افغانستان طالبان نے دوبارہ منشیات کی سرپرستی شروع کردی


افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد منشیات کا دھندا دوبارہ سے عروج پر پہنچ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے اس دھندے کی سرپرستی کرنا ہے۔ منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد فخریہ کہتے ہیں کہ جب سے طالبان نے ملک آزاد کیا، ہم بھی آزاد ہو گئے ہیں لہذا اب کھل کر کاروبار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان کے اکاؤنٹس فریز کرنے کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے اب افغان معیشت منشیات کی تجارت پر انحصار کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان کا نام منشیات کے ساتھ بہت عرصے سے جڑا ہے۔ طالبان کے دور میں ایک بار پھر یہ گھناونا کاروبار عروج پر ہے جس کے منفی اثرات پاک افغان بارڈر پر موجود پاکستانی علاقوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک پوست کی کاشت اور ہیروئن کی برآمد کے لیے اہم سمجھے جانے والے ملک میں اب ایک نئے اور خطرناک نشے کے دھندے کا اضافہ ہو چکا ہے جس کا نام کرسٹل میتھ ہے۔ میتھ کی تجارت کرنے والے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان کے صرف ایک ضلعے میں تقریباً 500 عارضی فیکٹریاں روزانہ کی بنیاد پر 3000 کلوگرام کرسٹل میتھ تیار کرتی ہیں۔
منشیات کے اس نئے دھندے کی پیچھے حال ہی میں ہونے والی وہ دریافت ہے جس کے مطابق ایفیڈرا نامی ایک عام اگنے والی بوٹی ہے جسے مقامی زبان میں اومان کہا جاتا ہے، یہ بوٹی یتھ کے بنیادی جزو ایفیڈرین کو بنانے کے لیے کام آ سکتی ہے۔۔ماضی میں طالبان کی جانب سے ایفیڈرا اگانے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے اس کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس فرمان کی زیادہ تشہیر نہیں ہوئی۔ ایفیڈرا کے پودے کے ذریعے کرسٹل میتھ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی تیار کی جاتی ہے لیکن اس پیمانے پر نہیں جس پر افغانستان میں پیدا کی جاتی ہے۔ فی الحال طالبان کی جانب سے میتھ بنانے والی فیکٹریوں کو کھلم کھلا کام کرنے سے نہیں روکا جا رہا۔ اس دھندے میں شامل ایک شخص نے انکشاف کیا کہ ایفیڈرا پر پابندی سے کاروبار مذید چمک اٹھا ہے کیوں کہ میتھ کی قیمتیں راتوں رات دگنی ہو چکی ہیں جب کہ ان کے پاس اس بوٹی سے بھرے کئی گودام موجود ہیں جنہیں وہ مستقبل میں استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا ماننا ہے کہ اس وقت افغانستان میں میتھ جس رفتار سے تیار کی جا رہی ہے، اس سے جلد ہی ہیروئن کی تجارت بہت پیچھے رہ جائے گی اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں بھی اس کی بہتات ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت سے حاصل شدہ افیون دنیا بھر کی رسد کا تقریباً 80 فیصد سمجھا جاتا ہے اور آج کل اس کا کاروبار بھی خوب چل رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ملک کی معیشت دگرگوں حالت میں ہے جس کی ایک بڑی وجہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں اور اداروں کی جانب سے فنڈز کی فراہمی روکنا ہے۔ ایسے میں یہاں کے کسانوں کے لیے پوست کی کاشت ہی ایک واحد حل ہے۔ خشک سالی اور پانی کی کمی نے بھی پوست کی کاشت کو مجبوری بنا دیا ہے۔ اس وقت یہ کاروبار اتنا چمک رہا ہے کہ وہی منشیات ڈیلر جو پہلے خفیہ طور پر کرپٹ افغان اہلکاروں کو رشوت دے کر مال فروخت کرتے تھے اب کھلے عام بازاروں میں سٹال لگائے موجود نظر آتے ہیں۔
ایک ڈیلر نے مسکراتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جب سے طالبان نے ملک آزاد کیا ہے، ھم بھی آزاد ہو گئے ہیں۔’ اس دعوے کے برعکس طالبان اب بھی اس معاملے میں محتاط ہیں۔ ھلمند صوبے میں طالبان نے بی بی سی کو افیون کے بڑے بازار میں ریکارڈنگ سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ ممنوعہ علاقہ ہے۔ جب ھم نے سوال کیا کہ آیا میڈیا کوریج پر پابندی کی وجہ وہ الزامات تو نہیں جن کے مطابق اس کاروبار سے چند طالبان خود منافع کما رہے ہیں تو طالبان کے مقامی ثقافتی کمیشن کے سربراہ حافظ راشد نے ناصرف انٹرویو ہی ختم کرنے کا کہا بلکہ دھمکی دی کہ اگر فوٹیج ان کے سامنے ضائع نہیں کی گئی تو کیمرے کو توڑ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ طالبان کی پہلے حکومت کے دوران انھوں نے افیوں کی کاشت پر آخر کار پابندی لگا دی تھی۔ لیکن امریکی افواج سے شکست کے بعد طالبان نے افیون کی کاشت پر ٹیکس لگا کر اسے آمدن کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ لیکن کھلے عام وہ اس حقیقت کو اب بھی تسلیم نہیں کرتے۔ منشیات کے دھندے سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ اگر طالبان چاہیں تو وہ دوبارہ کامیابی سے پابندی لگا سکتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔ افغانستان کے کئی علاقوں کی معیشت اب منشیات کے کاروبار سے جڑ چکی ہے۔ ھلمند کے قریب گندم ریز نامی چھوٹے دیہاتوں کا ایک سلسلہ ہے جہاں ایک کچی سڑک کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ اس دور افتادہ مقام کے بارے میں حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت یہ عالمی ہیروئن منڈی کا مرکز ہے۔ ناصرف یہاں کھلے عام بازاروں میں افیون کی فروخت ہوتی ہے بلکہ یہاں ایسی لا تعددا فیکٹریاں موجود ہیں جو افیون سے ہیروئن بناتی ہیں۔ ہر فیکٹری 60-70 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہاں سے ہیروئن پاکستان اور ایران پہنچائی جاتی ہے جہاں سے یورپ سمیت دنیا کے دیگر علاقوں تک سمگلنگ کے ذریعے رسائی دی جاتی ہے۔ ایک مقامی شخص کے مطابق ایک کلوگرام ایکسپورٹ کوالٹی ہیروئن تقریباً 210000 پاکستانی روپے میں بکتی ہے۔ برطانیہ میں ماضی میں منشیات کے کاروبار سے جڑے ایک سابق سمگلر کے مطابق یہی ایک کلوگرام ہیروئن جب تک برطانیہ پہنچتی ہے اس کی قیمت 66 ہزار پاونڈ تک جا پہنچتی ہے۔ زیادہ منافع بین الاقوامی ٹرانسپورٹر کماتے ہیں لیکن طالبان کو ہیروئن تیار کرنے والوں سے ٹیکس لے کر فائدہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 میں طالبان کو منشیات کے کاروبار سے 35 ملین ڈالر ٹیکس وصول ہوئے۔ ‘پہلی بار جب طالبان برسر اقتدار آئے تھے تو ان کو منشیات پر پابندی لگانے میں چھ سال لگے، اس وقت صرف افیون کا معاملہ تھا۔’ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان کی معاشی صورت حال دیکھتے ہوئے کسی قسم کی پابندی کو وہ لوگ ایک سزا کے طور پر دیکھینں گے جنھوں نے ان کی حمایت کی تھی۔

Back to top button