کیا شہباز سے خفیہ ملاقات نوازلیگ میں دراڑڈالنے کے لیے تھی؟


سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپنے پارٹی رہنماؤں پر فوجی افسران سے ملاقات پر پابندی کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے کچھ سینئیر لیگی رہنماوں سے رابط استوار کر کے ان کے ذریعے فوجی قیادت کا ایک خفیہ پیغام نیب کی حراست میں موجود شہباز شریف کو پہنچایا۔ اس پیغام میں نواز شریف کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف میں نرمی پیدا کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ نواز لیگ کی قیادت سے معاملات بہتر بنائے جا سکیں اور شہباز شریف کی رہائی ممکن ہو سکے۔ نیب جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں خواجہ محمد آصف، احسن اقبال اور رانا تنویر حسین شامل تھے۔ تاہم اس ملاقات پر نواز شریف سخت سیخ پا ہیں کیونکہ جن لوگوں نے شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا پیغام پہنچایا وہ اس سے پہلے میاں صاحب سے لندن میں بھی رابطے کی کوشش کرچکے تھے لیکن انہوں نے ملنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا کوئی پیغام پہنچایا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ یہ پیغام وصول کرنے کے لئے لیے عسکری نمائندوں سے ملے ہوں گے حالانکہ نواز شریف نے ایسی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ نواز شریف نے جس بات کا زیادہ برا منایا ہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف کو ایک ایسا پیغام دیا گیا ہے جس کا مقصد دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈالنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ پیغام میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر نواز شریف اور مریم اپنا سخت ترین اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ نرم کردیں اور فوجی قیادت کا نام لیکر تنقید کرنا ختم کر دیں تو انکے اور نواز لیگ کے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں اور شہباز شریف کی رہائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ اب چونکہ نواز شریف اپنا بیانیہ نرم کرنے یا ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لگتے لہذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ شہباز اگر جیل میں رہیں گے تو اس کے ذمہ دار بڑے میاں صاحب ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شہباز شریف کو دیا جانے والا پیغام دراصل نواز شریف کے لئے تھا تو پھر مسلم لیگ کی سینئیر قیادت نے براہ راست یہ پیغام بڑے میاں صاحب کو دینے کی بجائے چھوٹے میاں صاحب کو کیوں دیا جو کہ نیب کی تحویل میں ہیں اور جن کا نواز شریف سے رابطہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ تاہم نواز شریف اب بھی اپنی اینٹی اسٹیبلشمینٹ جارحانہ حکمت عملی پر پیش قدمی کے فیصلے پر قائم ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ماضی کے تلخ تجربات اور عہد شکنی کی روشنی میں اب اسٹیبلشمنٹ کے کسی وعدے پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعہ کے بعد ہونے والے کوئٹہ جلسے میں نواز شریف نے ایک بار پھر فوجی قیادت کا نام لیکر تنقید کی اور کھلم کھلا یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے اینٹی اسٹیبلشمینٹ بیانیے پر نظرثانی کے لیے بالکل تیار نہیں۔ نواز شریف یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے اسی موقف کے ردعمل میں کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا واقعہ پیش آیا۔
ذرائع کا کہنا یے کہ شہباز شریف سے جیل میں مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنماؤں کی ایک۔پیغام۔کے ساتھ ملاقات کی خبر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے بریک کیے جانے کے بعد معاملات اور بھی خراب ہو چکے ہیں اور میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ حرکت بھی محمد زبیر اور آرمی چیف کی خفیہ ملاقات کو افشا کرنے کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور اس کا مقصد سیاستدانوں کی کردار کشی ہے۔ یاد رہے کہ شہزاد اکبر نے حال ہی میں کہا تھا کہ شہباز شریف نے نیب کی حراست میں نون لیگ کے تین رہنمائوں سے ایک خفیہ ملاقات کی ہے جس کا ایجنڈا بھی ان کو معلوم ہے۔
اب نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ان رہنمائوں سے ناراض ہیں جنہوں نے نیب کی جیل میں شہباز سے ملاقات کی تھی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اسلئے ناراض ہیں کہ اُن تینوں رہنمائوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر نمائندے کی درخواست پر شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ یہ تین رہنما خواجہ آصف، احسن اقبال اور رانا تنویر حسین تھے۔
اس حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے صدر شہباز شریف سے اپنے قائد نواز شریف کو آگاہ کرنے کے بعد ملاقات کی تھی۔ انہوں نے تردید کی کہ نواز شریف ان سے اس ملاقات پر ناراض ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کی ملاقات کا اہتمام اسٹیبلشمنٹ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود نیب والوں سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ لیکن احسن اقبال نے اس ملاقات کا ایجنڈا بنانے سے انکار کیا اور کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے معذوری کا اظہار کیا۔
تاہم نون لیگ کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ لیگی وفد کے پاس شہباز شریف کیلئے ایک پیغام تھا۔ اس رابطے سے قبل فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نواز شریف سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی تھی جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے پیغام لیکر آنے والوں سے ملنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کا اصرار ہے کہ نون لیگ کے تین رہنمائوں کی شہباز شریف سے ملاقات کا اہتمام سلیمان شہباز کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔ انکا۔کہنا یے کہ سلیمان شہباز نے درخواست کی تھی کہ اس ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سلیمان شہباز پچھلے دو برسوں سے لندن میں مقیم ہیں اور چند روز پہلے وہین پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے کافی سخت گفتگو کی۔
دوسری طرف اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نون لیگ کے تین رہنمائوں کی شہباز شریف سے ملاقات نے نواز شریف کو ناراض کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق تین رہنمائوں نے نواز شریف کے ’’جارحانہ رویے‘‘ کیخلاف اپنے پارٹی قائد سے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت سے لیکر نواز شریف نے پارٹی کو براہِ راست کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری طرف باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کے درمیان کئی رابطے ہوئے ہیں لیکن نواز شریف اپنا موقف نرم کرنے کو تیار نہیں۔چنانچہ بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنمائوں کے برعکس نواز شریف نے سینئر فوجی افسران کے نام لینا شروع کر دیا ہے اور مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ان افسران نے سپریم کورٹ سے ان کی سزا اور ناہلی کا ’’انتظام‘‘ کیا اور ساتھ ہی 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے حق میں ’’انجینئرنگ‘‘ کی۔ نواز شریف کے سخت موقف نے حکومت، اسٹیبلشمنٹ حتیٰ کہ ایسے کئی نون لیگی راہنماوں کو بھی پریشان کر دیا ہے جو شہباز شریف کے بیانیے کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کے موقف کے برعکس، پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرپرس بلاول بھٹو اپنی تنقید کا فوکس اسٹیبلشمنٹ سے ہٹا کر عمران خان حکومت کی طرف لیجا رہے ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ شہباز شریف سے ملنے سے پہلے انہوں نے خواجہ آصف اور رانا تنویر کے ہمراہ اسٹیبلشمنٹ کے کسی نمائندے سے ملاقات کی اور لاہور میں انہوں نے نواز شریف کی اجازت کے بغیر نیب کی زیر حراست شہباز شریف سے ملاقات کی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ ایک ٹوسٹڈ سٹوری ہے جو شہزاد اکبر نے بنائی ہے اور جس کا مقصد پارٹی کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button