اسٹیبلشمینٹ اورکپتان کا ایک پیج پرزہ پرزہ ہو چکا ہے

نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے اسٹیبلشمینٹ اور حکومت کی راہیں اب جدا ہوچکی ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آئی ایس آئی میں کمانڈ کی تبدیلی سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا تو ایسا سوچنا غلط ہے۔ فرق ضرور پڑے گا لیکن کتنا پڑے گا یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کارفہد حسین نے کہا کہ عمران خان حکومت کو انتخابی اصلاحات پر ہونے والی قانون سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو کامیابی ملی ہے اسے اسٹیبلشمنٹ کا مرہون منت قرار دیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران اور اسٹیبلشمنٹ کی راہیں ابھی جدا نہیں ہوئیں۔ تاہم صورتحال ایسی نہیں جیسی بتائی اور دکھائی جا رہی ہے۔ فہد حسین نے دعویٰ کیا کہ اب دونوں ایک پیج پر نہیں اور دو پیجز بن چکے ہیں جن کا دوبارہ ایک ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
نیا دور کے ٹی وی پروگرام ”خبر سے آگے” میں رضا رومی اور مرتضی سولنگی سے گفتگو کرتے ہوئے فہد حسین نے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا تو وہ غلط ہے، فرق ضرور پڑے گا، تاہم کتنا؟ اس کا اندازہ آگے چل کر ہو جائے گا۔ فہد نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں ایک بات ثابت ہوگئی کہ ہائبرڈ نظام کے تحت حکومت چلانے کا فارمولا بھی ناکام ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناکامی کے ذمہ داران کے پاس اس حوالے سے کوئی وضاحت بھی نہیں ہے لیکن انکے لائے ہوئے طوفان میں پاکستانی عوام ڈوب رہے ہیں۔ یہ پتہ بعد میں پتا چلے گا کہ اس طوفان میں کتنے لوگ غرق ہوئے۔
فہد کا کہنا تھا کہ اس وقت صورت حال بڑی دلچسپ ہو چکی ہے۔ جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ کچھ حد تک تو ویسا ہی ہے لیکن کافی حد تک ویسا نہیں ہے جیسا کہ نظر آ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے سیاسی حالات کچھ عرصے پہلے تک ایک خاص ڈگر پر چل رہے تھے تاہم جب سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر تنازع کھڑا ہوا تب سے معاملات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔
فہد نے کہا کہ حکومت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو کامیابی ملی اس پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید حکومت کی اسٹیبلشمنٹ سے راہیں اب بھی جدا نہیں ہو پائیں۔ تاہم صورتحال ایسی نہیں ہے اور دو پیج دوبارہ سے ایک نہیں ہونے والے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ چند فون کالز کی وجہ سے حکومت کو پارلیمنٹ میں کامیابی مل گئی لیکن اگر اسے شکست ہو جاتی تو معاملات بہت ہی گھمبیر ہو جانے تھے کیونکہ ملک اس وقت غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں جو حالات پیدا ہونگے وہ واضح کر دیں گے کہ معاملات کا رخ کیا ہے۔بقول فہد حسین اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی حمایت سے پیچھے ہٹی تو پھر حکومت کو اپنا بوجھ اب خود اٹھانا پڑے گا۔ پھر اگلے مرحلے میں سینٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی آ سکتی ہے۔ اگر صادق سنجرانی کیخلاف کوئی تحریک آنی ہے تو وہ اگلے دو تین ماہ سے آگے نہیں جائے گی کیونکہ موجودہ حالات میں حکومت کو زیادہ لمبے عرصے کی مہلت نہیں ملے گی۔
