اعلیٰ عدلیہ میں موجود عمرانڈو ججز کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ میں موجود عمرانڈو ججز کو بے نقاب کرنے کر فیصلہ کر لیا۔ حکومت نے چیف جستس عمر عطا بندیال کی مشاورت کے بغیر ماضی قریب میں سامنے آنے والی ججز سے متعلق آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نعیم اختر افغان، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے وفاقی حکومت کی جانب سے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی تصدیق کی ہے جبکہ کیبیننٹ ڈویژن نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیشن فوری طور پر تحقیقات شروع کر دے گا جبکہ اٹارنی جنرل کمیشن کی معاونت بھی کریں گے، کمیشن 30 روز میں تحقیقات مکمل کرے گا تاہم تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو وفاقی حکومت مزید وقت دے گی۔

کمیشن کی تشکیل بارے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ  ادارے کی ساکھ کو آڈیولیکس نے متاثرکیا،کمیشن 2017 کے ایکٹ کے تحت بنایا گیا ہے، کمیشن قائم کرنا حکومت کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس میں چیف جسٹس پاکستان کی رائے نہیں لی گئی۔کمیشن کے حوالے سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی رائے اس لیے نہیں لی گئی کہ اس کمیشن نے ان سے متعلق تحقیقات کرنی ہے۔

خیال رہے کہ حکومتی تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن آٹھ مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کرے گا۔کمیشن آڈیو لیکس کی حقیقت اور عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں چھان بین کرے گا۔یہ کمیشن سابق وزیراعلٰی پنجاب اور ایک وکیل، ایک وکیل اور سابق چیف جسٹس، ایک وکیل اور ایک صحافی کی مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے گا۔ مخصوص بینچز کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کی آڈیو لیک کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔چیف جسٹس کی خوشدامن اور ایک وکیل کی اہلیہ، اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے اور دوست کے درمیان مبینہ آڈیو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔اسی طرح سابق وزیراعظم اور ان کی پارٹی کے ساتھیوں کے سپریم کورٹ میں روابط پر بھی تحقیقات کی جائیں گی۔پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات بھی ہوں گی۔کمیشن کے پاس قانون کے تحت تمام اختیارات ہوں گے۔ اگر کمیشن کو تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار ہو تو وفاقی حکومت مزید وقت دے گی۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عدلیہ اور ججز سے متعلق مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن قائم کردیا۔کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن سے جاری کیا گیا جو 19 مئی کو گزٹ آف پاکستان میں شائع ہوا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حال ہی میں قومی الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر عدلیہ، سابق چیف جسٹسز/جسس کی گفتگو سے متعلق گردش کرنے والی متنازع آڈیوز نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹسز/ججز کی غیر جانبداری، آزادانہ اور دیانت داری سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کے حوالےسے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔چنانچہ عوامی مفاد میں عدلیہ کی ساکھ اور عوام کا اس پر بھروسہ اوراعتماد بحال کرنے کے لیے ان آڈیو لیکس کی صداقت اور درستی کی تحقیقات کرنا لازم ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کی دفعہ 3 کےتحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حکومت پاکستان ان مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کے سربراہ جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر اعوان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس کے اراکین میں شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں درج کمیشن کے ٹی او آرز کے مطابق کمیشن آڈیو لیک اور اس کے عدلیہ کی خود مختاری پر اثرات کا جائزہ لے گا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچ کے متوقع فیصلے سے متعلق ایک صحافی کی ایک وکیل کے ساتھ، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کی خوشدامن کی ایک وکیل کی اہلیہ کے ساتھ اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی اپنے دوست کے ساتھ اپنے والد کے سیاسی کردار سے متعلق گفتگو کی مبینہ آڈیو لیکس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان کمیشن کی معاونت کریں گے اور اسے درکار تمام مواد اور دستاویزات بھی فراہم کریں گے۔

حکومت نے ہدایت کی وفاق میں موجود تمام اتھارٹیز اور صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ کمیشن کے کام میں اس کی معاونت کریں اور اس کی جانب سے کسی ہدایت کی صورت میں اس کی تعمیل کریں۔اس کے علاوہ کمیشن کو وفاقی حکومت کے خرچے پر سیکریٹریٹ قائم کرنے اور سیکریٹری تعینات کرنے کا بھی اختیار ہوگیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیشن 30 روز میں تحقیقات مکمل کرے گا تاہم اگر کمیشن کو تحقیقات کے لیے مزید وقت چاہیے ہوا تو وفاقی حکومت مزید وقت فراہم کرے گی۔

Back to top button