عمران خان وہ بت ہے جو خود ہی اپنی پوجا کرتا ہے

وزیراعظم عمران خان کے ہمدرد سمجھے جانے والے سینئر کالم نگار حسن نثار نے کہا ہے کہ عمران خان کسی کا دوست نہیں، وہ ایسا بت جو خود اپنا پجاری بن کر اپنی ہی پوجا میں مگن ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مہنگائی کا جان لیوا عذاب جھیلنے والے عوام عمران سے کوئی چاند نہیں مانگ رہے لہذا انہیں کھانے کو اتنا تو دیدو جتنا ایک شریف آدمی اپنے پالتو جانور کو دیتا ہے۔
اینکرپرسن کامران شاہد کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے حسن نثار نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کافی سخت باتیں کی اور تسلیم کیا کہ انہوں نے تبدیلی کی جو امیدیں انکی حکومت سے وابستہ کی تھی وہ پوری نہیں ہو پائیں۔ حسن نثار نے کہا ہے کہ عمران خان نہ کسی کا دوست ہے اور نہ ہی کبھی دوست بن سکتا ہے۔ اس آدمی کا ایسا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایسا آدمی ہے جو اپنے طواف میں ہے، وہ ایک ایسا بت ہے جو اپنا ہی پجاری ہے۔ بقول حسن نثار، عمران خان بہت چھوٹی عمر میں ڈی ریل ہو گیا تھا اسلیے اسکی محبت بھی بہت مکینیکل ہے حالانکہ محبت غیر مشروط ہوتی ہے۔ ایک سوال پر حسن نثار بے بتایا کہ میں نے عمران خان کو حکومت چلانے کے لیے جو منشور دیا تھا وہ سالہا سال ان کے لیٹر ہیڈز پر رہا لیکن اس ہر عمل نہ ہو پایا۔ وہ منشور یہ تھا کہ ”حکم اللہ کا، قانون قران کا، رستہ رسول ﷺ کا اور پاکستان سب پاکستانیوں کا، احتساب ہو گا عام اور اقتدار میں ہوں گے عوام”۔ تاہم افسوس کہ یہ منشور عمران خان کے سینے میں ہی دفن ہو کر رہ گیا۔ حسن نثار نے تسلیم کیا کہ انہیں عمران خان کی ذات پر بھروسہ تھا کیونکہ وہ بہت یکسو اور محنتی آدمی ہے۔ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ لیکن جس بندے کے پیچھے خوبصورت تاریخ ہو اس کا آخری رائونڈ بہت تاریک ہوتا ہے۔حسن نثار نے کہا کہ جو دھوکا عمران خان کو دیا گیا، اسنے وہہ دھوکہ مجھے بھی منتقل کردیا۔ میں ان سے ہوم ورک کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا کیونکہ اگر کوئی قابل سے قابل بچہ بھی ہوم ورک نہیں کرے گا تو فیل ہو جائے گا۔ عمران بھی مجھے حسین خواب دکھاتا اور دلفریب کہانیاں سناتا رہا لیکن بالآخر نتیجہ صفر نکلا۔
تاہم حسن نثار کا کہنا تھا کہ ‘وابستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ’ کے اصول کے تحت انہوں نے کہا کہ میں اب بھی عمران سے پرامید ہوں کیونکہ اس نے ہر کام میں بہت رگڑا کھا کر کامیابی حاصل کی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ناقد سمجھے جانے والے سینئر کالم نگار نے کہا کہ عمران کو کرکٹ کے کھیل کی شدبد ہی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ ورلڈ کلاس کرکٹر بنا۔ اس کا سارا کیریئر بولنگ کا تھا لیکن پھر وہ اپنی بیٹنگ بہتر بنا کر آل راونڈر بن گیا۔ جب شوکت خانم ہسپتال بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو دنیا بھر کے ماہرین نے اسے ناممکن قرار دیا لیکن اس نے یہ بھی کرکے دکھایا۔
دوسری جانب حسن نثار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بھی عمران کی طرح اپنی کہی ہوئی کسی بھی بات پر زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتے، اسی لئے حسن نثار ایک روز عمران پر شدید تنقید کرتے ہیں اور جب اگلے روز ان کے میڈیا منیجر ان سے رابطہ کر لیتے ہیں تو وہ یوٹرن لے کر عمران کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیتے ہیں۔
