کیا اقرار الحسن کو بھی تھپڑ رسید کیا جانا چاہئے؟


اسٹیبلشمینٹ نواز ٹی وی چینل اے ار وائی کے اتھرے اینکر پرسن اقرار الحسن ٹوئٹر پر اس وقت اچانک سے ٹرینڈ کرنے لگے جب ان کی ایک شہری کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے خلاف ٹی وی پروگرام کرنے کا دعوی کرنے والے اینکر نے خود کس قانون کے تحت یہ حرکت کی۔ سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کے بعد اقرارالحسن نے اپنی حرکت پر معافی تو مانگ لی لیکن صارفین کا اصرار ہے کہ حساب برابر کرنے کے لئے تھپڑ مارنے والے شہری کو بھی اینکر پرسن کو جوابی تھپڑ مارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنے ٹی وہ شو کی ریکارڈنگ کے دوران اقرار الحسن نے ایک شخص کو تھپڑ دے مارا، اس ویڈیو کلپ نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا تو اقرار الحسن نے وضاحتی ٹویٹ جاری کی اور معافی مانگ لی۔ گویا بات ختم ہو گئی۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین ٹی وی میزبان پر تنقید کرتے ہوئے یاد دلوا رہے ہیں کہ اقرارالحسن نے نہ صرف آن کیمرا ایک شہری کو تھپڑ رسید کیا بلکہ اپنی اس قبیح حرکت کی ویڈیو بھی وائرل کردی لہذا حساب برابر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بےعزت ہونے والے شہری کو بھی اینکر پرسن کو آن کیمرہ تھپڑ مارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ’کسی اینکر پرسن کو کسی بھی شخص کو تھپڑ مارنے کا کوئی حق نہیں، چاہے وہ ملزم ہی کیوں نہ ہو۔‘ دوسری جانب کراچی میں بٹ کڑاہی کے نام سے ایک ریسٹورینٹ چلانے والے اینکر اقرارالحسن نے اپنے وضاحتی بیان میں ٹویٹر لکھا کہ میں نے ایک 12 سالہ بچی کو باندھ کر اس کی برہنہ ویڈیو بنانے والے شخص کو تھپڑ مارا؟ میں صرف تھپڑ مارنے کی وجہ بتا رہا ہوں، اپنے اس عمل کا دفاع نہیں کر رہا۔‘
اقرار نے کہا کہ اگر لوگ یہ ویڈیو دیکھیں گے تو انکو اندازہ ہو گا کہ میری جگہ آپ ہوتے تو آپ بھی یہی کرتے، پھر بھی میرے ہاتھ اٹھانے کا کوئی جواز نہیں۔ مجھے اپنی اس حرکت پر ندامت ہے۔‘ ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ ’جب ہم اس بلیک میلر کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس نے لڑکی پر الزام لگایا گیا کہ اس نے میری کار سے ڈیڑھ لاکھ روپے چوری کیے۔‘ ملزم کو تھپڑ رسید کرنے پر معافی مانگتے ہوئے ٹی وی میزبان نے کہا کہ اس شخص کی گھناؤنی حرکت کی وجہ سے وہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھے۔
تاہم بہت سے صارفین کا کہنا تھا کہ قانون کو ہاتھ میں لینا کہاں کا انصاف ہے۔ صارف احمد بھٹی نے اقرار الحسن کو مخاطب کر کے لکھا کہ ’تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتے، اس طرح تو یہ ملک جنگل بن جائے گا اور ہر شخص خود ہی سزائیں دے گا۔‘
لیکن سوشل میڈیا پر بعض صارفین اقرار الحسن کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔
اقرار الحسن کی وضاحت کے بعد صارفین نے ان کے حق میں ٹویٹس بھی کیے۔ صارف سعد ارسلان صادق لکھتے ہیں کہ ’مجھے یقین تھا کوئی نہ کوئی معقول وجہ ہوگی تب ہی آپ جیسا شخص اس طرح جذبات میں آیا۔‘ ٹوئٹر ہینڈل عالمگیر خان مشوانی نے لکھا ’اقرار بھائی بلاشبہ اس شخص کی حرکت بڑی گھناؤنی تھی مگر آپ بھی تھوڑا ضبط کرنا سیکھیں پلیز۔‘

Back to top button