی جانب سے ریاست کے قیام سے قبل ہی شروع کی گئی دہشت گردی کے چند ماہ بعد 15 مئی 1948 کو اقوام متحدہ، امریکا، برطانیہ اور سوویت یونین کی حمایت سے آزاد اسرائیل ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اسرائیل کے قیام کا اعلان داوید بن گوریون نے کیا، جنہیں بانی اسرائیل اور صیہونی ریاست کے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ خود اسرائیلی حکومتی ویب سائٹس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ صیہونی ریاست کا عمل مختلف ممالک اور اداروں کے تعاون کے بعد 1948 میں عمل میں آیا۔1980 میں اسرائیل میں ’قانون یروشلم‘ پاس کیا گیا جس کے مطابق تمام یروشلم کو اسرائیل کی ملکیت اور دارلحکومت قرار دے دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ، امریکا، برطانیہ، اس وقت کے سوویت یونین اور حالیہ روس سمیت دیگر بڑے ممالک نے صیہونی ریاست کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تو وہ کس طرح اب صیہونیوں کے حملوں کو دہشت گردی قرار دیں گے؟
