افسر خور سی سی پی او لاہور ایک اور پولیس افسر کھا گیا

سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے پرموشن کے لئے ان فٹ قرار دیے جانے کے باوجود سی سی پی او لاہور تعینات کیے جانے والے عمر شیخ کے ہاتھوں پولیس افسران کی فراغت کا سلسلہ جاری ہے اور اب ایک اور سینئر افسر انکے عتاب کا شکار ہو گیا ہے۔ عمر شیخ سی سی پی او کا چارج سنبھالنے کے بعد سے مسلسل پولیس افسران میں مایوسی پھیلانے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ وہ گالم گلوچ کرنے کے علاوہ کبھی کسی پولیس افسر کو مقدمہ درج کروا کر حوالات میں بند کرا دیتے ہیں، کبھی کسی کا تبادلہ کروا دیتے ہیں اور درجنوں افسران اور پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کروا چکے ہیں۔ عمر شیخ کی کمانڈ میں کام کرنا پولیس افسران کے لیے ایک ‘ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ ماضی میں آئی جی پولیس سمیت 5 سے زائد اعلیٰ افسران کو کھانے والے عمر شیخ نے تازہ واقعہ میں اختلاف رائے پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور عبدالغفار قیصرانی کو نکال باہر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمر شیخ نے 8 دسمبر کے روز رات گئے پی ڈی ایم کے جلسے سے قبل مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کی گرفتاریوں کے معاملے میں منعقدہ میٹنگ کے دوران اچانک عبدالغفار قیصرانی کو یہ کہہ کر وہاں سے چلے جانے کا حکم دے دیا کہ آپ کی خدمات کی اب مجھے ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق سی سی پی او کا حکم اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ ایس ایس پی ایویسٹی گیشن اور دیگر سینئر پولیس افسران ایک لمحہ کے لیے بھی صورتحال کی نوعیت کو نہیں سمجھ سکے، تاہم انہوں نے کہا کہ جب سی سی پی او نے اپنا حکم دہرایا تو سینئر افسر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور عبدالغفار قیصرانی وہاں سے چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق عمر شیخ نے ماضی میں درج مقدمات کی بنیاد پر سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں پر زور دیا تاکہ لاہور میں 13 دسمبر کو اپوزیشن کا جلسہ ناکام بنایا جاسکے۔ جواب میں عبدالغفار قیصرانی نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ اس طرح کی گرفتاریاں آپریشنز ونگ کا کام ہے، انہوں نے سی سی پی او کو مشورہ دیا کہ وہ تفتیشی ونگ کو اپنا اصل کام کرنے دیں۔ لیک اس اختلاف رائے نے عمر شیخ کو مشتعل کردیا اور انہوں نے قیصرانی کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دے دیا۔ عبدالغفار قیصرانی کو لاہور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے عہدے پر تعینات ہونے کے تقریبا دو ماہ بعد ہی باہر کا راستہ دکھایا دیا گیا ہے، ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ وہ سی سی پی او کا ہی انتخاب تھے۔
اس سے صرف ایک ہفتہ قبل ہی لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کا سی سی پی او سے اختلاف کے بعد تبادلہ کردیا گیا تھا۔اسی طرح انہوں نے 15 اکتوبر کو ہونے والی ایک میٹنگ میں ان سے گرما گرم بحث کے بعد کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عاصم افتخار کی خدمات کو واپس کردیا تھا۔ خیال رہے کہ عمر شیخ کو لاہور کا سٹی کیپیٹل سٹی پولیس افسر تعینات کرنے پر پنجاب پولیس کے 50 سے زائد افسران نے تحریری طور پر احتجاج کیا تھا اور ان کے نیچے کام کرنے سے انکار کیا تھا۔
اس کے علاوہ موٹروے پر گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر بھی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن تاحال بزدار اور عمران خان عمر شیخ کے ساتھ ہیں کیونکہ موصوف نے چارج سنبھالتے ہی وزیر اعظم کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوا دیا تھا۔
