عثمان بزدار نے عمران خان اور چودھریوں کو کیسے ماموں بنایا؟


سادگی کا روپ دھارے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اتنے بھی سادہ نہیں ہیں جتنے وہ بنتے ہیں یا نظر آتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جو شخص وزیراعظم عمران خان اور گجرات کے چوہدریوں کو بھی ماموں بنا کے اور کئی برس تک بنائے رکھے وہ سادہ نہیں ہو سکتا۔ عثمان بزدار کی جانب سے کپتان اور چوہدریوں کو ماموں بنانے کا انکشاف حالیہ دنوں وزیر اعظم عمران خان اور گجرات کے چوہدریوں کے مابین لاہور میں ہونے والی ایک تفصیلی ملاقات میں ہوا جسکی تفصیل سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے اپنی تازہ تحریر میں دی ہے۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ تصادم ہو تو پنجابی اسے اِٹ کھڑکّا کہتے ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن اور حکومت کا اِٹ کھڑکّا جاری ہے تو دوسری طرف اتحادیوں اور تحریک انصاف میں بھی اِٹ کھڑکے کا امکان ختم نہیں ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان پچھلے دنوں لاہور میں چودھری شجاعت حسین کی عیادت کے لئے آئے، ملاقات کا ایک مقصد ق لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان اِٹ کھڑکے کو ختم کرناتھا، چودھری پرویز الٰہی اور عمران خان کی ملاقات بڑی مفید رہی ۔ وفاقی حکومت اور ق لیگ کے درمیان بڑی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا، مگر اس ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار اور چودھری پرویز الٰہی میں اِٹ کھڑکے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد سپیکر پرویز الہی، عثمان بزدار پر شدید ناراض ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم بزدار سے جو ملاقاتیں کرتے رہے اور جو جو باتیں کرتے رہے، وہ انہیں مرضی کا رنگ دے کر وزیراعظم کو سناتے رہے تاکہ ان کا الو سیدھا ہوتا ہے۔ پرویز الہی کے بقول عثمان بزدار نے وزیراعظم کو انکی باتیں الٹ کر کے بتایئں جس کی وجہ سے ق لیگ اور وزیراعظم خان کے درمیان غلط فہمیاں بڑھیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بڑوں کی اس ملاقات میں کھل کر باتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ چودھریوں کا معاملہ خراب کرنے میں وزیر اعلیٰ بزدار کا بڑا ہاتھ ہے حالانکہ چودھری تو بزدار کی اعلانیہ حمایت کرتے رہے ہیں اور یہاں تک کہتے رہے ہیں کہ جب تک بزدار وزیر اعلی ہے، ٹھیک ہے لیکن اگر بزدار کو ہٹایا گیا تو ہم یعنی چودھری خود وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان کی وزیر اعلیٰ بزدار سے اتفاقی طور پر گورنر ہائوس لاہور میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے انکے اور گجرات کے چودھریوں کے درمیان پیدا ہونے والی نئی غلط فہمی کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں بزدار نے مسکر ا کر کہا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ چودھری پرویز الٰہی کا میرے مرحوم والد سے تعلق تھا، مجھ سے بھی ان کا خاص تعلق ہے۔ میں جلد ہی مل کر غلط فہمی دور کر دوں گا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق چودھری کافی عرصے سے پریشان تھے کہ وہ تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں مگر وزیراعظم خان ہر ملنے والے سے گلہ کرتے تھے کہ بے چارا بزدار صبح سے لے کر رات تک محنت کرتا ہے مگر تین صوبائی وزیر، گورنر پنجاب اور سپیکر چودھری پرویز الہی، بے چارے بزدار کو چلنے نہیں دے رہے۔ چودھری پریشان تھے کہ ان کے بارے میں یہ کنفیوژن کون پیدا کر رہا ہے؟کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اور چودھری برادران میں ملاقات کے دوران یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ عثمان بزدار چودھریوں کی حمایت سے مطمئن نہیں اور وہ اس حوالے سے عمران خان کو مسلسل آگاہ بھی کرتے رہے ہیں۔ اس انفارمیشن پر گجرات کے چودھری سٹپٹا اٹھے ہیں کہ ان کی بے تحاشا اور اندھی حمایت کے باوجود بزدار نے ان کی عمران خان سے جھوٹی شکایتیں کیوں کیں؟
یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اب چودھری عمران خان سے ملاقات کے بعد مطمئن ہیں اور ان کے خلاف نیب میں جو کارروائیاں ہورہی تھیں، ان کو رکوانے کے لئے بھی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ البتہ یی بھی دیکھنا ہوگا کہ بزدار اور چودھریوں کے درمیان نئے اِٹ کھڑکے کا انجام کیا ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button