اسلام آباد ہائیکورٹ:لاپتہ افراد کیس میں 2018کا فیصلہ ،جرمانے بحال

لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم، لاپتہ افراد کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ کا 2018کا فیصلہ برقرار،عدالت نے جرمانے بھی بحال کردیئے۔

عدالت نے لاپتہ ساجد محمود کی اہلیہ کی درخواست پر جسٹس اطہر من اللہ کا 2018 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے خصوصی بینچ نے جسٹس اطہر من اللہ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔وفاقی حکومت کی فیصلے کے خلاف اپیلیں عدالت نے مسترد کردیں۔

2018کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الحسن شاہ کیا ایک لاکھ جرمانہ بحال،2018کے  چیف کمشنر ذوالفقار حیدر کو کیا گیا ایک لاکھ جرمانہ بحال،2018کے آئی جی اسلام آباد خالد خان خٹک کو بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ  بحال کردیا۔2018کے ڈپٹی کمشنر مشتاق احمد کو کیا ایک لاکھ روپے جرمانہ بحال،ایس ایچ او پولیس قیصر نیاز کو کیا گیا تین لاکھ روپے کا جرمانہ بھی بحال کردیا۔

درخواست گزار مائرہ ساجد کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدہ افراد کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیا

 چیف جسٹس عامر فاروق نےریمارکس دیئے کہ حکومت جبری گمشدہ افراد کمیشن کیلئے کیا کرنا چاہتی ہے جو کسی کام کا نہیں ہے؟ کیا کمیشن کے چیئرمین اور ممبرز کو تنخواہیں بھی ملتی ہیں؟کیا یہ جبری گمشدہ افراد کمیشن قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ اس حوالے سے تو کمیشن نے بتانا ہے،۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کمیشن کیا بتائے گا آپ حکومت ہیں آپ نے بتانا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ کمیشن نے ساڑھے دس ہزار میں سے ساڑھے سات ہزار کیسز نمٹائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ اعداد و شمار لے جا کر ڈی چوک پر لگا دیں یہ بس اعداد و شمار ہی ہیں۔

Back to top button