اسلام آباد لائرز کنونشن میں وکلا عمران خان پر برس پڑے

اسلام آباد لائرز کنونشن کے دوران وکلا سابق وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے کارکن نہیں بلکہ وکیل ہیں اور ہمیں آپ سے ہر طرح کا سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسلام آباد بار کونسل کے رکن علیم عباسی نے عمران خان کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے ان پر کئی سوالات اٹھا دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن جماعتوں کا آئینی اور جمہوری حق تھا لیکن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے جس طرح آئین شکنی کرتے ہوئے گند ڈالا وہ ایک سیاسی جماعت اور اسکے قائد کو زیب نہیں دیتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت وقت ہی آئین کی پاسداری نہیں کرے گی تو پھر اور کون کرے گا۔
اپنی تقریر میں علیم عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب، بہت سارے سوالات آپ اور آپ کی پالیسیوں کے حوالے سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اور یہ سوالات کرنے کا ہمیں پورا حق حاصل ہے۔ ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اتنی بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر رہتے ہوئے آپ نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں غیر جمہوری اور غیر آئینی رویہ کیوں اپنایا اور حکومت بچانے کی کوشش میں اپنی ساکھ کو کیوں تباہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے غیر آئینی اقدامات سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی رد کر دیے جس کے بعد تحریک انصاف کے پلے کیا رہ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے بارے میں عمران خان کا اپنا سازشی بیانیہ تو ہو سکتا ہے لیکن عدم اعتماد کی تحریک پاکستان کے آئین اور قانون کے عین مطابق تھی اور آئینی تحریک کا مقابلہ آئینی طریقے سے کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنا تھی جو آپ نہیں کر پائے کیونکہ آپ کی اتحادی جماعتیں آپ کا ساتھ چھوڑ گئی ہیں۔ لیکن اگر ایسا سازش کے نتیجے میں بھی ہوا تھا تو با عزت اور باوقار طریقے کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن آپ نے جس طرح سے اس سارے معاملے کو ہینڈل کیا، وہ طریقہ کار درست نہیں تھا ، اس نے آپ کے جمہوریت پسند ہونے کے دعوے کو داغدار کیا ہے۔
