اسٹیٹ بینک کی IMF نواز پالیسیاں مہنگائی کا طوفان لائیں

https://youtu.be/Dt7gP65gGPI
معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف سے قرض لینے پر خود کشی کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کرنے والے وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں مسلسل بڑھتی مہنگائی کی اصل وجہ اسٹیٹ بینک کی IMF نواز پالیسیاں قرار دی ہیں اور وارننگ دی ہے کہ اگر یہ روش تبدیل نہ کی گئی تو بجلی، پٹرول اور گیس سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہر ہوجائیں گی۔

دوسری جانب عمران خان خود اور انکے حکومت کے چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات اور دوسری اشیاء کی قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں۔ تاہم اگر حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو وزیراعظم اور ان کے وزیر خزانہ کا یہ دعوی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور انکے وزیر با تدبیر ایسے دعوے کرتے وقت ملک کی فی کس آمدنی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہماری فی کس آمدنی پندرہ سو ڈالر جبکہ امریکہ میں فی کس آمدنی پچاس ہزار سے ساٹھ ہزار ڈالر ہے۔ اسی طرح بھارت اور بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی بھی اسوقت پاکستان سے زیادہ ہے۔ لہازا ہمارے وزراء مضحکہ خیز دعوی کرتے ہوئے فی کس آمدنی کے اہم ترین پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی کونسل کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے طوفان کی اصل وجہ اسٹیٹ بینک کی آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی غرض سے بنائی گئی عوام دشمن پالیسیاں ہیں اور اگر مہنگائی قابو کرنی ہے تو گورنر اسٹیٹ بینک کو فوری برخاست کیا جائے ورنہ انہیں انہیں خود استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انکا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے روپے کی قدر میں کمی کر دی جس کی وجہ سے مہنگائی کا نیا طوفان آیا ہے کیونکہ پاکستان کی صنعت کو خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔

اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ جب آپ روپے کی قدر میں کمی کرتے ہیں تو خام مال مہنگا ہو جاتا ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور مہنگائی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے روپے کی قدر میں کمی بارے کہا کہ اگر آپ اپنے ملک کی کرنسی کی بے قدری کرتے رہیں گے تو نتیجتاً ہر چیز مہنگی ہوتی رہے گی کیونکہ وہ صنعتیں جو ملکی ضروریات کے لیے اور بیرون ملک ایکسپورٹ کے لیے اشیا تیار کرتی ہیں، ان دونوں کے لیے خام مال بیرونی دنیا سے آتا ہے۔ ہمیں 60 فیصد خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے لہاز جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو خام مال کی قیمت بھی خود بخود بڑھ جاتی ہے، جس سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں۔

معروف ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت بھی متفق ہیں کہ مہنگائی کا یہ طوفان آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے آیا ہے۔ شاہدہ کے مطابق ہمارے ملک میں ساری سیاسی جماعتیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے کے لئے پالیسی بناتی ہیں، اس طرح کی پالیسیز پیپلز پارٹی نے بھی بنائیں جب 2008 میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن زبردستی ہمیں آئی ایم ایف کے پاس لے جایا گیا اور ایسی پالیسی بنائی گئی جس سے معیشت کا جنازہ نکلا اور عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھیں اور مہنگائی کا ایک طوفان آیا۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت کے بقول مسلم لیگ ن نے بھی تقریبا ایسی ہی پالیسیز اپنائیں، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے تو حد ہی کر دی ہے۔

یہ غیر ملکی کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے نہ کرنے والے کام کرنے کو بھی تیار ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کو مہنگا کرنا اور دوسری اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ناقص اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ کا کہنا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں مہنگائی کے طوفان کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1990 کی دہائی میں ان کمپنیوں کو پاکستان لایا گیا اور ان کو 30 فیصد ریٹرنز کی پیشکش کی گئی جو کہ آزاد تجارت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ بعد ازاں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے بھی انہی کمپنیوں سے مہنگی بجلی خریدی، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر مہنگائی بڑھی۔ لہازا معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے پاکستانیوں کو نہ رکنے والی مہنگائی سے نجات دلوانی ہے تو اسے عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے سے نکلنا ہوگا۔

Back to top button