پاک فضائیہ کا ایف 16 طیارہ شکرپڑیاں کے قریب گر کر تباہ، پائلٹ شہید

پاک فضائیہ کاF-16 طیار ہ23مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ریہرسلز کے دوران اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب چاند تارہ جنگل میں گر کر تباہ ہو گیاہے۔ جب کہ اس میں سوار پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم بھی شہید ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب چاند تارہ جنگل میں پاک فضائیہ کا ایف-16 طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے حادثے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ افسوس کے ساتھ آگاہ کررہی ہے کہ اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب پی اے ایف کا ایف-16 طیارہ 23 مارچ پریڈ کی ریہرسل کے دوران گر کر تباہ ہوگیا‘۔ترجمان کے مطابق طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم بھی حادثے میں شہید ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ریسکیو ٹیمز کو طیارہ تباہ ہونے کے مقام پر روانہ کردیا گیا اور ایئر ہیڈکوارٹرز نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا ہے‘۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم نقصانات کا اندازہ لگارہے ہیں‘۔
حادثے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ڈاکٹرز، طبی عملہ، فائر بریگیڈ گاڑیاں اور ایمبولینسز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دوران پرواز طیارے کا رخ اچانک زمین کی طرف ہوا اور گرکر تباہ ہوگیا، طیارہ گرنے کے بعد آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل دور دور تک اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں جائے حادثہ سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفاعت نے حادثے کے بارے میں کہا کہ طیارہ گرنے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی ساختہ ایف-16 فیلکن لڑاکا طیاروں کو ملٹی رول کومبیٹ ہمہ جہت جنگی طیارے کا درجہ حاصل ہے۔
ایف-16 فیلکن ایک انجن والا، آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والا طیارہ ہے، جو (Mach 2) رفتار پر 9-جی کی گریویٹی فورس (جی-فورس) پر مینوور کرسکتا ہے۔ امریکی کمپنی کے تیار کردہ ایف-16 فیلکن کی پہلی پرواز 20 جنوری 1974ء کو ہوئی جس کے بعد اس طیارے کو امریکی ایئر فورس میں 17 اگست 1978ء میں شامل کرلیا گیا تھا۔ ایف-16 فیلکن طیارے کو امریکی افواج نے کوریا اور ویتنام جنگ میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں طیارے کے وزن کو کم کرنے اور اس کی *مینوور (Maneuver) کرنے کی صلاحیت بڑھانا شامل تھا۔ پاکستان نے سب سے پہلے 1983ء میں 45 ایف-16 طیارے اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیے۔
پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پڑی تو امریکا نے ایف-16 طیاروں کی فراہمی کا سلسلہ بحال کیا تھا۔ سال 2009ء میں پاک فضائیہ کے بیڑے میں مزید 14 طیارے اور سال 2010ء میں ایک بار پھر 14 ایف-16 طیارے شامل ہوئے، یوں پاک فضائیہ کے زیرِ استعمال ایف-16 طیاروں کی کُل تعداد 68 ہوگئی۔
یاد رہے اس سے قبل 12 فروری کو خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ دوران پرواز گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں پائلٹ باحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔ ادھر 7 فروری کو صوبہ پنجاب کے شہر شورکوٹ کے قریب معمول کی پرواز کے دوران پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی و مالی نقصان ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ قبل ازیں 7 جنوری کو میانوالی کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گرکر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ شہید ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان ایئر فورس کے تربیتی طیارہ گرنے کے چند واقعات ماضی قریب میں پیش آئے ہیں جن میں ہوا بازوں نے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔24 نومبر 2015 کو طیارہ حادثے کا شکار ہوکر پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ آفیسر مریم مختار شہید ہوگئیں تھیں جو ایف ٹی سیون پی جی (FT-7PG) طیارے کی معمول کی پرواز پر تھیں۔مئی 2017 میں طیارہ حادثے کے 2 واقعات پیش آئے تھے جن میں پہلا واقعہ 2 مئی کو صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیش آیا تھا جہاں میراج طیارہ گر کر تباہ ہوا، لیکن اس حادثے میں پائلٹ محفوظ رہے تھے۔ 25 مئی 2017 کو میانوالی کے قریب پیش آنے والے ایک اور واقعے میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ ایف 7 پی جی گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس حادثے میں بھی خوش قسمتی کے ساتھ پائلٹ محفوظ رہے تھے۔ اگست 2017 میں بھی طیارہ گرنے کے 2 واقعات پیش آئے تھے جن میں پہلا واقعہ 9 اگست کو میانوالی سبزہ زار کے قریب پیش آیا جہاں ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں پائلٹ ذیشان شہید ہوگئے تھے۔
17 اگست 2017 کو سرگودھا کے قریب ایف سیون پی جی (F-7PG) طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا، تاہم اس پائلٹ محفوظ رہے تھے۔ گزشتہ سال کے اوائل میں بھی اس طرح ایک واقعہ پیش آیا تھا جب بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ شہید ہوگئے تھے۔
