افغان حکومت تسلیم کرنے یا نہ کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ نہیں،

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ک بیان مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے جائزہ کے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انتھونی بلنکن کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان تنازع کے سیاسی حل کا خواہاں ہے، افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں اور پاکستان کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں سہولت کاری کی، پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات شراکت داری پر مبنی ہیں۔

قبل ازیں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ یہ طے کرنے کے لیے کہ واشنگٹن، افغانستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، امریکا آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔

انہوں نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ کو بتایاتھا کہ پاکستان کے کثیر مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے ساتھ متصادم ہیں۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا تھا کہ ’یہ وہ ہے جو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل اپنی شرط لگانے میں شامل ہے، یہ وہ ہے جو طالبان کے ارکان کو پناہ دیتا ہے، یہ وہ ہے جو انسداد دہشت گردی پر ہمارے ساتھ تعاون کے مختلف نکات میں شامل ہے‘۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ خود بھارتی میڈیا نے اٹھایا ہے لیکن پاکستان کو اس معاملے پر شدید تشویش ہے، اس معاملے کو پاکستان متعلقہ فورمز پر اٹھائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے، اسی حوالے سے پاکستان نے 12 ستمبر کو عالمی برادری کے لیے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ڈوزیئر جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر سوچ بچار کرنا ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے، بھارت جعلی مقابلوں اور جھوٹے فلیگ آپریشنز سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے تاجکستان کے شہر دوشنبے پہنچ گئے ہیں، وزیر اعظم کا یہ وسط ایشیائی ممالک کا تیسرا دورہ ہے اور اعلی وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے ٹیلیفونک رابطے میں افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات چیت کی۔

Back to top button