اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک کیوں چھوڑنے لگے؟

ملک کے ابتر حالات سے تنگ نوجوان پاکستانیوں کی بڑی تعداد بیرون ممالک کا رخ کرنے لگی ہے، صرف 2022 میں ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب افراد بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ممالک منتقل ہو گئے ہیں اور یہ تعداد 2021 اور 2020 کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بالخصوص نوجوانوں کا پاکستان کی ابتر سیاسی و معاشی صورتحال سے مایوسی کا اظہار ہے، جہاں انہیں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آتا۔
ملکی صورتحال سے نوجوانوں کی مایوسی کی ایک جھلک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے حالیہ سروے میں بھی نظر آتی ہے۔اس سروے کے مطابق37 فیصد پاکستانی ملک چھوڑ کر باہر منتقل ہونا چاہتے ہیں، جن میں 15 سے 24 سال کے نوجوان مردوں کی تعداد 62 فیصد ہے، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت کی سب سے بڑی وجہ ’’بے روزگاری‘‘ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”پاکستان افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے لیکن مقامی منڈی میں گنجائش نہیں کہ اتنی بڑی افرادی قوت کو کھپا سکے۔ صورتحال یہ ہے کہ تقریباً 70 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں، سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ نوجوان تیزی سے ایسے ممالک کا رخ کر رہے، جہاں ملازمتوں کے بہتر مواقع میسر ہوں‘‘۔پولیٹیکل سائنس کے استاد اور مزدور کسان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر تیمور رحمان نے بتایا کہ پوری دنیا میں معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ملک کی سیاسی و معاشی فضا ناقابل برداشت حد تک ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ برس ملک چھوڑنے والے افراد میں ہزاروں اعلٰی تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی شامل تھے، ڈاکٹر عائشہ ان 2464 ڈاکٹروں میں شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ برس پاکستان چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ میں نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے ڈرماٹالوجی میں ڈگری حاصل کی، جس پر تقریباً ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوا۔ مجھے احساس تھا کہ میرے والدین کتنی مشکل سے میری فیسیں پوری کر رہے ہیں۔ میں میڈیکل مکمل کرنے کے بعد انہیں اور اپنے آپ کو ایک پرسکون زندگی دینا چاہتی تھی۔ مگر مارکیٹ میں قدم رکھا تو بدترین ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد میں نے فوراً باہر جانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے امریکہ میں آئے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں۔ یہاں میرا معاوضہ تین گنا زیادہ ہے‘‘۔اقتصادی امور کے ماہر، سینئر بیوروکریٹ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس میں معاشیات کے استاد وقار شیرازی اس حوالے سے کہتے ہیں، ”روپے کی قدر بری طرح گری ہے، جس سے قوت خرید شدید متاثر ہوئی‘‘۔وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں ورکر وافر مقدار میں میسر ہیں، اس لیے ان کا استحصال ہوتا ہے اگر افراط زر نہ ہو تو کم تنخواہ بھی کافی ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف بیرون ملک معاوضہ ڈالر، یورو یا درھم میں ملتا ہے، جس سے خود بخود وہ کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں، ”پاکستان میں نوجوان افرادی قوت بہت زیادہ ہے، اس لیے یہ ہجرت تشویش کی بات نہیں۔ جب وہ اپنے خاندانوں کو رقم بھیجتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کے اپنے گھر والوں کو بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوتا ہے”۔وقار شیرازی کہتے ہیں، ”جب ہمارے پاس برآمد کرنے کو اور کچھ ہے نہیں تو نوجوانوں ورکرز ہی سہی۔ مگر غیر ملکی ترسیلات زر کسی بھی طرح دیرپا معاشی استحکام نہیں لا سکتیں۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں، زراعت اور صنعت کے شعبوں پر توجہ مرکوز نہ کی گئی تو پاکستان میں روزگار کا مسئلہ مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم تک درآمد کرنا پڑ جاتی ہے۔ اگر زراعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے تو نہ صرف معیشت مستحکم ہو گی بلکہ براہ راست نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی کھلیں گے۔ اسی طرح ایک فیکٹری لگنے سے ہزاروں افراد کو روزگار ملتا ہے۔
وقار شیرازی کہتے ہیں، ہماری ملکی پالیسیوں اور توانائی کے بحرانوں نے ایسا سازگار ماحول فراہم نہیں کیا، جس میں صنعتی شعبے کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیٹھ پیسہ رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں لگانے لگا، جس سے پیسے کی گردش چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئی اور روزگار کے مواقع پیدا نہ ہو سکے، ہمیں رئیل سٹیٹ سے صنعتی شعبے کی طرف رخ کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک ثمرات پہنچیں۔
معروف ترقی پسند سماجی دانشور عمار علی جان کہتے ہیں، نوجوانوں کے پاس انرجی اور خواب ہوتے ہیں، وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں اپنے ملک میں سازگار ماحول نہ ملے تو پھر وہ ایسے ملک کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں بہتر مواقع میسر ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”روزگار کے بہتر مواقع مضبوط معیشت کے بغیر ممکن نہیں اور مضبوط معیشت مستحکم سیاسی حالات کے بغیر ممکن نہیں، ہمیں سیاسی کلچر کو بہتر کرنا ہوگا تاکہ فیصلہ سازوں کی توانائیاں جوڑ توڑ اور عارضی مفادات کے بجائے مضبوط معیشت کی طرف مرکوز ہوں، اس سے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، وہ عدم تحفظ کے احساس سے نکل کر ملک کی تعمیر و ترقی کی نئی بلندیوں سے ہم کنار کرائیں گے۔
