اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی آڈیو سامنے آگئی


اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی آڈیو سامنے آ گئی ہے جس میں وہ خیبر پختونخواہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ووٹرز کو ترقیاتی سکیموں کا لالچ دے کر پی ٹی آئی کو کامیاب کروانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اسپیکر اسد قیصر کی پشتو میں جاری ہونے والی ایک آڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ“شکر ہے کہ ڈیڑھ ارب روپے کے ٹینڈر پراسیس میں ہیں اور جنوری تک جاری بھی ہو جائیں گے، ویسے بھی میرے پاس 70 کروڑ روپے پڑے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ میں ہر یونین کونسل کو خصوصی پیکج دو، میرے لیے ہر ورکر ایک ناظم ہے اور ایسا علاقے کے لوگوں کہ بہتری کے لیے کیا جارہا ہے۔ پہلی مرتبہ ہمارے لوگوں کو صوابی میں موقع ملا ہے کہ اللہ ہم سے بڑے بڑے کام لے گا۔”
اسد قیصر کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے سے اربوں روپیہ لٹا کر بلدیاتی الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش قابل مذمت ہے اور الیکشن کمیشن کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیئے۔ دوسری جانب معروف اینکر عادل شاہزیب نے خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزیر کامران بنگش کی ایک ویڈیو ٹویٹر پر شئیر کی ہے جس میں صوبائی وزیر الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کی مہم میں حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔ عادل نے صوبائی وزیر کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘بنگش صاحب یہ آج رات کی آپکی ویڈیو ہے جس میں آپ کھل کر پی ٹی آئی کے لیے لوکل باڈیز میں کمپین کر رہے ہیں۔میں آپکے ٹیگ بھی کر رہا ہوں تا کہ سند رہے۔ اسکے بعد انہوں نے لکھا ہے کہ کامران بنگش کی جانب سے الیکشن کمیشن کے منہ پر ایک اور زوردار طمانچہ۔۔
عادل شاہزیب کی اس ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کے سوشل میڈیا ترجمان اظہر مشوانی نے اینکر پرسن پر الزام لگایا کہ“آپ کے ماموں تحصیل چمکنی پشاور سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کریں گے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف؟ تگڑے رہیں، الیکشن ماموں نے خود لڑنا ہے ECP یا میڈیا نے نہیں اور یہ کامران بنگش کا گھر ہے جہاں لوگ شمولیت کے لیے آئے۔۔۔ آپکو اتنا ڈر کس چیز کا ہے؟”
یہ بھی پڑھیں: نیب کا قیدی نمبر5
لیکن اس سفید جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے عادل شاہزیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے سوشل میڈیا ترجمان مشوانی کو جواب دیا کہ ” آپ ثابت کریں کہ میرے ماموں چمکنی سے الیکشن لڑ رہے ہیں، میں صحافت چھوڑ دوں گا یا آپ دوٹکے کی ترجمانی چھوڑیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ بھائی یہ آپکے وزیر کی وڈیو ہے جو الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 233/234 کی کھل کرخلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسکا جواب دیں۔ صوابی سے میرے دادا ضرور الیکشن لڑ رہے ہیں جہاں سے اسد قیصر کی آڈیو سامنے آئی ہے؟” عادل شاہزیب نے لکھا کہ“آپکے وزیروں اور مشیروں نے الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا دی ہیں، میرا پروگرام آپکے لیے حاضر ہے، آ کر جواب دیں۔ انہون نے کہا کہ کیا وزیراعلی پختونخوا اور انکے وزرا کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی ہے جو کہ جواب دینے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتےاور انہیں کرائے کا ترجمان پنجاب سے ادھار لینا پڑ رہا ہے جسکے پاس ٹھیک معلومات بھی نہیں ہیں”۔

Back to top button