چودھری نثار کو بے آبرو ہوکر گھر کیوں جانا پڑا؟


23 مارچ کے روز سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو اس وقت شدید خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ تین برس کے وقفے کے بعد بطور رکن صوبائی اسمبلی حلف لینے کے لیے پنجاب اسمبلی پہنچے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو اسپیکر دستیاب ہوسکے اور نہ ہی ڈپٹی سپیکر، لہذا انہیں حلف لییے بغیر ہی لاہور سے اسلام آباد واپس جانا پڑ گیا۔ چودھری نثار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں حلف لینے سے روکنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی اور اسی لئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر دونوں ہی پنجاب اسمبلی سے غیر حاضر ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت بلاوجہ چوہدری نثار سے خائف ہو گئی ہے حالانکہ ان کے حلف لینے کے پیچھے کسی قسم کی کوئی سازش یا سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نثار کے خدشات بے بنیاد ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کے بیرون ملک ہونے کے باعث چوہدری پرویز الہی قائم مقام گورنر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس لیے وہ 23 مئی کو پنجاب اسمبلی نہیں جاسکتے تھے۔ تاہم نثار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چوہدری پرویز الہی اسمبلی نہیں آ سکے تھے تو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیوں غیر حاضر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی غیر موجودگی میں بھی کسی رکن اسمبلی کو پینل آف چئیرمین کے ذریعے حلف دلوایا جا سکتا ہے تاہم چونکہ حکومت ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی لہذا چوہدری نثار کو حلف نہیں دلوایا گیا۔
دوسری جانب تمام تر کوششوں کے باوجود حلف نہ لے سکنے کے بعد بڑے بے آبرو ہوکر پنجاب اسمبلی سے نکلنے والے چوہدری نثار علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سیاسی کھیل کا حصہ نہیں ہیں اور اس حوالے سے تمام تر افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انھیں بتایا گیا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی غیر موجودگی میں حلف نہیں لیا جا سکتا، جو بالکل غلط ہے اور اس کے خلاف وہ قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔نثار علی خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ہفتے پہلے پنجاب اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو اپنے حلف کے بارے میں بتا دیا تھا مگر آج کہا گیا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے بغیر حلف نہیں لیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ چیئرمین کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ تین برس بعد وہ حلف کیوں اٹھانا چاہ رہے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت ایک خود ساختہ آرڈیننس لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ۔لوگ ایک آرڈیننس لانے کی کوشش میں ہیں کہ جو ارکان مخصوص مدت کے دوران حلف نہ اٹھا پائیں انھیں نااہل قرار دیا جائے۔ اگر کسی کی نااہلی قانون کے ذریعے ہو تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر رات کے اندھیرے میں آرڈیننس لایا جائے تو پھر ہمیں اعتراض ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں عمران خان کو یہ مشورہ دوں گا کہ ٹھنڈا کر کے کھائیں۔ حکمران کو سب سیاسی نقطہ ہائے نظر کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ آج اس ملک کو افہام و تفہیم اور اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں دوست بنائے جانے چاہئیں نہ کہ دشمن۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت نے آئندہ بھی ان کو حلف نہ اٹھانے دیا تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟ نثار نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ قانونی ذرائع استعمال کریں گے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وہ اپنے وکلاء سے مشورہ کر رہے ہیں اور اگلے چند روز میں حتمی لائحہ عمل کا اعلان کردیں گے۔
اس سے پہلے چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حلف اٹھانے سے قطعی طور پر میرے موقف یا سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حلف اٹھانے کے بعد تنخواہ سمیت پنجاب اسمبلی سے کسی قسم کی مراعات نہیں لیں گے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے حلقے کے عوام کے ساتھ مشاورت کے بعد انہوں نے حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کا بنیادی مقصد حلقے میں سیاسی حالات اور محرکات کو کنٹرول کرنا ہے۔ یہ عجیب منطق ہوگی کہ ایک طرف سیٹ چھوڑ دی جائے اور پھر دوسرے ہی سانس میں ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اور میدان کھلا چھوڑنا، اس سے بھی بڑی سیاسی غلطی ہوگی اور خاص طور پر جب عام انتخابات ہونے میں ڈیڑھ دو سال باقی ہوں۔
یاد رہے کہ چوہدری نثار 1985 سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور آٹھ بار مسلسل منتخب ہوئے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ہار گئے تھے کیونکہ انہوں نے میاں نواز شریف سے اختلافات کے بعد بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
لیکن دونوں قومی اسمبلی کی سیٹیں ہارنے کے باوجود وہ صوبائی اسمبلی کی نشست سے گائے کے انتخابی نشان پر 30 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت گے تھے۔ تب انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں غلام سرور خان نے دھاندلی سے ہروایا اور اس لیے وہ صوبائی اسمبلی کا حلف بھی احتجاجاً نہیں لیں گے۔ خیال رہے کہ چودھری نثار کی مسلم لیگ ن اور شریف برادران سے طویل رفاقت سنہ 2018 میں ٹوٹی جب نواز شریف سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہوئے اور ان کی بیٹی مریم نواز نے سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ چوہدری نثار نے پاڈا گیری دکھاتے ہوئے مریم نواز کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں کل کی بچی قرار دے دیا تھا جس کے بعد ان کے اور نواز شریف کے مابین فاصلے بڑھتے گئے اور بالآخر انہیں آزاد امیدوار کے طور پر 2018 کا الیکشن لڑنا پڑا۔
البتہ سیاسی مبصرین کے مطابق شہباز شریف اپنی صلح جو طبیعت کی وجہ سے چوہدری نثار کے بہت قریب ہیں اور یہ دوستی اب بھی جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل شریف برادارن کی والدہ کی وفات پر چوہدری نثار طویل عرصے کے بعد تعزیت کے لیے رائے ونڈ بھی گئے تھے۔ تاہم جب کچھ عرصہ پہلے وہ لندن گئے تو ان کی میاں نواز شریف سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔

Back to top button