اعجاز اسلم اداکارہ عروہ حسین سے معافی کے طلبگار کیوں؟

ماڈل و اداکار اعجاز اسلم نے اداکارہ عروہ حسین سے متعلق اپنے متنازع بیان پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کرلی، اداکار کے مطابق انھوں نے کبھی عروہ کے ساتھ کام نہیں کیا لیکن ان سے متعلق کچھ باتیں سن رکھی تھیں۔انہوں نے صحافی ملیحہ رحمٰن کے پوڈکاسٹ میں معاملے پر بات کی اور اعتراف کیا کہ انہیں اداکارہ سے متعلق بات نہیں کرنی چاہئے تھی، دلیل دی کہ وہ پروگرام کے فارمیٹ کی وجہ سے اداکارہ کا نام لینے پر مجبور ہوئے، ساتھ ہی انہوں نے ایسے شوز کرنے والے پروڈیوسرز، میزبانوں اور ٹی وی چینلز پر بھی تنقید کی۔اعجاز اسلم کے مطابق عام طور پر ایسے شوز میں اداکار زیادہ تر اپنے قریبی دوستوں کے نام لے کر جان چھڑاتے ہیں اور انہوں نے بھی پروگرام میں فیصل قریشی اور عدنان صدیقی کے نام لیے تھے۔اداکار نے شکوہ کیا کہ ان کی پوری بات کو شیئر کرنے کے بجائے ان کی مختصر کلپ نکال کر وائرل کی گئی اور ان کی بات کو متنازع بنایا گیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں عروہ حسین کا نام لینا ہی نہیں چاہئے تھا، کلپ وائرل ہونے کے بعد انہوں نے عروہ حسین سے فون پر بات کی تھی اور وہ ان سے کافی ناراض تھیں، اداکارہ نے انہیں کہا تھا کہ وہ ان سے ایسی بات کی امید نہیں کر رہی تھیں۔اعجاز اسلم کا کہنا تھا کہ انہوں نے عروہ حسین سے معافی مانگی تھی اور پروگرام کے بعد اب وہ اس طرح کے سوالات کے جوابات نہیں دیتے، جس وقت انہوں نے ماڈلنگ شروع کی اس وقت مرد ماڈلز کے لیے فیشن کی دنیا میں کام کرنا آسان نہیں تھا۔ اس وقت نئے ماڈلز کو کیریئر بنانے کے لیے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کے لیے اس وقت کے حالات بتانا مشکل ہے۔اعجاز اسلم نے کہا کہ اس وقت پرانے ساتھیوں نے ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کے رجحان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایسے نامناسب مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، جس وجہ سے انہیں کام سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، جب ان سمیت ان کے دوستوں نے ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کی حوصلہ شکنی کی تو انڈسٹری کے لوگ بھی سمجھ گئے کہ یہ لڑکے ان کے ہاتھ آنے والے نہیں اور پھر انہوں نے ان سے احتیاط کرنا شروع کی۔واضح رہے کہ اعجاز اسلم نے اپنے متنازع بیان میں کہا تھا کہ میں نے سن رکھا ہے کہ عروہ حسین نے ایک بار ایک ہدایت کار کو بھی جھاڑ پلادی تھی، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر عروہ حسین سے متعلق یہ باتیں درست ہیں تو انہیں اخلاقیات سیکھنے کی ضرورت ہے، تاہم وہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ یہ باتیں سچی ہیں۔
