گوادر کے مجبور باسی انقلاب کے راستے پر گامزن ہو گئے

10 دسمبر کے روز گوادر کو حق دو تحریک کے زیر اہتمام میلوں لمبی تاریخی ریلی اور اس میں خواتین اور بچوں کی ناقابل یقین تعداد میں شرکت کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ گوادر کے بے بس عوام نے بالآخر ریاستی ذیادتیوں سے تنگ آکر انقلاب کا راستے پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 10 دسمبر کے روز گوادر میں نکالی گئی ریلی عوام کا ایک سمندر تھی اور اب عوامی انقلاب کا راستہ روکنا ناممکن لگ رہا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ نواز کمزور حکومت ہونے کی وجہ سے تمام معاملات پر فیصلوں کا اختیار فوج کے پاس ہے جس نے گوادر کو حق دو تحریک طاقت سے دبانے کی کوشش کی لیکن اپنی بقا کے خدشات سے دوچار اور غم و غصے کا شکار اہل گوادر کسی بھی جبر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ریاستی طاقت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست کی جانب سے اہل گوادر کے مسائل حل کرنے کی بجائے دھرنا شرکا پر مقدمات، انکی گرفتاریوں اور اس ایجی ٹیشن کی قیادت کرنے والے مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار کرنے کی کوششوں سے صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے، ان حالات میں اگر طاقتور اداروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو گوادر میں ایک عوامی انقلاب کا راستہ روکنا ناممکن ہو جائے گا اگر ایسا ہوگیا تو یہ تحریک پورے بلوچستان میں پھیل سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ریاستی دباؤ کے باعث گوادر کو حق دو تحریک کی میڈیا کوریج پر مکمل پابندی عائد ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر میں ’گوادر کو حق دو تحریک‘ کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بعد ایک تاریخی احتجاجی ریلی میں لوگوں کا۔سمندر امڈ آیا جسے بلوچستان میں ایک انقلاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار انور ساجدی کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت کو اگر انسانوں کے سمندر سے تشیبہ دی جائے تو بے جانہ ہوگا۔ خواتین اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد نہ صرف ریلی میں شرکت کے لیے نکلی بلکہ جب دھرنے پر بیٹھے مرد ریلی کے لیے روانہ ہوئے تو ان کی جگہ خالی نہیں ہوئی بلکہ خواتین نے اسے سنبھال لیا۔اطلاعات کے مطابق شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ 19 دسمبر کو یہ خدشہ پایا جا رہا تھا کہ مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار کر لیا جائے گا مگر تاحال ایسا نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ گوادر میں یہ دھرنا گذشتہ 26 روز سے جاری ہے جو 15 نومبر کو پورٹ روڈ سے شروع ہوا۔ عوامی مطالبات میں گوادر سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کا خاتمہ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور غیر قانونی فشنگ کی روک تھام شامل ہیں۔ انور ساجدی نے بتایا کہ لوگوں کی گوادر ریلی میں بے مثال شرکت کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ نہ صرف حکومت اور اس کی پالیسیوں سے ناراض ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں سے بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ گوادر کے سینیئر صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ رات کو اپنے گھروں سے نکل کرگوادر کی خواتین نے نہ صرف شہر بلکہ بلوچستان بھر میں تاریخ رقم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی بھاری نفری جب دھرنے کے قریب آئی تو دھرنے کے شرکا کی تعداد میں کوئی کمی آنے کی بجائے کئی گنا اضافہ ہوا۔ دھرنے کے آغاز سے لے کر اب تک مذاکرات کے کئی راﺅنڈ کے بعد بھی دھرنا ختم نہ ہونے کے باعث اب بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی پولیس کی بھاری نفری گوادر بھیج دی گئی ہے۔محکمہ پولیس کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق گوادر میں باہر سے مجموعی طور پر 5500 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے۔ان میں سے 2200 اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کانسٹیبلری سے جبکہ باقی اہلکاروں کا تعلق ریگولر پولیس سے ہے۔ ریگولر پولیس کے اہلکار جعفرآباد، مستونگ، زیارت، پنجگور، خضدار، تربت، نصیرآباد، قلات، کچھی، خاران، سبی اور لسبیلہ سے بھیجے گئے ہیں۔
اس دھرنے کی حمایت میں تین بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی ریلیاں بھی شامل تھیں۔ نہ صرف دھرنا بلکہ اس کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیاں بھی اب تک پُرامن رہی ہیں مگر 9 دسمبر کو پہلی مرتبہ کشیدگی کے آثار دکھائی دیے۔ بہرام بلوچ نے اس کی بڑی وجہ بزرگ سیاسی رہنما یوسف مستی خان کی گرفتاری کو قرار دیا۔انھوں نے بتایا کہ یوسف اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود اس دھرنے سے اظہار یکجہتی کے لیے گوادر آئے، انھوں نے گوادر دھرنے سے جو خطاب کیا اس پر نہ صرف ان کے خلاف بلکہ دھرنے کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔گوادر پولیس تھانے میں اس حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق یہ کیس ریاست پاکستان، مسلح افواج اور خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر درج کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یوسف مستی خان کو پولیس نے گوادرشہر میں ایک گھر سے گرفتار کیا تھا۔ ان کو جمعرات کو مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا ایک روزہ ریمانڈ حاصل کیا گیا لیکن بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی۔ یوسف مستی خان کی گرفتاری پر دھرنے کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو گوادر پولیس سٹیشن کا گھیراﺅ کیا جائے گا تاہم فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کے دھرنے کے مقام پر پہنچنے اور ہدایت الرحمان سے مذاکرات کے بعد تھانے کے گھیراﺅ کے پروگرام کو مؤخر کیا گیا اور یوسف مستی کو رہا کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ گوادر کو حق دو تحریک کے زیر اہتمام جو دھرنا اور احتجاج کیا جارہا ہے اس کے تحت مجموعی طور پر 19 مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ان میں سب سے اہم مطالبات بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کا خاتمہ ہے۔ اب تک جو مذاکرات ہوئے ان میں اہم مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے چار نوٹیفیکیشن جاری کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک نوٹیفیکیشن بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری پر پابندی اور ان کے خلاف کارروائی، دوسرا سرحد پر نقل وحمل کی مانیٹرنگ فرنٹیئر کور کی بجائے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے، کوسٹ گارڈ کی تحویل میں لوگوں کی جو گاڑیاں ہیں ان کو چھڑانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاونت فراہم کرنے اور گوادر میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شراب کی دکانوں کو تاحکم ثانی بند کرنے سے متعلق تھے۔ ان نوٹیفیکیشنوں کے اجرا کے بعد دھرنے کے شرکا نے شاہراہوں کی بندش کے اعلان پر عملدرآمد کے فیصلے کو مؤخر کرنے کا اعلان تو کیا مگر دھرنے کو ختم نہیں کیا۔ان نوٹیفیکشنز کے اجرا کے بعد وزرا کی جانب سے شرکا سے دھرنے کو فوری طور پر ختم کرنے کا کہا گیا مگر دھرنے کے شرکا نے کہا کہ وہ ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد دھرنے کو ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے پسماندہ علاقوں کو ترقی دیں گے
دوسری جانب اس تحریک کے مرکزی کردار مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں چین پاکستان اقتصادی راہداری سے چیک پوسٹوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ گوادر میں سی پیک کے منصوبے سے ہمیں ہماری زندگی اچھی ہوجائے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے پانچ اضلاع پاک ایران سرحد پر ہیں۔ ایران ہمارا اسلامی برادر ملک ہے جہاں سے ہماری اشیائے خرد و نوش اور ان پانچ اضلاع کی بجلی حاصل کی جاتی ہیں۔ بارڈر کی بندش کی وجہ سے گوادر میں لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر سکیورٹی ضروری ہے تو کریں مگر آزادانہ اور باعزت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ ’دن میں پانچ بار ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ شناختی کارڈ دکھائیے، کیا آپ اس ملک کے شہری ہیں؟ تو ہم ہر بار شناختی کارڈ دکھاتے اور قسم کھاتے ہیں کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے تعلیمی ادارے، ہسپتال، تفریحی مقامات، میدان، گھروں کے اندر اور اوپر اور سمندر کے کنارے چیک پوسٹیں ہیں۔ کیا ہم آزاد شہری ہیں یا ہم جیل میں رہ رہے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا جائے۔
