گوانتاناموبے میں قید پاکستانی کی بالآخر سنی گئی

گزشتہ سولہ برس سے گوانتانامو بے کے امریکی حراستی مرکز میں قید پاکستانی شہری سیف الدین پراچہ کی رہائی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ 73 سالہ پراچہ کو 16 سال سے زائد عرصے تک کیوبا میں قائم امریکی فوجی حراستی مرکز میں قید رکھا گیا۔ انہیں دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں وہاں قید کیا گیا تھا، تاہم ان پر کبھی باقاعدہ طور فردجرم عائد نہیں کی گئی۔
خبر ایجنسی کے مطابق سیف اللہ پراچہ گوانتاناموبے جیل میں قید ہیں، ان کی رہائی کی تفصیلی وجوہات واضح نہیں کی گئیں تاہم رہائی کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ سیف اللہ پراچہ امریکا کےلیے مزید خطرہ نہیں۔
سیف اللہ پراچہ کی وکیل شیلبی سولیوان بینیس نے بتایا کہ ان کے مؤکل کی رہائی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سولیوان بینیس نےنومبر میں ایک سماعت میں پراچہ کی نمائندگی کی تھی۔ جس کے بعد انہیں نظرثانی بورڈ کی جانب سے دیگر دو افراد کے ساتھ رہا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وکیل صفائی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پراچہ اگلے چند ماہ میں اپنے ملک واپس پہنچ جائیں گے، پاکستانی ان کی واپسی چاہتے ہیں اور ہماری فہم کے مطابق اس سلسلے میں کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد بھی لازمی نہیں کہ پراچہ کو گوانتانامو سے رہائی مل جائے، تاہم یہ اس حوالے سے ایک اہم قدم ضرور ہے۔ رہائی سے قبل امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ پراچہ کی حوالگی کا معاہدہ کرے گی۔ جوبائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ گوانتانامو کے حراستی مرکز کی بندش کی کوششوں کو دوبارہ شروع کرے گی۔
دوسری جانب اس پیش رفت کے حوالے سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ سنہ 2003 میں گرمیوں کی بات ہے جب کراچی کے تاجر سیف اللہ پراچہ نے امریکی بزنس مین کے ساتھ ملاقات کےلیے کراچی سے بینکاک کےلیے پرواز لی لیکن نہ وہ کبھی اس میٹنگ میں پہنچ سکے اور نہ ہی وہ آج تک اپنے گھر لوٹے۔
سیف اللہ پراچہ کو سی آئی اے نے جولائی سنہ 2003 میں بنکاک ائیر پورٹ سے حراست میں لیا جس کے بعد افغانستان کے بگرام ائیر بیس پر منتقل کیا گیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ انہیں القاعدہ کو معاونت فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
حراست میں لیے جانے کے بعد ستمبر 2004 تک سیف اللہ پراچہ کو افغانستان میں بگرام کے فضائی اڈے پر واقع حراستی مرکز میں قید رکھا گیا اور پھر گوانتاناموبے کی امریکی جیل منتقل کر دیا گیا جہاں وہ 17 سال تک قید میں رہنے والے واحد قیدی تھے جن پر نہ تو کوئی فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلایا گیا۔
سیف اللہ نہ صرف گوانتانامو بے کے سب سے پرانے بلکہ سب سے عمر رسیدہ قیدی بھی ہیں جنہیں ان کی اہلیہ کے مطابق دوران حراست دو بار دل کا دورہ بھی پڑا۔
سیف اللہ کے خاندان والوں کےلیے ان کی اچانک گرفتاری ایک دھچکا ضرور تھی لیکن وہ اپنے خاندان کے پہلے فرد نہیں تھے جنہیں القاعدہ کو معاونت فراہم کرنے کے شعبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سیف اللہ کی گرفتاری سے کچھ عرصے قبل ہی ان کے سب سے بڑے بیٹے عزیر پراچہ کو مارچ 2003 میں نیویارک میں گرفتار کیا گیا اور عزیر پراچہ کی جانب سے دوران تفتیش دیے گئے بیانات ہی دراصل سیف اللہ پراچہ کی گرفتاری کی ایک اہم وجہ بنے۔
جب عزیر کو گرفتار کیا گیا تو ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر القاعدہ کے رکن ماجد خان اور عمار ال بلوچی کو دہشتگردی کےلیے معاونت فراہم کی۔ تاہم عزیر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے ماجد خان کی کچھ کاغذات کے حصول میں مدد ضرور کی لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ماجد خان یا عمار ال بلوچی کا تعلق القاعدہ سے ہے۔
عزیر پراچہ کی عمر 23 سال تھی جب انہیں امریکہ کی انسداد دہشتگردی فورس کی جانب سے 2003 میں نیویارک سے گرفتار کیا گیا۔ عزیر اپنے والد سیف اللہ کی طرح امریکی شہریت کے حامل تھے اور اپنے کاروبار کے سلسلے میں امریکہ میں موجود تھے تاکہ وہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو کراچی میں واقع ان کے والد کے پر تعیش اپارٹمنٹس فروخت کر سکیں۔
عزیر کا رہن سہن اور حلیہ ماڈرن تھا کیوں کہ وہ نہ صرف متعدد بار امریکہ کا سفر کر چکے تھے بلکہ انہوں نے کراچی کے مشہور نجی اسکول سے تعلیم بھی حاصل کی تھی۔
عزیر نے دوران تفتیش بتایا انہوں نے ماجد خان کی مدد اپنے والد سیف اللہ پراچہ کے کہنے پر کی۔ ماجد خان امریکی نژاد پاکستانی ہیں اور وہ میری لینڈ کے رہائشی تھے جہاں وہ اپنے والد کے گیس اسٹیشن پر کام کرتے تھے۔
ماجد خان کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پانچ مارچ سنہ 2003 کو کراچی سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ساڑھے تین سال تک انہیں خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا اور ان کے اہلِخانہ کا بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
ماجد خان پر الزام تھا کہ وہ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ساتھ مل کر امریکہ میں ایک گیس اسٹیشن کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
عزیر کے پولیس کو دیے گئے بیانات کے مطابق ماجد خان نے انہیں ان کے امیگریشن کے دستاویزات سے متعلق پیش رفت جاننے اور امریکہ میں ان کے نام پر قائم پوسٹ آفس باکس بند کرنے میں مدد طلب کی تھی۔ امریکی حکومت کا دعوی ہے کہ یہ وہی پوسٹ آفس باکس ہے جسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ماجد خان کے نام پر میری لینڈ میں کھولا اور اسی مقصد کےلیے انہوں نے دسمبر 2002 میں امریکہ کا سفر کیا۔
تاہم ڈاکٹر عافیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ نوکری تلاش کرنے کے مقصد سے گئی تھیں۔
جب عزیر پراچہ کو گرفتار کیا گیا تو ان سے اس پوسٹ آفس باکس کی چابی بھی برآمد ہوئی۔ اس کے علاوہ ماجد خان نے عزیر کو اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کو کہا اور اس کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروانے کو کہا۔ اس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ ماجد خان امریکہ میں ہیں۔ تاہم عزیر کو یہ دونوں ہی کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔
عزیر پراچہ پر ایک اور مبینہ القاعدہ رکن عمار ال بلوچی سے تعلقات کا الزام بھی عائد کیا گیا تاہم عزیر کے مطابق انہوں نے عمار ال بلوچی سے صرف اس لیے ملاقات کی تھی کیوں کہ انہوں نے ان کے والد کے کاروبار میں 18 سے 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
خیال رہے کہ عمار ال بلوچی خالد شیخ محمد کے بھانجے تھے اور مبینہ طور عافیہ صدیقی کے دوسرے شوہر تھے۔ عزیر نے گرفتاری کے فوراً بعد دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے والد سیف اللہ پراچہ کے القاعدہ سے تعلقات ہیں لیکن ان کے والد نے کبھی ان سے اس متعلق بات نہیں کی۔ تاہم بعد میں عزیر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عزیر نے یہ بیان دباؤ میں آ کر دیا تھا۔
عزیر اور سیف اللہ پراچہ دونوں کا اصرار تھا کہ انہوں نے ماجد خان اور عمار ال بلوچی کی مدد ضرور کی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان دونوں کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ اس کے علاوہ ماجد خان اور عمار ال بلوچی نے بھی اپنے بیانات میں اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی سیف اللہ اور عزیر کو اپنے القاعدہ سے تعلقات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔
سنہ 2006 میں ایک امریکی عدالت نے عزیر پراچہ کو القاعدہ کے ارکان کی مدد کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنائی تاہم 2018 میں اسی عدالت کے جج نے نئے شواہد سامنے آنے کی روشنی میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور ٹرائل کو نئے سرے سے کرنے کا حکم دیا۔
تاہم امریکی حکومت نے اس ٹرائل کی مزید پیروی کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیوں کہ عزیر 16 سال اپنی سزا کاٹ چکے ہیں اور انہوں نے اپنی امریکی شہریت سے بھی دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے لہٰذا حکومت مزید وقت اور وسائل اس کیس پر خرچ نہیں کرنا چاہتی جس کے بعد عزیر پراچہ کو 2020 میں رہا کر کے پاکستان بھجوا دیا گیا۔
واضح رہے کہ گرفتاری سے قبل سیف اللہ پراچہ کا شمار کراچی کے کامیاب بزنس مین میں ہوتا تھا۔ وہ 1970 میں نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے امریکہ گئے۔ وہ اپنی ڈگری تو مکمل نہ کر سکے لیکن 1974 میں انہوں نے اپنے بھائی کی مدد سے ‘گلوبل ٹریول سروسز’ کے نام سے ٹریول ایجنسی کھولی اور 13 سال امریکہ میں ہی گزارے۔ امریکہ میں ہی ان کی ملاقات اپنی اہلیہ فرحت سے ہوئی اور 1979 میں ان کی شادی ہوئی جن سے ان کے چار بچے ہیں۔ سیف اللہ پراچہ نماز کے پابند تھے اور صاحب حیثیت ہونے کی وجہ سے خیراتی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو کراچی کے بہترین اسکولوں سے تعلیم دلوائی۔
سنہ 2009 میں دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں سیف اللہ کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ سیف اللہ پراچہ نائن الیون سے پہلے دو مرتبہ افعانستان بھی گئے جہاں ان کی مبینہ طور پر اسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی تھی۔
فرحت پراچہ کے مطابق ان کے شوہر صنعتکاروں کا وفد لے کر افغانستان گئے تھے تاکہ مسلمان بھائیوں کی مدد کےلیے اس تباہ حال ملک میں پلاسٹک اور بائی سائیکل کی فیکٹریاں لگائی جا سکیں۔ اطلاعات کے مطابق سیف اللہ پراچہ نے اسامہ بن لادن سے کہا تھا کہ ‘تم جو یہاں کر رہے ہو اس سے امریکہ تمہارے خلاف ہوگیا ہے۔ تم اپنا مؤقف بتاؤ اور ہمیں ایک انٹرویو دو۔‘ اس مقصد کےلیے وہ اپنا وزٹنگ کارڈ بھی اسامہ کے پاس چھوڑ آئے تھے۔
امریکی حکومت کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر چھاپے کے دوران سیف اللہ کا وزٹنگ کارڈ برآمد ہوا تھا جس کے بعد ان پر الزام عائد کیا گیا انہوں نے اسامہ کو پاکستان میں اپنے نشریاتی بزنس پر القاعدہ کے پراپیگنڈہ کرنے کی پیش کش کی۔
گوانتاناموبے ٹریبونل کے سامنے دیے گئے اپنے بیان میں پراچہ نے اعتراف کیا کہ وہ دسمبر سنہ 1999 اور جنوری سنہ دو ہزار میں افغانستان میں اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ سیف اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو انٹرویو کی پیشکش صرف اس لیے کے کیوں کہ وہ چاہتے تھے اسلام اور دیگر مذاہب میں اختلافات کو کم کیا جا سکے۔ سیف اللہ نے بتایا کہ 2001 میں ‘میر’ نامی ایک شخص کراچی میں ان کے دفتر ان سے ملاقات کےلیے آیا اور وہ ان کے اسامہ بن لادن کے انٹرویو سے متعلق مزید جاننا چاہتا تھا۔ سیف اللہ کے بیان کے مطابق میر نامی شخص نے ہی انہیں اپنے ساتھی مصطفیٰ اور ماجد خان سے ملوایا اور جب ماجد خان کو معلوم ہوا کہ سیف اللہ کا بیٹا عزیر بزنس کے سلسلے میں امریکہ جا رہا ہے تو انہوں نے اس سے مدد کی درخواست کی۔
یکم مارچ 2003 کو جب سی آئی اے اور پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے خالد شیخ محمد کو راولپنڈی سے گرفتار کیا اور اس کی خبر ٹی وی پر چلی تو سیف اللہ پراچہ کو احساس ہوا کہ وہ جس شخص کو میر سمجھ کر ملتے رہے وہ دراصل القاعدہ کے سرکردہ رہنما خالد شیخ محمد ہیں اور ان کے ساتھی مصطفیٰ دراصل عمار ال بلوچی ہیں۔ سیف اللہ کے بیان کے مطابق وہ ‘میر!’ اور ‘مصطفی’ نامی شخص سے صرف اس لیے رابطے میں رہے کیوں کہ انہیں لگا کہ یہ دونوں ان کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سیف اللہ پراچہ پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ خالد شیخ محمد نے انہیں پانچ سے چھ لاکھ ڈالر کی رقم امانت کے طور پر دی تھی اور سیف اللہ پراچہ نے خالد شیخ محمد کو بین الاقوامی جہاز رانی کے ذریعے ہونے والی تجارت میں اپنے طویل تجربہ کی بنیاد پر عورتوں اور بچوں کے کپڑوں میں چھپا کر دھماکہ خیز مواد امریکہ اسمگل کرنے میں اپنی خدمات کی پیش کش کی تھی۔ تاہم سیف اللہ نے ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔
سیف اللہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ امریکی سینٹ کی رپورٹ کے مطابق خالد شیخ محمد نے یہ بیانات تفتیشی افسران کی جانب سے ان پر اذیت ناک تشدد کیے جانے کے بعد دیے۔ اس کے علاوہ بعد میں جب خالد شیخ محمد کو سیف اللہ پراچہ کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ عمار ال بلوچی نے بھی دوران تفتیش اعتراف کیا کہ سیف اللہ ان کے القاعدہ سے تعلقات سے آگاہ نہیں تھے اور انہیں سیف اللہ سے میڈیا میں استعمال ہونے والے سامان اور اس کی ترسیل سے متعلق معلومات حاصل کیں تھی۔
مارچ 2003 میں خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے چند دن بعد ہی ماجد خان کو پاکستانی اہلکاروں کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا تھا جس نے دوران تفتیش سیف اللہ پراچہ اور عزیر پراچہ کے نام لیے۔ اس کے بعد نیویارک میں عزیر کو گرفتار کیا گیا اور اپریل 2003 ہی میں عمار ال بلوچی کو کراچی ائیرپورٹ سے اغوا کرکے امریکی حراست میں دے دیا گیا۔ یہ وہی وقت تھا جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔ اس کے بعد جولائی 2003 میں سیف اللہ کو بینکاک سے گرفتار کیا گیا۔
سیف اللہ کی اہلیہ فرحت سیف اللہ نے بتایا تھا کہ سیف اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کے اہلِ خانہ سے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے کنارہ کشی کرلی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم جس سے بھی بات کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ہم سے دور بھاگتا تھا۔ میں ایک ہاتھ پر بھی اپنے دوستوں کو نہیں گن سکتی یہاں تک کہ بہت سے قریبی رشتہ داروں نے بھی ہم سے رابطہ ختم کر دیا تھا۔
سیف اللہ پراچہ کے اہل خانہ نے اس وقت کے صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ امریکی سفیروں کو بھی خطوط لکھے ہیں مگر ان میں سے کسی نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا۔
سنہ 2009 میں جب انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی جانب سے گوانتانامو کے قیدیوں کی ان کے گھر والوں سے ویڈیو کانفرنس کروانے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا تو سیف اللہ پراچہ نے اپنے خاندان کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی جس میں انہوں نے اپنی خراب صحت سے متعلق آگاہ کیا۔ جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ اور وکیل ان کے بہتر علاج اور رہائی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔
جب امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تو انہوں نے گوانتانامو بے کو بند کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جس نے گوانتاناموبے میں قید سیف اللہ جیسے متعدد قیدیوں کو رہائی کی امید دلائی تاہم اپنے آٹھ سالہ دور صدارت کے دوران اوبامہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے اور ان کے بعد آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوانتانامو بے کو بند کرنے سے انکار کر دیا بلکہ اس کو مزید ‘برے افراد’ سے بھرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
بہت سے مبصرین یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ صدر جو بائیڈن گوانتاناموبے میں قید بقیہ 40 قیدیوں کی رہائی کےلیے اقدامات کریں گے اور سابق صدر براک اوبامہ کیا ہوا وعدہ پورا کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button