افغان طالبان پاکستانی حکام کو کیسے ماموں بنا رہے ہیں؟

تحریک طالبان کی جانب سے سے حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور سیز فائر ختم کر کے دوبارہ سیکیورٹی فورسز پر حملے شروع کرنے کے اعلان کے بعد ضامن کا کردار ادا کرنے والی افغان حکومت نے بھی گونگلووں سے مٹی جھاڑتے ہوئے یہ بیان داغ دیا ہے کہ افغان طالبان کا تحریک طالبان کے ساتھ کوئی تنظیمی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ انکا کہنا یے کہ نہ تو ٹی ٹی پی افغان طالبان کا حصہ ہے اور نہ ہی ان دونوں کے اہداف ایک جیسے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر افغان طالبان کا تحریک طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا تو پھر انکی حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات میں ضامن کیوں بنی؟ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان دراصل پاکستان کو ماموں بنا رہے ہیں۔
تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ان کی تحریک کا حصہ نہیں۔ دوسری جانب عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو اسلامی امارات افغانستان کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم افغان طالبان کی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو بتایا کہ: ’ٹی ٹی پی ایک تنظیم کے طور پر اسلامی امارات افغانستان کا حصہ نہیں اور نہ ہی ہمارے اہداف ایک جیسے نہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم ٹی ٹی پی کو مشورہ دیں گے کہ وہ اپنے ملک میں امن اور استحکام پر توجہ دیں۔ یہ بہت اہم ہے تاکہ وہ خطے اور پاکستان میں دشمن کی مداخلت کے امکانات کو ختم کر سکیں۔‘ ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت، پاکستانی حکومت سے بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ خطے اور پاکستان کی بہتری کے لیے ٹی ٹی پی کے مطالبات پر غور کریں۔
سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل افغان طالبان اب حکومت پاکستان کے ساتھ وہی کھیل رہے ہیں جو پاکستان ماضی میں امریکہ کے ساتھ کھیلتا تھا۔ یعنی امریکہ جب پاکستان پر دباؤ ڈالتا کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے تو اسلام آباد یہ موقف اختیار کرتا کہ طالبان اس کے کہنے میں نہیں ہیں۔ بالکل اسی طرح اب افغان طالبان یہ موقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ٹی ٹی پی چونکہ ان کا حصہ نہیں لہذا وہ اس پر دباؤ نہیں ڈال سکتے۔ دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ جب کابل میں افغان طالبان برسراقتدار آئے تو حکومت پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہاں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان کو بے دخل کیا جائے۔ جواب میں افغان طالبان نے کہا کہ ٹی ٹی پی والے امریکہ کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھی رہے ہیں لہٰذا وہ ان کے مہمان ہیں اور ان کو بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ بعد ازاں افغان طالبان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر پاکستان چاہے تو انکی حکومت ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات میں ضامن کا کردار ادا کر سکتی ہے چنانچہ پاکستانی حکام نے افغان حکومت کی وساطت سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے جنھیں دس دسمبر کے روز یکطرفہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور افغان طالبان ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور اب پاکستان کے ساتھ ڈراما کرکے ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کریں۔ یاد رہے کہ پاکستانی طالبان اسلام آباد میں حکومت پر قبضہ کرنے اور 22 کروڑ سے زیادہ کی جنوبی ایشیائی قوم پر اپنی طرز کے اسلامی قانون کے ساتھ حکومت کرنے کے لیے برسوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔ اس گروپ نے حالیہ مہینوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی تھی حالانکہ معاہدے کے تحت امن مذاکرات کے دوران اس نے دہشت گردی کی کارروائیاں روکنا تھیں، چنانچہ مذاکرات ٹوٹ گے۔ خیال رہے کہ حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان امن کے معاہدوں کے لیے ماضی میں کئی کوششیں ہوچکی ہیں۔
نومبر میں پاکستانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی پر متفق ہوگئی ہے اور فریقین کے متفق ہونے پر اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ جس کے بعد جامع امن معاہدے کی راہ ہموار اور برسوں سے جاری خونریزی ختم ہوتی نظر آنے لگی تھی۔
تاہم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے اب جنگ بندی میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت پاکستان طے پانے والے معاہدے کے کچھ حصوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور افغان سرحد پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کے ٹھکانوں پر چھاپے جاری ہیں۔
اس سے پہلے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اعتراف کیا تھا کہ افغان طالبان پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں تاہم اب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی سے نمٹنا پاکستان کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اسلامی امارات افغانستان کا موقف ہے کہ ہم دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ہم پاکستان کے معاملات میں بھی مداخلت نہیں کرتے۔‘دوسری جانب پاکستان نے فی الحال ٹی ٹی پی سے جنگ بندی کی صورت حال پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی کو پنجرے میں بند کرنے کا منصوبہ کس کا ہے
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے اور عام معافی کی پیشکش کو پاکستان میں سیاسی اور عوامی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ سکیورٹی امور کے ماہرین نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ یہ مذاکرات کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ تحریک طالبان کا اصل ایجنڈا پاکستان پر قبضہ کرکے اسلامی شریعت کا نفاذ کرنا ہے۔
