جعلی پولیس مقابلوں کا ماہر راؤ انوار مشکلات میں گھر گیا


ضلع ملیر کراچی کے سابق سینئر سپرنٹینڈنٹ آف پولیس اور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے نام سے معروف راؤ انوار احمد خان ایک بار پھر غلط وجہ سے خبروں میں ہیں اور انکے لیے عالمی سطح پر مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ امریکا کے بعد اب برطانیہ نے بھی انوار پر پابندیاں عائد کردیں ہیں۔برطانیہ نے پاکستان میں مبینہ طور پر 190 سے زائد جھوٹے پولیس مقابلوں میں 400 سے زائد لوگوں کو قتل کرنے پر راؤ انوار پر پابندیاں عائد کی ہیں،
اس سے پہلے گزشتہ سال 11 دسمبر کو امریکا نے پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کےلیے بدنام سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر پابندیاں عائد کیں تھیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے جاری بیان کے مطابق راؤ انوار، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ملیر کے طور پر متعدد جعلی پولیس انکاؤنٹرز کے ذمہ دار تھے جن میں پولیس کے ہاتھوں کئی افراد قتل ہوئے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ راؤ انوار 200 سے زائد پولیس انکاؤنٹرز میں ملوث رہے جن میں 400 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں نقیب اللہ محسود کا قتل بھی شامل ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق راؤ انوار نے پولیس اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ٹھگوں کے نیٹ ورک کی مدد کی جو مبینہ طور پر بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، منشیات کی فروخت اور قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوار پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔
یاد رہے کہ 13 جنوری 2018 کو کراچی میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کا معاملہ سامنے آیا، جنہیں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کا معامہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جس کے بعد راؤ انوار کے خلاف ایک مہم کا آغاز ہوا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔ اس وقت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔ تاہم نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا، سوشل میڈیا پر اس مہم کے سامنے آنے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا جب کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں تھی جن میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو عدالت میں پیش ہونے کا موقع بھی دیا گیا تھا، تاہم 21 مارچ 2018 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے، جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
اس کے بعد یہ معاملہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا تھا، جہاں مختلف سماعتوں میں راؤ انوار کو پیش کیا گیا تھا لیکن ان پیشیوں کے دوران راؤ انوار کو کبھی ہتھکڑی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی انہیں خصوصی بیلٹ پہنائی گئی تھی۔ عدالت میں زیرِ سماعت اس معاملے میں راؤ انوار کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے منظور کرلیا گیا تھا، تاہم ان کا نام ابھی بھی ای سی ایل میں شامل ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔
یاد رہے کہ جنوری 2019 میں نقیب اللہ محسود سمیت 444 افراد کے مبینہ طور پر قتل کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنے والے راؤ انوار پولیس سروسز سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ پچھلے برس نقیب اللہ محسود کے بزرگ والد بھی اپنے بیٹے کے قاتل کا انجام دیکھنے کی حسرت لیے اس دنیا سے رخصت ہو گے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button