اسٹیبلشمینٹ نے TLP کو استعمال کرنے کے لیے پابندی ہٹوائی

معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ دراصل ریاست کی اس سوچ سے جڑا ہے جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ انتہا پسند جماعتوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسی شدت پسند جماعتیں خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں جنہیں اب سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنے کے لیے میدان میں اتارا جاتا ہے جس کا نقصان جمہوریت اور ملک کو ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ریاست کی جانب سے شدت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے تازہ ترین عمل میں سیاست دانوں کی اکثریت نے خاموش تماشائیوں کا کردار ادا کیا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے تحریک لبیک کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پھر اچانک معاملات بدل گئے اور معاہدہ کرنا پڑ گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزرا، آرمی چیف اور ان کیساتھ بیٹھے سول اور ملٹری انٹیلی جینس سربراہان سے مخاطب ہو کر پوچھا تھا کہ بتائیے پنجاب میں جاری احتجاج سے کیسے نمٹا جائے؟ وہ بنی گالہ میں اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ حکومتی اجلاس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب چیف ایگزیکٹو شرکا سے رائے مانگے تو سب سے سینئر سب سے پہلے بات کرتا ہے اور پھر عہدے کے لحاظ سے سب اپنی باری پر رائے دیتے ہیں۔ سب سے سینئر فوجی افسر نے معاملے کو بات چیت کے ذریعے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی رائے دی، باقی شرکا نے بھی باری باری وہی موقف اختیار کیا۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہوئے اجلاسوں میں یہی ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ طاقتور کی کہی ہوئی بات سے عام طور پر اختلاف کیا ہی نہیں جاتا۔ اجلاس کے تمام شرکا ایک ہی پیج پر تھے۔
لیکن بقول اعزاز سید، سب کی ایک جیسی رائے آنے کے باوجود عمران خان ایک بار پھر بولے، تحریک لبیک ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو پورے معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے ہمیں دہشت گردوں سے بات نہیں کرنا، سب جائیے اور یہی موقف اختیار کیجئے۔ عمران کا رویہ حیران کن تھا لیکن جب انکی جانب سے ایک واضع اور مختلف موقف اختیار کیا گیا تو اجلاس کے شرکا نے وزیراعظم کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دی۔ تاہم فواد چوہدری شاید وہ واحد وزیر تھےجو وزیراعظم کی اس بات کے دل وجان سے حامی تھے۔ اس اجلاس کے تسلسل میں اکتوبر کے آخری ہفتے میں کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھئ منعقد ہوا۔ اس دوران ایک موقع پر وزیردفاع پرویزخٹک نے وزیراعظم کو مشورہ دے ڈالا کہ وہ لبیک کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں پیسے دیں۔ ایک سرکاری افسر نے اپنے وزیردفاع کی حمایت کی تو وزیراعظم بولے وہ کہاں سے اور کیوں پیسے دیں؟ وزیراعظم کا خیال تھا کہ عشق رسولؐ کی راہ میں جتنا کام انہوں نے کیا ہے وہ شاید ہی کسی نے کیا ہو مگر پیغمبر کے نام پر حکومتوں کو ڈکٹیٹ کرنا اور پولیس والوں کو شہید کرنا عشق رسولؐ نہیں ریاست کی بربادی ہے۔
اعزاز سید بتاتے ہیں کہ خیر بات آئی گئی ہوگئی لیکن یہ واضح ہوگیا کہ حکومت کے اندر ہی سوچ میں بڑا فرق ہے۔ اکتوبر 2021 میں ہوئے ان دو اجلاسوں سے ذرا پہلے اپریل 2021 کے وسط میں مرکزی حکومت نے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا تو تمام حکومتی اداروں نے اس فیصلے پر لبیک کہا۔ لیکن پنجاب کے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اور ISI پنجاب کے سیکٹر کمانڈر میں سے اس فیصلے پرعملدرآمد کے لئے صرف ایک شخص نے معاونت کی اور وہ تھا آئی جی پنجاب پولیس۔ 12 اپریل 2021 کو پنجاب پولیس نے کارروائی کے آغاز میں لبیک کے سربراہ کو گرفتار کیا تو پورے پنجاب میں 105مقامات احتجاج کے باعث بند کردئیے گئے لیکن پولیس کارروائی کے باعث 48 گھنٹوں میں لیاقت باغ راولپنڈی سمیت 104 مقامات کھول دئیے گئے۔ اس دوران لاہور میں مسجد رحمت العالمین پر احتجاج چار روز تک جاری رہا جس پر بعد میں قابو پالیا گیا۔ اد احتجاج کے دوران پولیس کے چار جوان شہید اور متعدد زخمی ہوئِے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے زخمیوں اور شہدا کے لواحقین کی مالی اور اخلاقی ہمت افزائی کے ساتھ پنجاب پولیس کی طرف سے تحریک لبیک کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قراردینے کےلئے مرکز کو خط لکھا گیا جس نے فوری کارروائی کی اور یہ تنظیم دہشت گرد قراردے دی گئی۔
اس دوران پنجاب پولیس نے لبیک کو سیاسی اعتبار سے بھی کالعدم قرار دینے کے لئے خصوصی مراسلہ لکھا مگر حکومت تذبذب کا شکارتھی۔ تب کے آئی جی پولیس انعام غنی کی سفارش کو نظرانداز کیا گیا تو لبیک نے آزاد کشمیر کے انتخابات سمیت دیگر انتخابی معرکوں میں بھی حصہ لے لیا۔ پھر ٹھیک 6 ماہ بعد اکتوبر 2021 میں لبیک ایک بار پھر سڑکوں پر آگئی۔ اس عرصے میں پنجاب میں انتظامیہ تبدیل ہوئی تو مرکز میں بھی بعض معاملات پر ایک پیج پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ نئے آئی جی کے طور پر رائو سردار کے ذمے سخت کام تھا۔ وہ اچھی شہرت کے حامل ہیں مگر شایداس باروہ پرفارم نہ کر سکے یا پھران کے ہاتھ باندھ دئیے گئے۔ بقول اعزاز سید، وفاقی سیکرٹری داخلہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے سیاسی جماعت کے طور پر لبیک کو کالعدم قراردینے کے معاملے کو نظرانداز کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس بار بھی ان کا کردار یہی تھا۔ یہی حال پنجاب کے چیف سیکریٹری اور ہوم سیکریٹری کا تھا۔انہوں نے بڑا ظلم تو تب کیا جب پنجاب میں رینجرز طلب کرکے وزارت داخلہ کے ساتھ طے کرلیا کہ صوبے میں اب پولیس رینجرز کی کمانڈ میں کام کرے گی۔ ایسا کرتے وقت یہ تک نہ سوچا گیا کہ وسائل کی کمی کے باوجود اسی پولیس نے 6 ماہ پہلے اسی جن کو بوتل میں بند کیا تھا۔ ادھر وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ رینجرز کو تو صرف گولی چلانا آتی ہے اور اگر چناب کے پل کی دوسری طرف لبیک کے مظاہرین پر گولی چلائی گئی تو اس سے ایک منفی تاثر جائے گا جس کا اثرملک کے سیکورٹی اداروں پر ہوگا اور دشمن اس صورتحال سے فائدہ اٹھائے گا۔ دوسری طرف پنجاب میں احتجاج کے باعث جی ٹی روڈ کم و بیش 10دن سے مسلسل بند تھی اور پہلے ہی مہنگائی سےتنگ عوام مظاہرین کے ساتھ مل رہے تھے۔ اس احتجاج کے دوارن پولیس کے 7جوان شہید ہو گئے۔ حکومت پردبائو اوربڑھا مگر کوئی حکومتی عہدیدار پولیس شہدا کے گھر تک نہ گیا۔ اس دوران اچانک مفتی منیب متحرک ہوئے وہ کراچی کےایک بزنس مین کے ذریعے آرمی چیف کے پاس پہنچے اور لبیک سے مذاکرات کے ضامن بن کر حکومت کو راضی کرلیا کہ وہ لبیک کی کالعدم حیثیت ختم کرنے سمیت تمام مقدمات واپس لے گی اور اس کے کارکنوں کو رہا کرئے گی۔ بقوک اعزاز سید، حیران کن بات یہ تھی کہ مفتی منیب وزیراعظم سے ملے نہ انہیں ملاقات کی دعوت دی گئی۔ مگر مذاکرات اور خفیہ معاہدے کے بعد ریاست نے ان کی ساری باتیں مان کر ہتھیار ڈال دئیے۔انکا کہنا یے کہ درحقیقت یہ معاملہ ریاست کی طرف سے انتہا پسند جماعتوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی سوچ سے جڑا ہوا ہے۔ ماضی میں ایسی جماعتیں خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں تو اب انہیں سیاسی منظرنامے تبدیل کرنے کےلئے میدان میں اتارا جاتا ہے جس کا اصل نقصان جمہوریت اور سیاست کو ہوگا۔ لیکن افسوس کہ ریاست کے ہتھیار ڈالنے کے اس عمل میں سیاستدانوں کی اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی۔
