پرویز خٹک اور اسد عمر بھی PTI کو چھوڑنے والے ہیں؟

چئیرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں اہم اور حساس عمارتوں کو لگائی گئی آگ اور مختلف واقعات میں اس وقت پارٹی رہنماوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں کارکنان گرفتار ہیں۔ تاہم کئی رہنما جو اچھے دنوں میں پیش پیش رہے اب عوامی سطح پر بظاہر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔بڑی تعداد میں اہم مرکزی پارٹی رہنما تو متعدد بار عدالتوں کی جانب سے رہائی کے باوجود گرفتار کر لیے گئے ہیں لیکن کئی بعض دیگر منظرعام سے ہی غائب ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی میں بغاوت اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی جاری ہے۔کئی پارٹی رہنما تحریک انصاف سے کنارہ کش ہو چکے ہیں اور متعدد رہنما پارٹی کو چھوڑنے کے حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہیں کہ جلد تحریک انصاف کے کئی مرکزی رہنما بھی پارٹی کو چھوڑنے والے ہیں ان مرکزی رہنماؤں میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کا نام سر فہرست ہے۔ سینئرصحافی جاوید چودھری کا دعوی ہے کہ نہ صرف پرویز خٹک بلکہ اسد عمر بھی پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے تازہ وی لاگ میں دعوی کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے مزید چھ اعلی سطح کے رہنما پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ جاوید چودھری کے مطابق: ’اسد عمر، پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد قیصر اور عمران خان کے دائیں بائیں نظر آنے والے چند دوستوں سمیت چھ رہنما پی ٹی آئی اور عمران خان سے فاصلہ اختیار کر چکے۔‘جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ایوان صدر میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں صدر ان تمام واقعات کی مذمت کرتے نظر آئیں گے۔ عمران اسماعیل بھی تبدیل ہوتے نظر آئیں گے۔ حلیم عادل شیخ کا سافٹ ویئر بھی تیزی سے تبدیل ہوگا۔ پی ٹی آئی میں بڑی دراز پڑ چکی ہے۔‘ان کے مطابق: ’زمان پارک میں میلہ اجڑ چکا ہے۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پرویز خٹک کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہیں۔ اس قیصر کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام اراکین آن بورڈ ہیں اور حال ہی میں ایک آن لائن اجلاس ہوا جس میں پرویز خٹک موجود تھے۔ پارٹی قیادت اور رہنماوں کی پارٹی چھوڑنے سے متعلق غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہے۔اسد قیصر نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو گرفتاری سے بچنے کا کہا ہے۔اس لئے پارٹی رہنما غائب ہیں۔اسد قیصر نے رہنماؤں کے جماعت چھوڑنے سے متعلق کہا کے جو افراد پارٹی چھوڑ رہے ہیں وہ شاید اس لیے کہ ان کے مفادات یہاں حاصل نہ ہو پائے ہوں یا وہ صرف ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے یا پھر حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے آئے ہوں۔

پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے کہا کہ وہ صوبے میں واحد رہنما ہیں جو سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ افراد اس لیے منظرعام پر نہیں کیوں کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا، گرفتاری کا ڈر نہیں لیکن گرفتار اگر نہیں ہوں گے تو پارٹی قیادت کے ساتھ یا آپس میں کو آرڈینیشن بہتر رہے گی۔‘انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے گرفتار کارکنان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ’ہم مسلسل کارکنان اور ان کے خاندانوں سے رابطے میں ہیں اور انصاف لائرز فورم مسلسل قانونی معاونت بھی کر رہا ہے جبکہ گرفتار کارکنان کے خاندان سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں، جن کے مالی مسائل ہیں ان کی مالی مدد بھی کر رہے ہیں۔عاطف خان نے کہا کہ اس وقت وہ رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں جن کے خلاف کیسز ہیں یا فائلز ہیں پھر انہیں گرفتاری کا ڈر ہے اور انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ عمران خان کو سپورٹ کریں گے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے آغاز سے پرویز خٹک، شوکت یوسفزئی اور سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار عوامی سطح پر یا ٹی وی پر زیادہ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔9 مئی کے جلاو گھیراؤ کے بعد تحریک انصاف ابتدا میں ان پرتشدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے لیکن اب بظاہر لاتعلقی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اب عمران خان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مظاہروں کے دوران باہر سے کچھ افراد کو شامل کروا کر حساس عمارتوں کو آگ لگوائی گئی جبکہ پارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے کچھ روز قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا علاقہ تو غازیوں اور شہیدوں کا مسکن ہے جنہوں نے حساس عمارتوں پر حملے کیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب پارٹی کے کئی رہنماؤں اور گرفتار کارکنان کے خاندان کی عمران خان سے شکوے کی ویڈیوز اور بیانات سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر آ چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سینیئر رہنما اور سابق وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا کہ انہیں ’بہت افسوس ہوا کہ ان کی والدہ ہمیشہ عمران خان کے ساتھ کھڑی رہی ہیں لیکن انہوں نے میری والدہ کے اغوا پر ایک لفظ نہیں بولا، تو یقینا میں بہت زیادہ مایوس ہوئی ہوں۔ خاص طور پر وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہوئی تھیں اور اسی کی وجہ سے میری والدہ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، کم سے کم عمران خان کو شیریں مزاری کا نام لے کر مذمت کرنی چاہئے۔پارٹی کے سینیئر رہنما فواد چوہدری کی اہلیہ حبا فواد بھی عمران خان سے ان کے شوہر کو بھول جانے کا شکوہ کرتی نظر آئیں۔

اگرچہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں دراڑیں تو تقریبا دو برس قبل سے پڑتا شروع ہو گئی تھیں لیکن سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی جس وجہ سے آگے بڑھ رہی تھی وہ وجہ ان سے چھن گئی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ تھی۔ آرمی چیف کا نام براہ راست لیا گیا اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کی حکمت عملی بہت خطرناک تھی۔’فوجی تنصیبات پر حملے اور جو چھاونیوں میں ہوا ملک کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس حد تک نہیں گئی۔ اس لیے تحریک انصاف کو پیچھے ہٹنا ہی تھا۔ ان واقعات کے بعد جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ردعمل آیا اس کے بعد پی ٹی آئی کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ان واقعات اور ان میں ملوث افراد سے لاتعلقی کا اظہار کرے۔اگر پی ٹی آئی ایسا نہ کرتی تو اس کے لیے پھر شاید پاکستان کے قانون کے مطابق اس کا ایک سیاسی جماعت کے طور پر وجود ہی ممکن نہیں تھا۔

مطیع اللہ جان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بھی تحریک انصاف کا وجود مشکوک رہے گا جب تک کارکنان کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی اور یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سینیئر قیادت ان واقعات میں ملوث نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اہم رہنما گرفتاری سے بچنے کے لیے منظر عام سے غائب ہیں تو دوسری وجہ یہ ہے کہ چونکہ بہت سے رہنما پولیس کو مطلوب ہیں اس لیے وہ انڈر گراونڈ چلے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب رہنما ہی نہیں ہیں تو کارکنان بھی بکھر گئے ہیں۔مطیع اللہ کے مطابق جب دوسری جماعتوں سے لوگوں کو اکٹھا کر کے پی ٹی آئی بنائی اور وہی مانگے تانگے کے منتخب افراد لیے گئے تو ان افراد نے خوف یا دوسرے موقع کے لیے جماعت چھوڑنا ہی تھی۔ جس طرح یہ جماعت بنائی گئی، اسی طرح ٹوٹ رہی ہے۔

Back to top button