اسٹیبلشمنٹ نواز اور مریم کی بجائے شہباز کو اقتدار دے گی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ جب تک مسلم لیگ نون کا کنٹرول نواز شریف اور مریم نواز کے پاس ہے، فوجی اسٹیبلشمینٹ اسے دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دے گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جب بھی آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوں گے، مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے جیت جائے گی اور نواز شریف اور مریم اقتدار میں آجائیں گے۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔لہذا اسٹیبلشمنٹ تہیہ کرچکی ہے کہ اس کی نوبت نہیں آنے دینی۔ وہ ایک ہی صورت میں مسلم لیگ ن کی فتح گوارا کرسکتی ہے کہ اس کا کنٹرول نوازشریف اور مریم کی بجائے شہباز شریف کے پاس ہو۔
فرائیڈے ٹائمز کے ادارتی صفحے پر نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا نصف دورانیہ مکمل کرنے والی تحریک انصاف کی ہائبرڈ حکومت کو اپنے بقا کا مسلہ درپیش ہے۔ اس نے معیشت کا دھڑن تختہ کردیا۔ عمران سرکار نے حزب اختلاف کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا لیکن عوام کے نزدیک اس کی ساکھ مجروح نہ کرسکی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کو سہارا دے کر اقتدار تک پہنچایا تھا۔ لیکن شدید عوامی تنقید کا نشانہ بننے پر اب اسٹیبلشمنٹ خود بھی اس دلدل سے نکلنے کا چارہ کررہی ہے۔
تاہم سیٹھی کے مطابق موجودہ بحران کی نوعیت ماضی میں بظاہر ایسے ہی دکھائی دینے والے مسائل سے مختلف ہے۔ اُس وقت سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ آج ملک کی سب سے مقبول جماعت، مسلم لیگ ن اورکچھ چھوٹی قومیت پرست علاقائی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی عمل داری کو چیلنج کررہی ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ اس کی صف میں کھڑی ہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں کے تاریخی کردار کا الٹ پھیر ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل رہی تھی کیوں کہ دونوں کی حمایت کا مرکز وسطی پنجاب ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی خود کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتوں کے طور پر پیش کرتی تھیں۔ اس ”تبدیلی“ کے نتیجے میں نمودار ہونے والی اختیار کی نئی تقسیم پاکستان کے طے شدہ سول ملٹری بندوبست کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے۔
تاہم نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ گہرے تضادات اور کشمکش اس عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں اورموجودہ غیر یقینی پن اور عدم استحکام کی وجہ یہی ہے۔ جب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کی عمل داری کو چیلنج کرنے لگے تو اس نے اُنہیں اقتدار سے چلتا کرنے کی منصوبہ بندی کی۔پیپلز پارٹی کو ناقابل اعتماد اور نالائق اتحادی قرار دے کر مسترد کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی نظر کرم عمران خان پر پڑی۔ اس نے تحریک انصاف کو سیاسی میدان میں قد کاٹھ نکالنے میں مدد دی، بالکل جس طرح ماضی میں اپنے اغراض ومقاصد کے لیے سیاسی جماعتوں کو مرضی سے ڈھال کر میدان میں اتارا اور کامیاب بنایا جاتا تھا۔
سیٹھی کا کہنا یے کہ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کا عمران کو اقتدار میں لاکر ہائبرڈ نظام حکومت چلانے کا تازہ تجربہ نہ صرف اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا بلکہ اس حکومت کی نالائقی اسٹیبلشمنٹ کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور اس کی ساکھ اوربالا دستی کے تصور کو زک پہنچ رہی ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کپتان اور چیف کے ایک صفحے پر ہونے کے بیانیے کو چھوڑیں، اب تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی، معاشی بحالی، انتظامی امور، احتساب، حکومت کی صفوں میں ہونے والی بدعنوانی پر ایک دوسرے کے متعلق اس قدر شکوک و شبہات کا شکار ہوچکے ہیں کہ بچاؤ اورتبدیلی کے لیے متبادل حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب اور اسلام آباد میں تحریک انصاف کے ناراض اور مایوسی کا شکار اراکین پارلیمنٹ کی وجہ سے بھی عمران خان کی پریشانی بڑھی ہے۔ وہ اراکین زیادہ مراعات اور حقوق کے لیے جمع ہوچکے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے اثاثے، جہانگیر ترین نے 2018 ء میں پنجاب اور اسلام آباد میں حکومت سازی کے لیے اراکین کے نمبر پورے کرکے تحریک انصاف کو حکومت سازی کے قابل بنایا تھا لیکن بعد میں اُن کے عزائم دیکھتے ہوئے عمران خان نے اُنہیں خود سے پیچھے ہٹا دیا۔ اب اگر ضرورت پڑی تو جہانگیر ترین ہارس ٹریڈنگ کی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تیارہوں گے۔ دوسری طرف سوچ، ہدف اور عمل میں ہم آہنگی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی بنیادرکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد تحریک انصاف کواقتدار سے ہٹانا اور اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کرنا تھا کہ وہ سیاسی عمل کو اپنی گرفت سے آزاد کر دے۔ لیکن اس وقت پی ڈی ایم کا اپنا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی مایوس کن کارکردگی جو اگلے انتخابات میں اسے سندھ میں حکومت سازی سے محروم کرسکتی تھی، کو دیکھتے ہوئے آصف زرداری بظاہر دباؤ میں آگئے اور اُنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ مریم اور نواز شریف پیپلز پارٹی کو ٹروجن ہارس سمجھتے ہیں اور وہ ان چالبازیوں کے شدید ناقد ہیں۔
لیکن سیٹھی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے ایک بڑے دھڑے کو نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف سے اختلاف ہے۔ درحقیقت شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے بہت سے مرکزی راہ نما اور حامی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے براہ ِراست تصادم کے حق میں نہیں جس کی وکالت نوازشریف اور ان کی بظاہر سیاسی وارث مریم کرتے ہیں۔ ن لیگ کے روایت پسند سیاست دان بغاوت کی نئی پالیسی سے خائف ہیں۔ تاہم وہ اپنے تصورات کو الفاظ دینے سے اس لیے گھبراتے ہیں کیوں کہ مسلم لیگ کا ووٹ نواز شریف کے پاس ہے جب کہ مسلم لیگ ن کے نوجوان حامیوں کو مریم کی قیادت میں کشش دکھائی دیتی ہے۔ جب بھی آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوں گے، مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے جیت جائے گی اور نواز شریف اور مریم اقتدار میں آجائیں گے۔ یہی سب سے بڑا مسلہ ہے۔
لہذا اسٹیبلشمنٹ تہیہ کرچکی ہے کہ اس کی نوبت نہیں آنے دینی۔ وہ ایک ہی صورت میں مسلم لیگ ن کی فتح گوارا کرسکتی ہے کہ اس کا کنٹرول نوازشریف اور مریم کی بجائے شہباز شریف کے پاس ہو۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو سہارا دیے ہوئے ہے لیکن آصف زرداری اور شہباز شریف کے ساتھ بھی اسکا رومانس جاری ہے۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ اس لیے جب شہباز شریف مسلم لیگ ن کا اختیار سنبھالنے اور پیپلزپارٹی اور فوج سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو مریم، شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، پرویز رشید اور دیگر اُنہیں ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ نواز شریف کی غیر اعلانیہ پالیسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف کو پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو واپس پی ڈی ایم میں شامل کرنے سے روکا جا رہا ہے کیوں کہ ایسا اقدام پی ڈی ایم کو اسٹیبلشمنٹ مخالف محاذکی بجائے اسٹیبلشمنٹ نواز دھڑا بنا دے گا۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ان حالات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یا کسی پاپولر اور پرتشدد تحریک کے بغیر مسلم لیگ ن تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ الٹنا تو کجا آزاد اور منصفانہ عام انتخابات بھی یقینی نہیں بنا سکتی تا کہ وہ اقتدار میں واپس لوٹ آئے۔ نہ ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ سول ملٹری توازن کو اپنے حق میں جھکا لے گی۔ ان حالات میں شہباز شریف اور آصف زرداری کا اسٹیبلشمنٹ کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھانا عملی طور پر معقول قدم دکھائی دیتا ہے۔ سیٹھی کا کہنا یے کہ صرف اسی طرح یہ جماعتیں میدان میں اتر کر کھیل میں شریک ہوسکتی ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ تزویراتی پالیسی سے معاشی پالیسی کی طرف جلدازجلد آنا چاہتی ہے کیوں کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے معاشی خوشحالی ناگزیر ہے۔ یہ عالمی برادری، خاص طور پر امریکا اور مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو خوش کرتے ہوئے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اسٹبلشمنٹ کی یہ کوشش تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن ناکام بنا رہی ہیں۔ سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف کی غیر مقبول حکومت کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جب کہ ”متبادل“ مسلم لیگ ن اس کے ساتھ محاذ آرائی پر تلی ہوئی ہے۔ اب جلد کسی نہ کسی کو پیچھے ہٹنا پڑے گا، یا کچھ کرنا پڑے گا۔ اب دیر کی گنجائش نہیں ہے۔
