اسرائیل کا زویا ناصر کے منگنی توڑنے سے کیا تعلق ہے؟

اداکارہ، ماڈل اور یوٹیوبر زویا ناصر نے اسلام قبول کرنے والے جرمن یوٹیوبر کرسٹین بیٹزمین المعروف کرس بیٹزمین سے منگنی ختم کرنے کا اعلان کیا یے جسکی بنیادی وجہ ان کے اسرائیل نواز خیالات بتائے جا رہے ہیں۔
زویا ناصر نے انسٹاگرام پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے منگیتر کرسٹین بیٹزمین المعروف کرس بیٹزمین کا اچانک پاکستان اور اسلام سے متعلق رویہ تبدیل ہوا، جس پر انہوں نے ان سے اپنی منگنی ختم کردی۔ زویا نے مداحوں کو بتایا کہ اب وہ اور کرس بیٹزمین رشتے میں نہیں رہے اور نہ ہی وہ شادی کریں گے۔ اداکارہ و ماڈل نے لکھا کہ بعض ایسی وجوہات، معاشرتی و مذہبی حدود ہوتی ہیں، جنہیں کسی طور پر بھی کراس نہیں کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام، رواداری اور خلوص کے ساتھ رہنا چاہیے۔ لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ منگنی توڑنے سے تین روز قبل ہی زویا نے اپنے منگیتر کے ساتھ یوٹیوب پر ویڈیو شیئر کی تھی۔ اداکارہ کے اعلان کے بعد زیادہ تر لوگوں نے کرس بیٹزمین پر اسلام اور پاکستان دشمن ہونے کے الزامات لگانا شروع کردیے اور ان کی جانب سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کو بھی ڈراما قرار دیا ہے۔ تاہم مداحوں کی جانب سے الزامات لگائے جانے اور زویا ناصر کی پوسٹ کے بعد کرس نے انسٹاگرام پر وضاحت کی کہ انہوں نے نہ تو کسی کے مذہب کے بارے میں کچھ غلط لکھا ہے اور نہ ہی انہوں نے کوئی پاکستان مخالف بات کی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے اسرائیل کے مسلمانوں کی حمایت کی تھی۔ کرس بیٹزمین نے واضح کیا کہ پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے، یہاں گندگی کے ڈھیروں سمیت دیگر مسائل موجود ہیں اور ایسے حقائق پر بات کرنے کا مطلب پاکستان سے نفرت یا اس کی مخالفت نہیں ہے۔ جرمن یوٹیوبر نے لکھا کہ یہ جان لیں کہ وہ کسی معاملے پر معافی نہیں مانگ رہے بلکہ یہ بہت مزاحیہ بات ہے کہ لوگ باتوں کو آپس میں ملا رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ میں نے پاکستانی ثقافت کو اپنایا، یہاں کی زندگی میں گھل مل گیا اور اگر میں پاکستانی مسائل پر بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے حقیقی معنوں میں پاکستانی مسائل کی فکر ہے۔
یاد رہے کہ زویا ناصر نے رواں برس عالمی یوم محبت کے موقع پر اپنے دیرینہ دوست جرمن یوٹیوبر کرسٹین بیٹزمین المعروف کرس بیٹزمین سے منگنی کی تھی۔ دونوں نے 19 فروری 2021 کو منگنی کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور یوٹیوب ویڈیو میں بتایا تھا۔ منگنی سے کچھ دن قبل ہی زویا ناصر کے مذکورہ جرمن دوست نے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھی کہ انہوں نے زویا کی محبت کی خاطر اسلام قبول کیا ہے۔ منگنی کے بعد دونوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ مناسب وقت پر شادی کریں گے اور دونوں سوشل میڈیا پر ایک ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے رہتے تھے۔ زویا کہ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک نجی گفتگو کے دوران کرس نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر کئے جانے والے مظالم کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد بات بڑھ گئی اور جھگڑا طول پکڑ گیا جسکا نتیجہ قطعی تعلقی پر منتج ہوا۔
تاہم کرس بیٹزمین نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کسی مذہب یا اس کی دعاؤں کا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ دعائیں اور عبادات خوبصورت ہوتی ہیں مگر بعض اوقات وہ کام نہیں کرتیں، خاص طور پر جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو اسے روکنے کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ جرمن یوٹیوبر نے واضح کیا کہ وہ مسلمان ہونے کے ناطے اسرائیلی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور انہوں نے کسی طرح سے بھی اسرائیل کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے لکھا کہ جب میں نے اسلام قبول کیا، تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ امن اور پیار کا مذہب ہے مگر جب وہ سوشل میڈیا پر پاکستانی لوگوں کے کمنٹس دیکھتے ہیں تو انہیں کہیں سے بھی کوئی پیار اور محبت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہم لوگ ہی اپنے اچھے رویوں کے ذریعے پوری دنیا میں مذہب کے حوالے سے اچھا پیغام دے سکتے ہیں۔ کرس بیٹزمین نے مذید لکھا کہ ’مسلمانوں، ایشیائی افراد، آرمینیائی لوگوں، ہم جنس پرست افراد، مسیحیوں اور یہودیوں سے نفرت کی گنجائش نہیں‘۔
دوسری جانب اداکارہ زویا کی جانب سے منگنی توڑنے کے اعلان کے بعد کئی شوبز شخصیات نے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائیں کیں اور امید کا اظہار کیا کہ ان کا مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔ زویا ناصر کی جانب سے منگنی ختم کرنے پر بعض مداحوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا، تاہم کچھ افراد نے منفی کمنٹس بھی کیے ، زیادہ تر لوگوں نے زویا ناصر کو بہادر قرار دیتے ہوئے ان کے لیے لکھا کہ انہیں مزید بہتر انسان مل جائے گا۔
