افغان حکومت اور طالبان کا عیدالفطر پر 3 روزہ جنگ بندی پر اتفاق
طالبان اور افغان حکومت نے رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کے موقع پر 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان طالبان رہنما کے عیدالفطر کے پیغام کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امن معاہدے پر قائم ہیں۔جنگ بندی کے حوالے سے جاری حکم نامے میں طالبان جنگجوؤں کو لڑائی نہ کرنے بلکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اخوت قائم نہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔مذکورہ ہدایات کا مقصد 2018 میں کی گئی جنگ بندی اور عید کی تقریبات کے دوران زیر گردش تصویروں سے گریز تھا جس میں طالبان جنگجوؤں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو آئس کریم شیئر کرتے دیکھا گیا تھا۔
ہدایات میں طالبان کو کہا گیا کہ کسی بھی جگہ پر دشمن پر حملہ نہ کریں لیکن اگر دشمن کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی حکم نامے میں طالبان کو دشمن کے علاقے میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی گئی۔بعدازاں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اشرف غنی نے کہا کہ بطور کمانڈر ان چیف میں نے اے این ڈی ایس ایف کو 3 روزہ جنگ بندی پر عمل کرنے اور صرف حملےکی صورت میں دفاع کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات میری تقریر میں دی جائیں گی۔
افغانستان میں موجود امریکی فوج نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہم تمام فریقین کی ملٹریز سے تشدد میں کمی کا مطالبہ دہراتے ہیں تاکہ امن مذاکرات شروع کیے جاسکیں۔اس سے قبل 2018 میں افغانستان میں حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان نے 17 برس میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کے پیش نظر تین دن جنگ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔عسکری گروہ کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان غیر ملکی فوج کے لیے نہیں ہے،کسی بھی حملے کی صورت میں اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد نے تمام فریقین سے تشدد میں کمی لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔
18 مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہیئیں۔
تاہم اسی شب طالبان نے قندوز میں حملہ کیا، اس حوالے سے افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
